کھلونے دے کہ بہلایا گیا ہوں
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
قرآنِ حکیم جب شیطان کی چالوں کا ذکر کرتا ہے تو محض گناہوں کی فہرست بیان نہیں کرتا بلکہ انسانی نفسیات کے ان گوشوں کو بے نقاب کرتا ہے جہاں سے انسان آہستہ آہستہ اپنے رب سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ انہی آیات میں ایک لفظ آتا ہے: یعنی "ہم نے تمہیں بہکا دیا۔”یہ بہکانا تلوار کی دھمکی سے نہیں ہوتا، بلکہ مسکراہٹوں، خواہشوں، امیدوں اور رنگین خوابوں سے ہوتا ہے۔ شیطان انسان کو سیدھی شاہراہ سے اچانک نہیں گراتا، بلکہ راستے کے کنارے ایک خوبصورت باغ دکھاتا ہے، پھر کہتا ہے: "ذرا یہاں بھی دیکھ لو۔” انسان چند لمحوں کے لیے رکتا ہے، پھر وہی لمحے پوری زندگی بن جاتے ہیں۔ منزل نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے اور مسافر راستے ہی کو اپنا گھر سمجھ بیٹھتا ہے۔شیطان کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ وہ انسان سے گناہ کروا دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ نیکی کو مو¿خر کروا دے۔ وہ کہتا ہے، نماز کل پڑھ لینا، توبہ بڑھاپے میں کر لینا، قرآن بعد میں سمجھ لینا، والدین کی خدمت کے لیے ابھی پوری زندگی پڑی ہے۔ یوں انسان کے دل میں "آج” کی جگہ "کل” آ جاتا ہے، اور یہی "کل” کبھی نہیں آتا۔کتنی عجیب بات ہے کہ انسان ہر اس کام کے لیے جلدی کرتا ہے جس کا تعلق دنیا سے ہو، مگر جس کام کا تعلق اللہ سے ہو، اس میں تاخیر کو حکمت سمجھ لیتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شیطان اپنی کامیابی پر مسکراتا ہے۔اسی کیفیت کو ایک شاعر نے کتنے درد سے بیان کیا:کہاں سے میں کہاں لایا گیا ہوں،کھلونے دے کہ بہلایا گیا ہوں۔واقعی دنیا کھلونوں کا ایک وسیع بازار ہے۔ کسی کے ہاتھ میں دولت کا کھلونا ہے، کسی کے پاس اقتدار کا، کسی کے پاس شہرت کا، کسی کے پاس حسن کا، اور آج کے دور میں کسی کے ہاتھ میں موبائل فون کی چمکتی ہوئی اسکرین ہے، جس نے انسان کے دل کو اس طرح مصروف کر دیا ہے کہ وہ اپنے رب کی آواز سن ہی نہیں پاتا۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ شیطان کا سب سے خطرناک ہتھیار غفلت ہے۔ غفلت انسان کو گناہ سے بھی زیادہ نقصان پہنچاتی ہے، کیونکہ گناہ کرنے والا کبھی نہ کبھی شرمندہ ہو کر توبہ کر لیتا ہے، لیکن غافل انسان کو تو یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے محبوب سے دور ہو چکا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی محبت کے لیے پیدا کیا۔ وہ رب جو ماں کی آغوش سے بھی زیادہ محفوظ پناہ دیتا ہے، جو بندے کے ایک قدم کے جواب میں اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے، جو رات کے آخری پہر اپنے بندوں کو پکارتا ہے کہ "ہے کوئی مانگنے والا؟” اس رب سے بڑھ کر انسان کا کوئی خیر خواہ، کوئی دوست اور کوئی محبت کرنے والا نہیں۔پھر بھی انسان اس کی محبت چھوڑ کر فانی محبتوں کے پیچھے کیوں بھاگتا ہے؟قرآن کا ایک جملہ دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے:”افسوس ہے ان بندوں پر!”یہ صرف الفاظ نہیں، بلکہ انسان کی غفلت پر ایک آسمانی آہ ہے۔ افسوس ان لوگوں پر جو اپنے رب کی محبت کو چھوڑ کر دنیا کے عارضی سہاروں پر بھروسا کرتے رہے، اور جب زندگی کی شام ڈھلی تو ہاتھ خالی تھے۔حضرت رابعہ بصری کہا کرتی تھیں کہ اگر جنت نہ بھی ہوتی اور جہنم نہ بھی ہوتی، تب بھی اللہ کی عبادت اس لیے کرنی چاہیے کہ وہ عبادت کے لائق ہے۔ یہی عشقِ حقیقی ہے۔ یہی تصوف کی روح ہے کہ بندہ نعمتوں کے لیے نہیں، منعم کے لیے جئے۔آج انسان کے پاس ہر سہولت موجود ہے، مگر سکون نہیں۔ دوائیں ہیں مگر نیند نہیں، مکانات ہیں مگر گھر نہیں، دوستوں کی فہرست ہے مگر مخلص دوست نہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ دل کو اس کے اصل مرکز سے ہٹا دیا گیا ہے۔ دل صرف اسی وقت آباد ہوتا ہے جب اس میں اللہ کی یاد بس جائے۔اسی لیے شاعر نے کہا:
جلتے ہر شب ہیں آسماں میں چراغ،جانے یزداں ہے منتظر کس کا
شاید وہ چراغ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ آسمان اب بھی ہماری واپسی کا منتظر ہے۔ ربِ کریم اب بھی منتظر ہے کہ اس کا بندہ ایک بار اخلاص سے اس کی طرف پلٹے۔ وہ سزا دینے سے پہلے معاف کرنا چاہتا ہے، پکڑنے سے پہلے سینے سے لگانا چاہتا ہے۔۔ہم نے زندگی میں بہت سے سفر کیے، شہروں کے، ملکوں کے، عہدوں کے، خواہشوں کے، لیکن سب سے اہم سفر ابھی باقی ہے؛ دل سے اللہ تک کا سفر۔ یہی وہ سفر ہے جو انسان کو انسان بناتا ہے، بندے کو ولی بناتا ہے، اور آنکھ کے آنسو کو موتی بنا دیتا ہے۔آئیے! دنیا کے کھلونوں سے دل ہٹا کر اس ذات کی طرف لوٹ چلیں جس نے ہمیں پیدا کیا، جو ہماری خاموش دعاو¿ں کو بھی سنتا ہے، جو ہمارے گناہوں کے باوجود ہمیں رزق دیتا ہے، جو ہر رات رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے، اور جو قیامت کے دن بھی اپنی رحمت کو اپنے غضب پر غالب رکھے گا۔زندگی کی اصل کامیابی مال، شہرت یا اقتدار نہیں، بلکہ یہ ہے کہ جب ہماری روح اس جسم کے پنجرے سے آزاد ہو تو فرشتے یہ کہیں:”اے اطمینان والی جان! اپنے رب کی طرف لوٹ آ، اس حال میں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔”کاش! اس دن ہم یہ نہ کہیں کہ "کہاں سے میں کہاں لایا گیا ہوں” بلکہ ہماری روح مسکرا کر عرض کرے۔۔۔”اے میرے رب! میں دیر سے سہی، مگر آخر تیرے ہی در پر واپس آ گیا ہوں۔۔۔






