بسمل صابری، ایک عہد کا اختتام
راوغلام مصطفی
ادب کسی قوم کی روح کا آئینہ ہوتا ہے۔اور شاعر و ادیب وہ چراغ ہیں جو اپنے لفظوں سے معاشرے کی فکری اور تہذیبی راہوں کو روشن کرتے ہیں۔ کچھ شخصیات اپنی زندگی میں ہی ایک عہد بن جاتی ہیں۔اور ان کی جدائی محض ایک فرد کا انتقال نہیں بلکہ ایک ادبی باب کے اختتام کا احساس دلاتی ہے۔ ایسی ہی ایک باوقار اور باصلاحیت ادبی شخصیت معروف شاعرہ، سابق پروفیسر گورنمنٹ کالج برائے خواتین ساہیوال بسمل صابری تھیں۔ جن کے انتقال کی خبر نے ادبی حلقوں کو سوگوار کر دیا۔ وہ ڈی پی او حافظ آباد رانا فواد احمد کی والدہ تھیں۔ ان کی نماز جنازہ ساہیوال کی طارق بن زیاد کالونی میں ادا کی گئی۔جہاں اہلِ علم، ادیبوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔بسمل صابری صرف ایک شاعرہ نہیں تھیں۔بلکہ اردو زبان و ادب کی ایک ایسی معتبر آواز تھیں۔ جس نے اپنے قلم سے محبت، انسان دوستی، اخلاقی اقدار، نسائی شعور اور مشرقی تہذیب کے رنگوں کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا۔ ان کی شاعری میں احساس کی لطافت بھی تھی،فکر کی گہرائی بھی اور زبان کی شائستگی بھی۔ وہ ان اہلِ قلم میں شامل تھیں جنہوں نے ادب کو شہرت کے لیے نہیں بلکہ خدمت کے جذبے سے اپنایا۔بطور استاد بھی ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ گورنمنٹ کالج برائے خواتین ساہیوال میں انہوں نے برسوں تک اردو ادب کی تدریس کی اور ہزاروں طالبات کے دلوں میں زبان و ادب سے محبت پیدا کی۔ ان کے شاگرد آج مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اور اپنے استاد کی علمی و اخلاقی تربیت کو فخر سے یاد کرتے ہیں۔ وہ کتابی علم کے ساتھ ساتھ کردار سازی پر بھی یقین رکھتی تھیں۔ اسی لیے ان کے شاگرد انہیں صرف ایک پروفیسر نہیں بلکہ ایک شفیق معلمہ کے طور پر یاد کرتے ہیں۔بسمل صابری کی شاعری میں عورت کے احساسات کو محض جذباتی انداز میں نہیں بلکہ وقار اور شعور کے ساتھ بیان کیا گیا۔انہوں نے عورت کو معاشرے کا فعال کردار قرار دیا اور اس کی عزت،خودداری اور فکری آزادی کو اپنے اشعار کا موضوع بنایا۔ان کے ہاں محبت بھی ہے، ہجر بھی، امید بھی اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کا ادراک بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام پاکستان ہی نہیں بلکہ بیرونِ ملک اردو ادب سے وابستہ حلقوں میں بھی پسند کیا جاتا رہا۔ادبی محفلوں میں ان کی موجودگی ہمیشہ وقار، شائستگی اور متانت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ وہ نوجوان شاعروں اور لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتیں۔ان کی اصلاح کرتیں اور انہیں ادب کی اصل روح سے روشناس کراتیں۔ان کا ماننا تھا کہ اچھا ادب معاشرے میں برداشت، محبت اور شعور کو فروغ دیتا ہے۔ جبکہ سطحی تحریریں وقتی شہرت تو حاصل کر سکتی ہیں مگر تاریخ میں جگہ نہیں بنا سکتیں۔ان کی شخصیت کا ایک روشن پہلو ان کی عاجزی اور انکساری بھی تھی۔ بین الاقوامی شہرت کے باوجود ان میں غرور کا شائبہ تک نہ تھا۔ وہ ہر شخص سے خندہ پیشانی سے ملتیں اور علمی گفتگو کو ترجیح دیتیں۔ یہی اوصاف انہیں اپنے ہم عصروں میں ممتاز بناتے تھے۔ ان کے چاہنے والے صرف ان کی شاعری کے مداح نہیں تھے۔ بلکہ ان کے اعلیٰ اخلاق کے بھی معترف تھے۔ساہیوال کی ادبی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، بسمل صابری کا نام عزت و احترام سے لیا جائے گا۔ انہوں نے اس شہر کی ادبی شناخت کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی تخلیقات آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا سرمایہ ہیں اور ان کا فکری ورثہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر اہلِ علم کی خدمات کا بھرپور اعتراف ان کے انتقال کے بعد کیا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ادبی شخصیات کی زندگی ہی میں ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ ان کی کتابوں کو فروغ دیں، ان پر تحقیقی کام کرائیں اور نئی نسل کو ان کی خدمات سے روشناس کرائیں۔ یہی کسی ادیب کے لیے حقیقی خراجِ تحسین ہوتا ہے۔بسمل صابری کا انتقال ان کے اہلِ خانہ خصوصاً ڈی پی او حافظ آباد رانا فواد احمد کے لیے یقیناً ایک بڑا صدمہ ہے۔ ماں صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ دعا، محبت اور سایہ رحمت کا نام ہے۔ ایک ایسی ماں جس نے خود علم و ادب کی خدمت کی ہو، اس کی جدائی کا غم اور بھی گہرا ہوتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ اہلِ قلم جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ مگر ان کے لفظ کبھی نہیں مرتے۔ بسمل صابری بھی آج ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی شاعری، ان کی تدریس، ان کی تربیت اور ان کی ادبی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ جب بھی اردو ادب کی خوشبو بکھرے گی، اس میں بسمل صابری کے لفظوں کی مہک ضرور شامل ہوگی۔ یہی ایک سچے ادیب کی اصل کامیابی اور دائمی زندگی ہے۔





