#کالم

آسائش کا زہر

javeed ayaz

جاویدایازخان

ایک چوہا اتفاق سے چاول سے بھرے ایک مرتبان میں گر گیا. پہلے پہل وہ گھبرایا، ہاتھ پاو¿ں مارے، باہر نکلنے کی کوشش کی، مگر پھر اچانک اسے احساس ہوا کہ یہ جگہ تو کسی نعمت سے کم نہیں. ہر طرف کھانا ہی کھانا تھا. نہ شکار کا خوف، نہ بھوک کی فکر، نہ دوڑ دھوپ کی ضرورت چند لمحوں کی بے بسی آہستہ آہستہ آسائش میں بدل گئی. وہ کھاتا، سوتا اور آرام کرتا رہا. شروع میں مرتبان اتنا بھرا ہوا تھا کہ اگر وہ چاہتا تو چاولوں سے پیٹ بھرنے کے بعدایک چھلانگ لگا کر آسانی سے باہر نکل سکتا تھا، مگر اس نے سوچاکہ “میں یہاں سےکیوں نکلوں؟ یہاں تو ہر طرف چاول ہی چاول ہیں جبکہ مجھے کبھی کبھی گھنٹوں لگ جاتے تھے چاول کا ایک دانہ ڈھونڈتے ہوئے تا کہ اپنی بھوک مٹا سکوں۔ وقت گزرتا گیا۔ چاول کم ہوتے گئے، مگر چوہا اپنی عادتوں اور خواہشوں کا قیدی بن چکا تھا۔اس نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت ہی نہ کی کہ جو سہولت آج میسر ہے، وہ ہمیشہ نہیں رہے گی یہی کمفرٹ زون کا سب سے بڑا فریب ہے۔یہ انسان کو اچانک تباہ نہیں کرتا بلکہ خاموشی سے اس کی قوتِ ارادی، اس کی بھوک، اس کی جستجو اور اس کی مزاحمت چھین لیتا ہے آخرکار وہ وقت آیا جب مرتبان میں چاولوں کےصرف چند دانے باقی رہ گئے تو اب چوہے نے باہر نکلنے کی کوشش کی، مگر بہت دیر ہو چکی تھی مرتبان کی دیواریں اب بہت اونچی محسوس ہو رہی تھیں اوراس کا جسم بھاری، عادتیں سست، اور ہمت کمزور ہو چکی تھی وہ اس لیے قید نہیں ہوا تھا کہ راستہ بند تھا، بلکہ اس لیے کہ اس نے وقت پر باہر نکلنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا۔
یہ صرف ایک چوہے کی نفسیات نہیں بلکہ یہی انسانی نفسیات کا بھی سب سے خطرناک پہلو ہےانسان ہو یا جانور، جب مسلسل آرام، آسانی اور فوری تسکین ملنے لگے تو دماغ جدوجہد کو غیر ضروری سمجھنے لگتا ہےآہستہ آہستہ صلاحیتیں کمزور پڑنے لگتی ہیں، ارادے نرم ہو جاتے ہیں، اور خواہشِ پرواز مرنے لگتی ہےانسان اکثر اس وقت نہیں ہارتا جب اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا، بلکہ ا±س وقت ہارتا ہے جب اسے بغیر محنت کے سب کچھ ملنےلگے۔ زندگی میں انسان اکثر بڑی تکلیفوں سے نہیں ہارتا بلکہ ان آرام دہ عادتوں سے ہار جاتا ہے جو آہستہ آہستہ اس کی اندرونی طاقت کو ختم کر دیتی ہیں۔گھنٹوں سوشل میڈیا اسکرول کرنا، ہر مشکل کام کو کل پر ٹال دینا، صرف وہی راستے چننا جہاں محنت کم ہویہ سب وقتی سکون تو دیتے ہیں مگر دماغ کو کمزور، بے صبر اور غیر متحرک بنا دیتے ہیں۔ نفسیات کہتی ہے کہ ہمارا دماغ ہمیشہ آسان راستے کی طرف مائل ہوتا ہے کیونکہ وہ توانائی بچانا چاہتا ہےیہی وجہ ہے کہ انسان فوری خوشی کو طویل کامیابی پر ترجیح دینے لگتا ہےمگر اگر انسان شعوری طور پر خود کو چیلنج نہ کرے تو وہ ذہنی اور جذباتی طور پر سست ہو جاتا ہے آہستہ آہستہ اس کی برداشت کم ہو جاتی ہے، مشکلات کا خوف بڑھ جاتا ہے، اور وہ ہر اس راستے سے بھاگنے لگتا ہے جہاں جدوجہد شامل ہوتی ہے۔پٹھے ورزش سے مضبوط ہوتے ہیں اور ذہن مشکلات سے پختہ ہوتا ہے اور کردار مسلسل جدوجہد سے بنتا ہے۔ا?سان زندگی وقتی سکون تو دے سکتی ہے مگر ایک اچھا اور پائیدار مستقبل کبھی بھی نہیں بنا سکتی۔ اگر آپ ہمیشہ آسانی تلاش کرتے رہیں گے تو ایک دن مشکلیں آپ کو کمزور کر دیں گی لیکن اگر آپ آج خود کو مشکل راستوں کا عادی بنا لیں تو کل زندگی کی کوئی مشکل آپ کو توڑ نہیں سکے گی۔کمفرٹ زون ا?