#کالم

اسلام اور اے آئی کا تعلق

abu baker

ابوبکر صدیق

1990ءمیں جب میرا کمپیوٹر سے پہلا تعارف ہوا تو یہ محض ایک مشین تھی، لیکن میرے لیے علم، جستجو اور مستقبل کی ایک نئی دنیا کا دروازہ بھی تھی۔ وہ DOS (Disk Operating System) کا زمانہ تھا۔ سیاہ اسکرین پر سفید حروف کے ذریعے کمانڈز لکھ کر کام کیا جاتا تھا۔ اس دور میں کمپیوٹر سیکھنا صرف ٹیکنالوجی سے واقفیت نہیں بلکہ صبر، محنت اور مسلسل مشق کا نام تھا۔آج جب میں ماضی پر نظر ڈالتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ وہی کمپیوٹر، جو کبھی صرف احکامات کا محتاج تھا، اب مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی صورت میں انسان کی زبان سمجھتا، سوالوں کے جواب دیتا، تحقیق میں مدد کرتا، تصاویر تخلیق کرتا اور چند لمحوں میں ایسے کام انجام دیتا ہے جن کے لیے کبھی کئی دن درکار ہوتے تھے۔یہ تبدیلی ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے: کیا اسلام اور مصنوعی ذہانت ایک دوسرے سے متصادم ہیں؟میرا جواب نفی میں ہے۔ اسلام علم، حکمت، تحقیق اور تدبر کا دین ہے۔ قرآن کریم کی پہلی وحی اس حقیقت کا اعلان ہے کہ ایک مہذب معاشرے کی بنیاد علم پر استوار ہوتی ہے۔ قرآن بارہا انسان کو کائنات میں غور و فکر، مشاہدہ اور تحقیق کی دعوت دیتا ہے۔ یہی وہ فکر ہے جس نے مسلمانوں کو تاریخ میں سائنس، طب، ریاضی، فلکیات اور دیگر علوم میں نمایاں مقام عطا کیا۔مصنوعی ذہانت بھی دراصل انسانی عقل کی ایک تخلیق ہے۔ یہ نہ نیکی ہے اور نہ برائی، بلکہ ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ اگر اس سے تعلیم کو بہتر بنایا جائے، بیماریوں کی تشخیص کی جائے، زرعی پیداوار میں اضافہ ہو، انصاف کی فراہمی آسان بنے اور انسانیت کی خدمت کی جائے تو یہ یقیناً ایک نعمت ہے۔ لیکن اگر یہی ٹیکنالوجی جھوٹ، فریب، نفرت، کردار کشی، جعل سازی یا ظلم کے لیے استعمال ہو تو اس کے نتائج بھی اتنے ہی خطرناک ہوں گے۔ اسلام ہمیشہ علم کے ساتھ اخلاق کو بھی لازم قرار دیتا ہے۔یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ مصنوعی ذہانت جتنی بھی ترقی کر لے، وہ انسان کے ضمیر، نیت، رحم دلی، عدل اور جواب دہی کی جگہ نہیں لے سکتی۔ مشین معلومات دے سکتی ہے، مگر خیر و شر کا فیصلہ انسان ہی کرتا ہے، اور اسی سے اس کا حساب بھی لیا جائے گا۔ اسی لیے AI کی ترقی کے ساتھ اخلاقی اصولوں، قانونی ضابطوں اور انسانی اقدار کا فروغ ناگزیر ہے۔بطور استاد اور ٹیکنالوجی کے اس سفر کا عینی شاہد، میری خواہش ہے کہ ہماری نوجوان نسل AI کو صرف استعمال کرنے والی قوم نہ بنے بلکہ اس کی تحقیق، اختراع اور اخلاقی رہنمائی میں بھی اپنا حصہ ڈالے۔ اگر ہم جدید سائنس کو اسلامی اخلاقیات کے ساتھ جوڑ دیں تو مصنوعی ذہانت محض ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا ایک مو¿ثر ذریعہ بن سکتی ہے۔DOS کی سادہ سیاہ اسکرین سے AI کی ذہین دنیا تک کا سفر مجھے ایک ہی سبق دیتا ہے کہ ٹیکنالوجی ہر روز بدلتی رہے گی، مگر انسان کی اصل طاقت اس کا کردار، اس کا علم اور اس کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ یہی وہ اقدار ہیں جو ہمیں نہ صرف جدید دنیا میں کامیاب بنائیں گی بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور بھی سرخرو کریں گی۔

اسلام اور اے آئی کا تعلق

آسائش کا زہر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے