وہ شخص جو مہنگا ہوکر اب درویش ہوچکا ہے
ڈاکٹرعائشہ عظیم
قاسم علی شاہ صاحب ایک معروف شخصیت ہیں جن سے کچھ عرصہ قبل تک میرا کسی قسم کا اختلاف رائے تھا نہ اتفاق رائے۔ کچھ لیکچرز سن رکھے تھے۔جن کے بارے میں میرا خیال تھا کہ یہ باتیں تو بہ طور استاد میں روزانہ اپنے طلبہ سے کرتی ہوں، لیکن ایک شخص سوشل میڈیا کے ذریعے یہ ذمہ داری ادا کر رہا ہے تو بہت اچھی بات ہے۔ ہماری نوجوان نسل کو تربیت اور ذہن سازی کی شدید ضرورت ہے۔ ایک روز میری عزیز از جان سہیلی،عظمیٰ افضل جو لارنس کالج مری میں ڈائریکٹر آف اسٹڈیز ہے اور شاہ صاحب کو بہت سنتی ہے ،نے میرے ذمہ لگایا کہ تم بہت سی تقاریب میں جاتی ہو کہیں قاسم علی شاہ سے ملاقات ہو تو مجھے ان کا رابطہ نمبر چاہیے۔ قسمت کی دیوی اس پر مہربان تھی۔ اسی ہفتہ علی انسٹی ٹیوٹ لاہور میں محفل مزاح تھی۔ میرے سیشن سے پہلے شاہ صاحب کا سیشن تھا۔ انتظار کے چند لمحوں میں شاہ صاحب میرے ساتھ والی کرسی پہ براجمان تھے۔ میری تو چاندی ہو گئی۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتی تھی کہ آپ میرے آئیڈیل سپیکر ہیں اور آپ کو بہت سنتی ہوں۔ اس لیے براہ راست مطلب کی بات کرنا تھی۔ میں نے سلام دعا کے بعد ان سے کہا کہ کچھ بات کرنا چاہتی ہوں۔ وہ کسی کے اشارے پہ جلدی سے اٹھے اور باہر نکلنے والے دروازے کی طرف بڑھ گئے۔ یہ مجھے بہت بعد میں پتا چلا کہ وہ ہمیشہ جلدی میں ہی ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی گھڑی کی سوئیوں کی رفتار کے ساتھ اپنا ٹائم ٹیبل سیٹ کیے ہوئے ہے۔ یہ رویہ کسی کے لیے الجھن کا باعث بھی ہو سکتا ہے لیکن شاید ان کی کام یابی کا ایک بڑا راز بھی ہے۔ خیر وہ چلے گئے اور لمحے بھر میں مجھے یہ احساس کرواگئے کہ لوگوں کی پہچان اور شہرت کا قد بڑا ہو جائے تو دوسرے لوگ انھیں بونے نظر آنے لگتے ہیں۔ قبل اس کے کہ یہ خیالات مجھ پر قبضہ کرتے ایک لڑکا بھاگتا ہوا مجھ تک آیا کہ” میڈم شاہ صاحب نے پیغام دیا ہے آپ کے لیے،وہ جلدی میں تھے کہہ رہے تھے کہ میڈم مجھ سے کوئی بات کرنا چاہتی تھیں انھیں میرا فون نمبر دے دیں۔“ واہ جی واہ مجھے جو چاہیے تھا وہ مل گیا۔ شاہ صاحب کی اعلا ظرفی کو دل میں سراہا۔ فرصت میں شاہ صاحب سے بات کی اور غالباً 26 یا 27 دسمبر ملاقات کا دن طے پایا۔ اس دوران انھوں نے فاونڈیشن آنے اور انٹرویو ریکارڈ کروانے کے لیے میراشعیب سے رابطہ بھی کروادیا۔ انٹرویو کی بات بھی خوب مزے کی ہے۔ کہ آج تک خود کو اس قابل نہیں سمجھا کہ لوگ میرے بارے میں جاننے میں دل چسپی رکھتے ہوں۔ اس لیے انٹرویو پر دھیان نہیں دیا اور شعیب کو دو بار ٹال دیا۔جس دن شاہ صاحب سے میری اور عظمیٰ کی ملاقات تھی وہ ان کی سال گرہ کا دن تھا۔ ان سے ملاقات پر پتا چلا کہ یہ وہ شخص ہے جو مہنگا ہو کر درویش ہو چکا ہے، ہر خاص و عام کو میسر ہے۔ اس کے بعد گاہے گاہے فاونڈیشن میں یا باہر کسی تقریب میں ان سے ملاقاتیں رہیں۔ کوئی دو سال کے بعد ایک دن صبح نو بجے ان کی طرف سے ملاقات کا پیغام ملا۔ اگلے دن طے شدہ وقت کے مطابق ان سے ملی تو میری حیرانی اپنے عروج پہ تھی جب انھوں نے مجھے فاونڈیشن کا اردو سیکشن ہیڈ کرنے کا کہا۔ مجھے لگا کہ شاہ صاحب کو کسی نے میرے بارے میں غلط بتا دیا ہے۔ میں کہاں کچھ ایسا کر سکتی ہوں۔ میں تو بس فیس بک پہ ہلکا پھلکا مزاح لکھ لیتی ہوں۔ میرا نام انھیں کس نے دیا۔ بعد میں کھوج لگائی تو پتا چلا کہ یہ خالصتاً ان کا اپنا انتخاب تھا۔ مجھے اپنی خوبیوں کا ادراک ہونے لگا۔ اب ہیرے کی پرکھ جوہری ہی کر سکتا ہے۔ قاسم علی شاہ فاو نڈیشن ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ادب اور لٹریچر کے فروغ کے لیے میں نے حصہ بقدر جثہ ڈالا۔ جہاں زندگی جینے کا ڈھنگ سکھایا جاتا ہے۔ جہاں تعلیم ممکن اسکالرشپ پروگرام کے تحت نوجوانوں کی فکری تربیت کی جاتی ہے۔ ان کی شخصیت میں نکھار لایا جاتا ہے۔ جہاں ٹوٹتی شادیوں کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جہاں معاشرے کی طرف سے ملنے والے نفسیاتی دباﺅ کو کم کرنے کا سامان کیا جاتا ہے۔ مجھے فاو نڈیشن سے جڑے ہوئے آج تین سال ہو گئے۔ شاہ صاحب سے بے شمار مرتبہ ملاقات ہوئی۔ آج ہم ایک دوسرے کے مزاج کو بھی سمجھتے ہیں۔ قاسم علی شاہ صاحب کو میں نے حساس اور درد دل رکھنے والا ایک مثبت انسان پایا۔ وہ نرم گفتار ہیں۔ انسان دوستی کےجذبے سے سرشار ہیں۔ تنقید کو خوش دلی سے قبول کرتے ہیں۔ اپنے نکتہ نظر کے بارے میں واضح دلیل رکھتے ہیں۔ حالاں کہ آج بھی وہ اسی جلدی میں ہوتے ہیں لیکن اب ان کی جلدی سمجھ میں آتی ہے۔ وہ ایک ایسے دوست بن چکے ہیں جن سے بلاجھجھک کبھی بھی بات کر سکتی ہوں۔ میں اس عظیم استاد کے لیے دعا گو ہوں کہ یونہی ترقیاں کرتے کام یابیاں سمیٹتے رہیں۔(مضمون نگار”قاسم علی شاہ فاو?نڈیشن“ میں اردوسیکشن کی ہیڈ،مزاح نگار اور” لاہور کالج برائے خواتین یونی ورسٹی“ میں اردوکی استاد ہیں۔)