پکی کی ترقی میں راہ میں ایسا رکاوٹ کا پہاڑ ہوتا ہے جو ا?گے نہیں دیکھنے دیتا اور جہاں ہم ڈر جاتے ہیں کہ زیادہ کی تلاش میں پہلے سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں اور شاید یہی ہماری غلط فہمی ہمیں ا?گے نہیں بڑھنے دیتی۔اس لیے کفرٹ زون ایسی حالت کو کہتے ہیں جہاں انسان نئے چیلنج قبول کرنے سے کتراتا ہے اور اپنی زندگی کی موجودہ صورتحال کو غنیمت سمجھتا ہے کیونکہ وہ ایک خاص لیول تک کی کامیابی کے بعد بےیقینی کی باعث اگلے لیول پر جانے کی کوشش نہیں کرتے اور انکی زندگی کو جمود کا شکار ہو کر رہ جاتی ہے۔کمفرٹ زون وہ نرم قید خانہ ہے جہاں سکون تو مل جاتا ہے مگر خواب ،صلاحیتیں اور کامیابیاں ا?ہستہ ا?ہستہ دم توڑنے لگتی ہیں۔جو شخص اس قید سے باہر نکلنے کا حوصلہ کر لیتا ہے وہی اپنی اصل منزل تک پہنچتا ہے۔قرا?ن کریم بھی انسان کو مسلسل جدوجہد کی دعوت دیتا ہے۔اور ارشاد ربانی ہے کہ ” انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے "
اپنے “چاول کے مرتبان” کو پہچانیے۔ وہ چیز، وہ عادت، وہ آسائش جو آپ کو وقتی سکون دے رہی ہے مگر آہستہ آہستہ آپ کے خواب، صلاحیت اور ہمت کو کھا رہی ہے۔یہ کمفرٹ زون محفوظ ضرور لگتا ہے، مگر اکثر وہیں خواب دفن ہو جاتے ہیں کیونکہ کامیابی آرام میں نہیں بلکہ مسلسل جدوجہد، بے چینی، نظم و ضبط، اور خود کو بہتر بنانے کی تکلیف میں چھپی ہوتی ہے۔ انسان کی زندگی میں سب سے خطرناک قید وہ نہیں ہوتی جس کے دروازوں پر لوہے کے تالے لگے ہوں، بلکہ وہ ہوتی ہے جس کے دروازے کھلے ہوں مگر انسان خود انہیں چھوڑنے کا حوصلہ نہ کرے۔ اس قید کا نام ہی کفرٹ زون ہے۔ یہ وہ دائرہ ہے جہاں ہر چیز مانوس ہوتی ہے۔ راستے پہچانے ہوئے، لوگ جانے پہچانے، معمولات طے شدہ اور خطرات نہ ہونے کے برابر۔ یہاں وقتی سکون تو ملتا ہے، مگر یہی سکون آہستہ آہستہ انسان کی جستجو، ہمت اور صلاحیتوں کو زنگ آلود کر دیتا ہے۔ دریا اگر بہنا چھوڑ دے تو دلدل بن جاتا ہے، اور انسان اگر سیکھنا، بدلنا اور آگے بڑھنا چھوڑ دے تو اس کی زندگی بھی ٹھہراو¿ کا شکار ہو جاتی ہے۔ وقت آگے بڑھتا رہتا ہے، لیکن کمفرٹ زون میں رہنے والا شخص ماضی کی دہلیز پر کھڑا رہ جاتا ہے۔ کمفرٹ زون سے نکلنا آسان نہیں، کیونکہ اس کے باہر غیر یقینی حالات، مشکلات، تنقید اور ناکامی کا اندیشہ ہوتا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ کسی ملاح نے ساحل پر کھڑی کشتی سے سمندر نہیں جیتا، اور کسی عقاب نے گھونسلے میں بیٹھ کر پرواز نہیں سیکھی۔ کمفرٹ زون سے نکلنے کا پہلا قدم یہ ہے کہ انسان اپنے خوف کو پہچانے اور اس کا سامنا کرے۔ ہر روز اپنی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لائے، ایک نئی کتاب پڑھے، ایک نئی مہارت سیکھے، ایک نیا تجربہ کرے اور اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرے۔ یہی چھوٹے چھوٹے قدم ایک دن بڑی منزلوں تک پہنچا دیتے ہیں۔یاد رکھیں کہ ا?رام کی حد سے ا?گے ہی کامیابی کی خوشیاں چھپی ہوتی ہیں اور جو شخص اپنے کمفرٹ زون کی دیورایں توڑ کر باہر نکلتا ہے وہی زندگی کی وسیع دنیا اور نعمتوں کا اصل مسافر ہوتا ہے۔اپنے خوبصورت خوابوں اور بڑی بڑی سوچوں کو کبھی مرنے نہ دیں ۔حالات کتنے ہی سخت نہ ہوں اگر ارادہ اور ہمت زندہ ہے تو راستے بھی پیدا ہو ہی جاتے ہیں۔
شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا
پردم ہے اگر تو ،نہیں خطرہ افتاد

۔

آسائش کا زہر

اسلام اور اے آئی کا تعلق

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے