پانی پرجوش اور ہم
سہیل بشیر منج
نیدر لینڈز کی وہ داستان ایک روشن مثال ہے جہاں صدیوں تک لہروں کی سرکشی نے انسانی زندگی کو مفلوج کیے رکھا لیکن دانشمندی اور مسلسل محنت نے اس خوف کو فتح میں بدل دیا انیس سو تریپن میں ان کے ساحلوں پر آنے والے تباہ کن سیلاب نے پور ے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں جس میں ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور ہزاروں ایکڑ زمین پانی میں ڈوب گئی اس عظیم المیے نے قوم کے دل میں ایک ایسا عزم پیدا کیا جس نے ان کی تقدیر بدل کر رکھ دی اس کے بعد صرف چالیس سال کے مختصر عرصے یعنی انیس سو ترانوے تک انہوں نے انتھک جدوجہد اور دنیا کے بہترین انجینئرنگ شاہکاروں کی مدد سے نہ صرف سیلابوں پر مکمل قابو پا لیا بلکہ سمندر کی بپھری ہوئی موجوں کا رخ موڑ کر انہیں مسخر کر دیا ڈیلٹا ورکس جیسے بے مثال اور دلکش منصوبے نے پانی کے سامنے ایک فولادی دیوار قائم کر دی اور دریاوں کے بہاو کو اس خوبی سے کنٹرول کیا کہ اب وہاں کی زمیں محفوظ شاداب اور پرامن ہے انہوں نے خوف کے اس سمندر کو زندگی کی علامت بنا دیا اور پانی کی ہر بوند کو منظم کر کے زرعی شعبے میں ایسا انقلاب برپا کیا کہ آج یہ چھوٹا سا ملک دنیا میں زراعت کی پیداوار کا معتبر نام بن چکا ہےvنیدر لینڈز نے دنیا کو سکھایا کہ جب تدبیر عزم اور وڑن مل جائیں تو انسان قدرت کے سب سے سرکش عناصر کو بھی اپنا مطیع بنا سکتا ہے انہوں نے سیلاب کے المیے کو محض چند دہائیوں میں کامیابی کی ایک ایسی داستان میں تبدیل کر دیا جو ہر اس قوم کے لیے مشعل راہ ہے جو قدرت کے حالات سے جنگ لڑ رہی ہے ۔ پاکستان کی دھرتی پر گزرے برس کے سیلاب نے وہ خوفناک داستان رقم کی جس کے زخم آ ج بھی تازہ ہیں بپھری ہوئی موجوں نے ہنستے بستے گھروندوں کو پل بھر میں نگل لیا لاکھوں انسان اپنے ہی وطن میں بے گھر ہو کر کھلے اسمان تلے آئے کھیت کھلیان جائدادیں اور مال مویشی سب نذر آب ہو گئے جس سے اربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہوا اور زندگی کی رمق مدہم پڑ گئی جو لوگ اس قیامت خیز بلا سے بچے وہ آج بھی بدحالی بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا روگ بھگت رہے ہیں اس وقت کے حکمرانوں نے کھڑے پانی کے درمیان کھڑے ہو کر بلند بانگ دعوے کیے بحالی کے حسین خواب دکھائے اور عالمی سطح پر امداد کی دہائیاں دیں لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر وعدے صرف کاغذوں اور تقریروں کی نذر ہو گئے اور متاثرین کی اکثریت آج بھی امداد کی منتظر ہے پنجاب حکومت نے سیلاب کی روک تھام اور بندوں کی مضبوطی کے لیے کچھ اعلانات اور وقتی اقدامات تو کیے مگر وہ مستقل حل ثابت نہ ہو سکے اس پوری تباہی میں وہ معصوم بچے بھی پس گئے جن کے سکول پانی کی نذر ہو گئے اور بیماریاں وبا بن کر پھیلیں جن پر قابو نہ پایا جا سکا حقیقت یہ ہے کہ جب تک ہم وقتی تدبیروں کے بجائے پائیدار حکمت عملی نہیں اپنائیں گے تب تک قدرتی آ فات کے سامنے ہماری بے بسی یوں ہی معصوم انسانوں کا امتحان لیتی رہے گی۔ رواں سال امڈتے ہوئے سیلابوں نے ایک بار پھر ملک کے دامن کو تشویش اور خوف سے بھر دیا ہے جس کی شدت اور تباہ کاری کی صلاحیت گزشت دہائی کے بدترین ریکارڈز کو مات دے سکتی ہے ماہرین کے خدشات کے مطابق اگر بارانی سلسلہ یونہی جاری رہا تو لاکھوں ایکڑ پر پھیلی فصلیں اور ہنستے بستے دیہات پل بھر میں جل تھل ہو سکتے ہیں جس سے زراعت اور دیہی معیشت کو شدید دھچکا پہنچنے کا اندیشہ ہے فی الوقت بالائی علاقوں اور اہم دریاوں کے گزرگاہوں پر پانی کا بہاو بتدریج بڑھ رہا ہے جہاں ندی نالے طغیانی کی لپیٹ میں ہیں اور درمیانے سے اعلی درجے کے سیلابی ریلے میدانی علاقوں کی طرف گامزن ہیں پنجاب کے پی کے اور سندھ کی صوبائی حکومتوں نے اس آفت سے نپٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فلڈ ریلیف کیمپس کا قیام عمل میں لایا ہے اور نشیبی علاقوں سے آبادیوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے دعوے کیے جا رہے ہیں ریسکیو اداروں اور این ڈی ایم اے کو ہائی الرٹ کر کے دریاوں کے حفاظتی بندوں کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے تا کہ کسی ناگہانی شگاف سے بچا جا سکے تاہم سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ کیا خوراک کی فراہمی ادویات کا ذخیرہ اور وباوں سے بچاو کا نظام اس ممکنہ انسانی بحران کا بوجھ اٹھا پائے گا کیونکہ مواصلاتی نظام ٹوٹنے اور بجلی کے نظام کی معطلی سے ریلیف کا کام مفلوج ہونے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے اگر بروقت اور مربوط حکمت عملی کے تحت لوگوں اور مال مویشیوں کو نکالنے کا عملی قدم نہ اٹھایا گیا تو یہ سیلاب نہ صرف کھڑی فصلوں کو تباہ کرے گا بلکہ بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد کو ایک نئے معاشی اور نفسیاتی امتحان میں مبتلا کر دے گا ۔سیلابوں کی طغیانی کو یکسر روکنا شاید ممکن نہ ہو۔۔۔لیکن ان کی تباہ کاریوں کے سامنے انسانی وڑن اور دانشمندانہ تدبیر ایک مضبوط ڈھال بن سکتی ہے شجرکاری اس جنگ میں سب سے پہلا اور قدرتی دفاع ہے کیونکہ درختوں کی جڑیں مٹی کو جکڑ کر کٹاو کو روکتی ہیں اور پانی کے تیز بہاو کی رفتار کو کم کر کے زمین کو اپنے اندر پانی جذب کرنے کی صلاحیت بخشتی ہیں گزشتہ ایک سال کے دوران پنجاب کے پی کے اور سندھ کی حکومتوں نے اپنے تئیں بندوں کی مرمت ڈیموں کی بھال اور نکاسی آب کے کچھ وقتی منصوبے تیار کیے لیکن محض روایتی اقدامات اس بے رحم آ فت کا مستقل حل نہیں دنیا کے کامیاب ممالک نے یہ ثابت کیا ہے کہ قدرتی بلاوں کو حکمت سے شکست دی جا سکتی ہے جیسے چین نے سپنج سٹیز کا تصور پیش کر کے شہروں کو اس قابل بنایا کہ وہ اضافی پانی کو جذب اور ذخیرہ کر سکیں جبکہ چین اور جاپان نے زیر زمین دیوہیکل برسات کے ریزروائر بنا کر سیلابی پانی کو محفوظ کیا اسی طرح نیدر لینڈز نے روم فار دی ریور کے نظریے کے تحت دریاوں کو کشادہ کر کے پانی کے قدرتی راستوں کو بحال کیا پاکستان کے لیے بھی قابل عمل حل یہی ہے کہ دریاوں کے قدرتی بہاو میں موجود تمام ناجائز تجاوزات کا بلاامتیاز خاتمہ کیا جائے چھوٹے اور درمیانے سائز کے متعدد ڈیم بنا کر اس پانی کو ڈیموں اور جھیلوں میں ذخیرہ کیا جائے تا کہ خشک سالی کے دنوں میں اسے زراعت کے لیے استعمال میں لایا جا سکے جدید ترین ارلی وارننگ سسٹم کا قیام ڈرونز اور سیٹلائٹ کے ذریعے نگہداشت اور ضلعی سطح پر مستقل ایمرجنسی ریسپانس فورس کی تشکیل وہ عملی تجاویز ہیں جو ہم وطنوں کی جانیں اور فصلیں بچا سکتی ہیں جب تک ہم سیلاب سے لڑنے کے بجائے پانی کے ساتھ جینے اور اسے ایک نعمت کے طور پر سنبھالنے کی جامع قومی پالیسی نہیں بنائیں گے تب تک ہماری فصلیں اور مکانات یوں ہی بہتے رہیں گے۔






