علم، کردار اور خدمت کا روشن استعارہ
منشاقاضی
قوموں کی حقیقی طاقت صرف ان کے وسائل، عسکری قوت یا معاشی استحکام میں نہیں ہوتی بلکہ ان عظیم شخصیات میں مضمر ہوتی ہے جو اپنے علم، کردار، محنت اور خدمت کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیئے روشن راستے متعین کرتی ہیں۔ ایسے ہی نابغہ روزگار افراد اپنے شعبوں میں اداروں کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں اور ان کا نام محض ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک عہد، ایک روایت اور ایک معیار بن جاتا ہے۔ پاکستان کی طبی دنیا میں بریگیڈیئر پروفیسر ڈاکٹر ساجد مشتاق اذکارِ رفتہ کا نام انہی ممتاز شخصیات میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے علمِ پیتھالوجی، تحقیق، تدریس اور پیشہ ورانہ قیادت کے میدان میں ناقابلِ فراموش خدمات انجام دے کر قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا۔بریگیڈیئر ڈاکٹر ساجد مشتاق (ر) نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں اس مقام کو حاصل کیا جہاں قابلیت، دیانت داری، تحقیق اور مسلسل محنت ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے FCPS (پاکستان) اور FRCPath (برطانیہ) جیسی اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ اسناد حاصل کیں، جو علمِ ہسٹوپیتھالوجی اور پیتھالوجی کے میدان میں عالمی معیار کی نمائندہ حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کی علمی صلاحیتیں صرف اسناد تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے اپنی زندگی کو علم کے فروغ، مریضوں کی بہتر تشخیص اور نئی نسل کی تربیت کے لیے وقف کر دیا۔پاکستان کے ممتاز طبی ادارے آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف پیتھالوجی (AFIP)، راولپنڈی میں شعبہ ہسٹوپیتھالوجی کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے نہ صرف تشخیصی معیار کو عالمی سطح پر استوار کیا بلکہ تحقیق اور تربیت کے ایسے اصول متعارف کروائے جن سے ادارے کی علمی وقعت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بعد ازاں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر، لاہور میں شعبہ پیتھالوجی کے سربراہ کی حیثیت سے ان کی خدمات نے سرطان کی تشخیص، تحقیق اور علاج کے معیار کو مزید مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ ان کی قیادت میں پیتھالوجی کے شعبے نے پیشہ ورانہ مہارت، جدید تحقیق اور بین الاقوامی معیار کی نئی مثالیں قائم کیں۔ڈاکٹر ساجد مشتاق کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی تحقیقی بصیرت ہے۔ انہوں نے قومی اور بین الاقوامی طبی جرائد میں 175 سے زائد تحقیقی مقالات شائع کیے، جو نہ صرف ان کی علمی گہرائی کا ثبوت ہیں بلکہ دنیا بھر کے معالجین اور محققین کے لیے قابلِ اعتماد حوالہ بھی بنے۔ ان کی تحریروں میں جدید سائنسی فکر، طبی تجربات اور تحقیق کی وہ پختگی دکھائی دیتی ہے جو ایک عظیم استاد اور محقق کا خاصہ ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے علمِ پیتھالوجی پر ایک مستند کتاب بھی تصنیف کی، جو اس شعبے کے طلبہ اور ماہرین کے لیے علمی سرمایہ کی حیثیت رکھتی ہے۔تعلیم و تربیت کا میدان ڈاکٹر ساجد مشتاق کی زندگی کا وہ روشن باب ہے جس پر بجا طور پر فخر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے شعبے میں 150 سے زائد ماہرین (Specialists) کو تربیت دی، جو پاکستان میں اپنی نوعیت کا ایک غیر معمولی ریکارڈ ہے۔ ان کے شاگرد آج ملک کے مختلف تدریسی اداروں، میڈیکل کالجوں، تحقیقی مراکز اور ہسپتالوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور یوں ان کا علمی فیض ایک چراغ سے ہزاروں چراغ روشن کرنے کی مثال بن چکا ہے۔ ایک بہترین استاد وہی ہوتا ہے جو صرف علم منتقل نہ کرے بلکہ سوچنے، تحقیق کرنے اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ بھی اپنے شاگردوں میں پیدا کرے، اور ڈاکٹر ساجد مشتاق نے اس روایت کو عملی شکل دی۔ان کی بین الاقوامی علمی شناخت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ رائل کالج آف پیتھالوجسٹس، برطانیہ کے آٹھ برس تک مشیر (Advisor) رہے۔ یہ ذمہ داری صرف ان ماہرین کو سونپی جاتی ہے جن کی علمی بصیرت، تحقیقی خدمات اور پیشہ ورانہ دیانت عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہو۔ اس اعزاز نے نہ صرف ان کی ذاتی صلاحیتوں کو عالمی اعتراف بخشا بلکہ پاکستان کے طبی ماہرین کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی۔قومی سطح پر بھی انہوں نے پیشہ ورانہ اداروں کی قیادت کرتے ہوئے شعبہ پیتھالوجی کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ پاکستان سوسائٹی آف ہسٹوپیتھالوجی اینڈ سائٹولوجی کے صدر رہے، جہاں انہوں نے تحقیق، تربیت اور پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اصلاحی اقدامات کیے۔ اسی طرح وہ پاکستان ایسوسی ایشن آف پیتھالوجسٹس کے سیکرٹری بھی رہے، جہاں ان کی تنظیمی صلاحیتوں نے طبی برادری کے اتحاد، علمی سرگرمیوں کے فروغ اور پیشہ ورانہ تعاون کو نئی جہت عطا کی۔کسی بھی شخصیت کی زندگی میں سب سے بڑا اعزاز وہ ہوتا ہے جو اس کے ہم عصر اہلِ علم اور ادارے اس کی خدمات کے اعتراف میں پیش کریں۔ ڈاکٹر ساجد مشتاق کو پاکستان ایسوسی ایشن آف پیتھالوجسٹس کی جانب سے 2012ءمیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا، جو ان کی دہائیوں پر محیط علمی، تحقیقی اور تدریسی خدمات کا باوقار اعتراف ہے۔ بعد ازاں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ (PKLI)، لاہور نے بھی انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے سرفراز کیا، جو اس حقیقت کا مظہر ہے کہ ان کی خدمات مختلف طبی اداروں اور ماہرین کے نزدیک یکساں طور پر قابلِ احترام اور لائقِ تحسین ہیں۔بریگیڈیئر ڈاکٹر ساجد مشتاق اذکارِ رفتہ کی شخصیت اس امر کی روشن مثال ہے کہ جب عسکری نظم و ضبط، علمی دیانت، تحقیقی جستجو اور انسانی خدمت ایک ہی شخصیت میں جمع ہو جائیں تو وہ انسان اپنے عہد کا رہنما بن جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے علم کو صرف ذاتی کامیابی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے انسانیت کی خدمت، نوجوان ڈاکٹروں کی تربیت اور طبی تحقیق کے فروغ کا ذریعہ بنایا۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل عظمت عہدوں، شہرت یا اعزازات میں نہیں بلکہ اس علمی ورثے میں پوشیدہ ہوتی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیئے امید، رہنمائی اور ترقی کا سرمایہ بن جائے۔آج جب پاکستان کو تحقیق، جدید طبی تعلیم اور اعلیٰ پیشہ ورانہ قیادت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، تو بریگیڈیئر پروفیسر ڈاکٹر ساجد مشتاق جیسی شخصیات امید، اعتماد اور فخر کی علامت بن کر سامنے آتی ہیں۔ ان کی خدمات صرف ماضی کا سرمایہ نہیں بلکہ مستقبل کی سمت متعین کرنے والی روشنی ہیں۔ وہ یقیناً ان عظیم معمارانِ علم میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم کو عبادت، تحقیق کو مشن اور انسانیت کی خدمت کو اپنی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھا۔ ان کا علمی سفر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اور ان کا نام پاکستان کی طبی تاریخ میں ہمیشہ عزت، وقار اور احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ ملک کی معروف فکری تنظیم (CTN) کیا چیز ہے۔ جس نے اپنے اندر نابغہ ء روزگار ہستیوں کو اپنی آغوش میں لے لیا ہے۔ ڈاکٹر ساجد مشتاق جب سے سی ٹی این کا حصہ ہوئے ہیں ان کا قصہ سی ٹی این کے رخِ تاباں پر کہکشاں کی طرح دمک رہا ہے۔ اس قافلہ ءنوبہار کے میرِ قافلہ مسعود علی خان کی خوئے دلنوازی ، بلند نظری ، جاں پرسوزی ، ایثار اور وطنِ عزیز سے ان کی لازوال محبت نے اخوت و رواداری کی شاہراہ پر گامزن کر دیا ہے۔






