بیوروکریسی و سیاست کاری میں مطلوب توازن!
نعیم مسعود
کسی کی تعریف کی خاطر جب کمر ہی کَس لی جائے یا کسی کی مخالفت میں اندھا دھند حملوں کو بروئے کار لائیں تو سمجھ لیجئے کہ پھر آپ مکالمہ کا لطف اٹھانے یا سیکھنے کی سعادتوں سے بہت دور نکل گئے۔ ہو سکتا ہے کمر کسنے والے کو چاہنے والے بھی بہت میسر ہو جائیں، کریڈیبلٹی بھی مل جائے لیکن آپ بطور پولیٹیکل سائنٹسٹ، سماجی انجنئیر یا سوِل سرونٹ سوسائٹی کو وہ سب نہیں دے سکتے جو فطرتاً اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ نئی پود سابقین کی آواز پر کان دھرتی ہے، اور کچھ کی جیب میں اپنی کسوٹی ہوتی ہے۔ اسی لئے صاحبِ نظر اور صائب الرائے جب نئی نسل سے بات کرے تو نزاکت اور حکمت کو ملحوظ خاطر رکھے کہ اثر انگیزی اور عمل انگیزی پیش نظر رہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی نمائندے قانون ساز بننے کے بعد جب جب سیکھنے اور سمجھنے سے دور ہوئے اور اپنا منشور اور قلم بیوروکریٹ کو پکڑا دیا تب تب پھر بیورو کریٹ پر منحصر ہوا کہ وہ نوکِ قلم سے بناو¿ تراشے یا نوکِ خنجر بنا کر مخالف برادریوں اور دھڑوں کا قلع قمع کر کے اپنے بڑوں کی جنم جنم کی بھوک ختم کرے اور اقربا پروری کی آرٹ کو جنم دے۔ بہرحال کسی کی ناکامی پر تالی بجانی ہو یا کسی کیلئے تالی بجانی ہو، دونوں صورتوں میں تالی دونوں ہاتھوں ہی سے بجتی ہے! درویش کے ایک سابق وزیر مملکت دوست کہا کرتے تھے کہ ایک ڈپٹی کمشنر تین چار ایم این ایز پر بھاری ہوتا ہے ، ہمارا جواب ہوتا، یہ آپ اور آپ کی قیادت کی عاقبت نااندیشیوں کی سزا ہے اور بیوروکریٹس کی ہنرمندی! جب وزرائے اعظم کو ایئرپورٹ پر بائے و ویلکم کہنے والوں کو فارن سروسز کا انعام میرٹ دیکھے بغیر ملتا رہے گا، اور وزیراعظم اور وزرائےاعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹریوں کو اپنا ہی نہیں اپنے مکرم رشتہ داروں کا مستقبل سنوارنے کیلئے کسی ضوابط کے تکلف کے بجائے روابط کا پھل میسر رہے گا تو پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ چ±ھٹ جائے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی؟ اب جب حاکمین حرص و ہوس کے پیکجز پر مشتمل بیوروکریٹس کو نوازنے کے درپے ہو اور قابل فیلڈ اور آو¿ٹ ڈور ماہرین افسران کو اور ایس ڈی یا انسٹرکٹر ، کمانڈنٹ، ڈی جی یا پرنسپل کے طور پر "اِن ڈور گیمز پر لگا دیں گے اور لب یہ رکھیں کہ ” خدا کرے میری ارض پاک پر اترے/وہ فصلِ گل جسے اندیشہئ زوال نہ ہو” تو فقیر اسے قول و فعل کا مجرمانہ تضاد نہ کہے تو کیا کہے؟ ” ماضی بعید” میں ایک من چاہا وی سی ایک چیف سیکرٹری نے اپنے ضلع کی یونیورسٹی میں تعینات کرالیا ، اب وی سی ٹھہرا ایک کمزور ہاضمہ پروفیسر سو لوگوں کو خود کہتا پِھرے کہ مجھے چوہدریوں کا شہر چیف سیکرٹری کے سبب چھوڑنا پڑ رہا ہے۔ بتائیے! پھر اس صوبے کی وی سی سرچ کمیٹی اور وزیر اعلٰی کی "میرٹ” پر حتمی منظوری کا کیا ہوا؟ ذہن نشین رہے کہ بیوروکریسی میں بھی مختلف بیانیوں و مخالف بیانیوں کی داغ بیل پاکستان بننے کے ساتھ ہی ورثے میں ملی۔ ایک تو انگریز کے تیار کردہ آفیسرز کو پہلے ہی روز محصول اکٹھا کرنے اور لوگوں کو کنٹرول کرنے کے ہنر کا چسکا لگا دیا جاتا ، اوپر سے ، ‘چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی’ سیاستدان و افسران نے یونینسٹ فلیوَر، لسانی سودائی، فرقہ پسند، پرو کانگرس اور پرو مسلم لیگی ثقافتوں کو اپنے سنگ سنگ پروان چڑھایا، گویا غم خواری و اصلاح کاری کیلئے سیاستدانوں کو "ہم بیانیہ” بیوروکریٹس بھی ورثے میں ملے، اپنی اداو¿ں اور اپنے ذوق کی ڈویلپمنٹ ہوتی رہی۔ یہی وجہ تھی کہ جو بیوروکریٹ سیاسی مداخلتوں کے دلدادہ ہوں گے کچھ قائد ریاست سے مخلص ہوں گے اور کچھ لیاقت علی فکر سے۔ وقت کے ساتھ کوئی ملک غلام احمد اور سکندر مرزا ، اور چوہدری محمد علی سا ثمربار ہو جائے گا تو کوئی قدرت اللہ شہاب اور روئیداد خان ہو کر جنرل ایوب خان سے جنرل ضیاالحق کے گلزار کی آبیاری میں دن رات ایک کر دے گا۔ کوئی عشرت حسین اور شمشاد احمد خان بھٹو مخالفوں کا بازو رہے، اور کوئی راو¿ رشید اور خالد کھرل ہو کر بھٹو کی زلف کا اسیر۔ بہرحال رو¿ف چوہدری اور اختر حسنین جیسے بیوروکریٹ بھی تو رہے جو روئیداد خان کے بالکل برعکس تھے۔ رو¿ف چوہدری, انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کی ایک نشست میں کہنے لگے ” اپنے پروفیشنل کیرئیر میں کئی بار سینئرز اور اعلیٰ حکام مجھے میرٹ پر سمجھوتہ کے لئے کہا، میں نے انکار کر دیا اور میرٹ پر سمجھوتہ نہیں کیا۔۔۔ رشتہ دار پروری ہمارے اداروں کو تباہ کر رہی ہے، ملک کے بہترین مفاد میں عوام اور حکام سے ایسی سرگرمیوں کو ترک کرنا ضروری ہے۔”آفتاب غلام نبی قاضی کی تاریخ یہ رہی کہ وہ غیر جانبداری کا استعارہ رہے۔ بھٹو دورِ حکومت میں انہوں نے سیکرٹری خزانہ اور معاشی مشیر کے طور پر معاشی انتظامی امور دیکھتے رہے، نیشنلائزیشن کی پالیسی پر انتظامی بنیادوں پر کام کیا اور ذاتی مخالفت کو قریب تک نہ پھٹکنے دیا۔ اس کے برعکس روئیداد خان کو کبھی فرصت نہ ملی کہ وہ آمروں سے ذرا دور رہیں، وہ آمریت کا کارآمد آلہ تھے، ایوب خان، یحییٰ خان، ضیائ الحق اور غلام اسحاق خان کی خدمات کیلئے ہمیشہ پیش پیش۔ وہ جمہوریت پسند نہیں تھے بس اسٹیبلشمنٹ کے تسلسل ہی پر یقین رکھتے اور اس کیلئے باقاعدہ کام کرتے۔ بہرحال ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ کورونا میں پاک بیوروکریسی عوامی تحفظ میں قابل تعریف کوشاں تھیں، اور یہ بھی کہ سلمان فاروقی جیسے افسران کو بھٹو، ضیا، نواز اور زرداری نے پابند سلاسل کیا تو کبھی کام لیا۔ جب محتسبِ اعلٰی تھے، تب راقم کو فاروقی صاحب کہنے لگے اگر زرداری پہلے دور میں مجھے ایوان صدر میں ایک کونے میں بٹھائے رکھتے تو وہ پالیسیاں دیتا جو انہیں عوامی بنا دیتیں۔ دراصل ایسے ہوتے ہیں عوام دوست! المختصر، ہائر ایجوکیشن ایڈووکیسی اینڈ ڈویلپمنٹ (HEAD) کی بسلسلہ یوم آزادی ایک نشست میں پروفیسرز و ڈینز کی موجودگی میں وجاہت مسعود (دانشور) اور شفقت اللہ مشتاق (بیوروکریٹ) کا "بیوروکریسی تاریخ کے آئینے میں اور موجودہ چیلنجز” پر سہ جہتی مکالمہ میں بھی کھلا یہ راز کہ ایک تو "آزادی منزل نہیں سفر ہوتی ہے” دوسرا، بیوروکریسی میں اصلاحات، سیاستدانوں میں تفہیمات اور عوام میں آگہی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اور تیسرا
توصیف اور تنقید میں توازن فرض ہے جاناں!






