#کالم

امیر العظیم بہت یاد آﺅ گے

mehndi

سید محمد مہدی

زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ انسان رخصت ہو جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کچھ شخصیتیں اپنے ساتھ ایک پورا عہد بھی لے جاتی ہیں۔ چند ہی ماہ کے مختصر وقفے میں زعیم قادری، سردار ذوالفقار کھوسہ، الطاف حسن قریشی اور اب امیر العظیم اس سرزمین کی حدود سے نکل کر اس ملکِ عدم کے مسافر بن گئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آتا۔ یہ چاروں اپنی اپنی جگہ نگینہ تھے، اور میری خوش قسمتی رہی کہ ان سب سے ان کی زندگی کے آخری لمحوں تک محبت، احترام اور اپنائیت کا رشتہ قائم رہا۔امیر العظیم سے بیماری کے ایام میں آخری بار فون پر گفتگو ہوئی۔ مرض ایسا تھا کہ اس کا نام سن کر ہی انسان کے حوصلے جواب دینے لگتے ہیں، مگر دوسری طرف ان کی آواز تھی جس میں نہ شکوہ تھا، نہ خوف، نہ مایوسی۔ صرف صبر، استقامت اور اللّٰہ پر کامل بھروسے کی روشنی جھلک رہی تھی۔ انہوں نے بیماری کا مقابلہ جرات سے کیا، جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ہی تھا کہ قاضی حسین احمد نے منصورہ میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی۔ مجھے بھی دعوت دی۔ ایک روز فون کال موصول ہوئی دوسری جانب امیر العظیم تھے ، مجھے اے پی سی میں شرکت اور تقریر کرنے کی دعوت دی ، یہ میرا ان سے پہلا رابطہ تھا ، اسی اجتماع میں پہلی مرتبہ امیر العظیم سے ملاقات ہوئی ، ایک نہایت خوش اخلاق، منکسر المزاج اور دل آویز شخصیت سے ملاقات۔پہلی ہی نشست میں طے ہوا کہ چند روز بعد تفصیلی ملاقات ہوگی۔ پھر لاہور ہائیکورٹ کے بالمقابل ایک ریسٹورنٹ میں وہ ملاقات ہوئی، اور یوں جو تعلق قائم ہواوہ وقت کے ساتھ کم نہیں بلکہ محبت، اعتماد اور خلوص کی نئی منزلیں طے کرتا چلا گیا۔سن 2013ءکے عام انتخابات ،میں ممکنہ امیدواروں میں میرا نام بھی شامل تھا۔ نواز شریف صاحب نے اپنی قومی اسمبلی کی نشست کے نیچے صوبائی نشست پی پی 140سے انتخاب لڑنےکے حوالےسے گفتگو فرمائی ، شہباز شریف صاحب نے یہ رائے دی کہ مجھے نیچے لانے کے بجائے حکومت میں بہتر موقع دیا جائے۔ انہی دنوں امیر العظیم کا فون آیا۔ انہوں نے بڑی محبت سے کہا کہ اگر آپ انتخاب لڑیں گے تو میں آپ کی حمایت کروںگا۔سیاست میں اختلافات بہت دیکھے، مگر دلوں کی ایسی وسعت کم ہی نصیب ہوتی ہے۔جب بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت نے 1971 ءکے درد ناک واقعات کا بہانہ بنا کر وہاں کے سیاسی قائدین اور کارکنان کے خلاف خون آشام کارروائیاں شروع کیں تو امیر العظیم نے مجھ سے رابطہ کیا۔ ان کی خواہش تھی کہ بیٹھ کر غور کیا جائے کہ اس نازک صورتِ حال میں ان مظلوموں کی کس طرح مدد کی جا سکتی ہے۔ اس مقصد کیلئے ایک نشست ہوئی جس میں امیر العظیم، جماعت اسلامی کے شعبہ? خارجہ امور کے سربراہ عبد ا لغفار عزیز اور میں شریک ہوئے۔ ان کی فکر صرف اپنی جماعت تک محدود نہ تھی، بلکہ جہاں بھی ظلم ہوتا، ان کا دل وہاں دھڑکتا تھا۔ایک اور منظر آج بھی نگاہوں کے سامنے تازہ ہے۔ جرمن سفارت کاروں کے ساتھ میں نے ایک گروپ ڈسکشن کا انعقاد کیا تھا جیسا کہ میں اکثر و بیشتر کرتا رہتا ہوں۔ اس گروپ ڈسکشن میں ، میں نے شرکت کی دعوت سردار ذوالفقار کھوسہ، زعیم قادری ، امیر العظیم کو دی تھی اور بھی کچھ احباب میں نے مدعو کر رکھے تھے۔ امیر العظیم اکثر میری دعوت پر ایسی علمی و سیاسی نشستوں میں شریک ہوتے تھے۔ یہ 2002 کے ضمنی انتخابات کا وقت تھا۔ اس گروپ ڈسکشن کے دوران زعیم قادری کو ایک فون کال موصول ہوئی۔ دوسری طرف سے انہیں پارٹی قیادت نے بتایا کہ وہ انتخاب سے دستبردار ہو جائیں کیونکہ یہ نشست امیر العظیم کو دے دی گئی ہے۔ اس لمحے موجود یہ تینوں گواہ آج اس دنیا میں موجود نہیں ہیں۔ وقت نے اس منظر کے ان نگینوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ بس یادیں رہ جاتی ہیں۔امیر العظیم نے میری والدہ کے چہلم میں شرکت کی۔ چہلم کے موقع پر وہ سب سے پہلے آنے والوں میں تھے اور سب سے آخر میں رخصت ہوئے۔ یہ محض رسمی شرکت نہ تھی، بلکہ رفاقت، محبت اور اخلاص کا ایسا اظہار تھا جو لفظوں سے زیادہ دل میں محفوظ رہتا ہے۔جماعتی منصب، سیاسی مقام اور عوامی شناخت کے باوجود تکبر ان کے قریب بھی نہ پھٹکا تھا۔ ان کی طبیعت میں انکسار تھا، گفتگو میں شائستگی تھی اور تعلقات میں خلوص۔ آج ایک اور نگینہ خاک اوڑھ کر سو گیا، لیکن ایسے لوگ مٹی میں دفن نہیں ہوتے،وہ اپنی خوشبو اپنے کردار، اپنے اخلاق اور اپنی محبتوں میں چھوڑ جاتے ہیں۔ یہی خوشبو آنے والے زمانوں تک ان لوگوں کے دلوں کو معطر کرتی رہے گی جنہیں کبھی ان کی رفاقت نصیب ہوئی۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے