پاکستانی ادب کے معمار، ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن
شاہد بخاری
ڈاکٹر شیخ اقبال نے ادب کی تقریباً ہر صنف میں طبع آزمائی کی ہے۔ اسی طر ح انہوں نے افسانے بھی تحریر کئے ہیں جن کا ذکر ذرا دیر بعد کریں گے۔آپ سب کو معلوم ہے کہ دنیا کا ہر اَدب زندگی سے اٹوٹ رشتہ استوار رکھتا ہے اور ذہنی ارتقائ کی کہانی ہر ایک قوم کی کم و بیش ایک جیسی ہی ہے سولہویں صدی میں انگلستان میں داستانیں تحریر ہوئی تھیں،جنہیں رومانسز کہا جاتا تھا، جن میں مافوق الفطری واقعات، اخلاقی رہنمائی، تجسس اور اسی طرح کے دوسرے عناصر ہوتے تھے یہی حال برِصغیر میں ہوا۔ یہاں بھی داستانیں تحریر ہوئیں مثلاً: فسانہئ عجائب، آرائشِ محفل، داستان امیر حمزہ، اور اس طرح کی بیسیوں داستانیں۔ پھر یورپ کے اثر سے ناول کا آغاز ہوا اور مرزا ھادی رسواکا ناول ”امراو¿ جان ادا“ تحریر ہوا، اور بعد میں تقریباً ہر بڑے لکھنے والے نے افسانے تحریر کئے جو وقت کی ضرورت کے عین مطابق تھے۔ ناول زندگی کے پورے ماحول کو پیش کرتا ہے جبکہ افسانے میں کوئی ایک رخ، کوئی ایک واقعہ،کوئی ایک حادثہ اور کوئی ایک سانحہ پیش نظر ہوتا ہے اور چند ایک کرداروں کے ذریعے صورتحال کی نزاکت اور سنجیدگی قاری کو منتقل کر دی جاتی ہے۔ افسانہ نویسی خاصہ مشکل فن ہے۔ ڈاکٹر اقبال نے بھی چند افسانے تحریر کئے ہیں جو مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوئے اگرچہ باقاعدہ کتابی صورت میں یہ ہمارے سامنے نہیں لیکن ان پر گفتگو کئے بغیر بات نہیں بنتی ان کے چند افسانوں کے عنوانات دیکھئے: ٹیلی فون، احمد بابا، اے محبت زندہ باد، میرا استاد، کنول، چڑیا، مس ہیملٹ، شہرت ۔۔۔۔۔ڈاکٹر اقبال نے بتایا کہ ان کے سارے افسانے حقیقی واقعات پر مبنی ہیں، وہ جو ان کے ساتھ بیتی یا کسی اور دوست یا عزیز کے ساتھ گذری۔افسانہ ”ٹیلی فون“حقیقی واقعات پر مبنی ہے اور اس میں ان کے اپنے ایک دوست کی واردات کو افسانوی صورت میں نذرِ قارئین کیا گیا ہے ۔۔۔”میرا استاد“ ایک ایسے واقعے پر مبنی ہے کہ جو انکے اپنے بھائی کے ساتھ پیش آیا کچھ لوگ رات کو چوری کرنے آئے جب انہوں نے ان کو پہچان لیا کہ وہ ان کے پروفیسر ہیں تو معذرت کر کے چلے گئے۔ ”ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں“۔۔۔ویسے تو چوری کرنا بذاتِ خود ایک جرم ہے لیکن اگر اس طرح کے مجرم کو کوئی اچھا خیال آ جائے تو ثابت ہو گا کہ اس کے دل میں ابھی کہیں نور کی کرن باقی ہے شاید حالات نے اسے غلط راہوں پر چلا دیا ہے افسانے کا مرکزی خیال بھی یہی ہے۔ ۔۔۔افسانہ ”چڑیا“ کا تعلق ڈاکٹر اقبال کے اپنے طالب علمی کے دور کا واقعہ ہے جب وہ ایم اے انگریزی کے لئے لائل پور(فیصل آباد) میں زیرِ تعلیم تھے۔۔۔۔”مس ہیملٹ“ میں بھی ایک ایسا واقعہ بیان کیا گیا ہے جس کا تعلق ڈاکٹر اقبال کے اپنے مشاہدے سے ہے یہ واقعات کہاں تک افسانہ بن گئے اس کا فیصلہ تو قارئین اور ناقدین کو کرنا ہو گا۔ بہر کیف افسانے کے میدان میں بھی ڈاکٹر اقبال نے اپنی طبع کی جولانیاں دکھانے کی کوشش کی ہے۔ترجمہ نگاری۔۔۔کسی زبان کا دوسری زبان میں ترجمہ خاصہ مشکل ہوتا ہے۔ اندیشہ یہ ہوتا ہے کہ کہیں اصل کی روح مسخ نہ ہو جائے۔۔۔۔ شاید یہی وجہ ہو گی کہ کچھ علمائے کرام نے قرآن مجید کے فارسی اور اردو میں ترجمہ کرنے کی مخالفت کی۔لیکن پھر ایک راہ یہ نکالی کہ متن ساتھ ہونا چاہیے اور پھر ترجمہ ہو۔ ویسے ترجمے نے بڑے بڑے گل کھلائے ہیں۔ قرآن پاک کے اردو ترجمے میں بھی لوگوں نے اپنے مخصوص مقاصد کو پیش نظر رکھا ہے۔ ۔۔ خیر چلئیے چھوڑیئے ترجمے کا عمل بہت مشکل ہوتا ہے۔ مترجم کو جس زبان سے جس زبان میں ترجمہ کر نا ہوتا ہے ہر دو زبانوں پر مکمل عبور ہونا چاہیے اور دونوں زبانوں کی ثقافت سوچ اور بودوباش کا بھی بڑی حد تک علم ہونا چاہیے۔ترجمہ،ترجمہ نہیں لگنا چاہیے بلکہ ایسا محسوس ہونا چاہیے کہ بالکل اصل تحریر ہے اور کہیں یہ شائبہ نہ ہو کہ یہ کسی اور زبان سے ترجمہ ہوا ہے ترجمے کو فطری، برجستہ رواں اور عام فہم ہونا چاہیے۔ ایک
پروفیسر صاحب نے پیراڈائز لاسٹ کا منظوم ترجمہ اردو میں کیا۔ اگر آپ پیراڈائز لاسٹ پڑھیں اور ترجمے کو پڑھیں تو آپ پریشان ہو جائیں گے۔ ایسا کہیں اوربھی دوست احباب نے کیا ہے اس لئے ترجمے کا عمل بہت نازک ہے۔ یہ تو پل صراط پر چلنے والا کام ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ ڈاکٹر شیخ اقبال نے جو تراجم کئے ہیں ان کی قدرو قیمت کیا ہے؟لیکن ہمیں معلوم ہے کہ وہ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں بہت دلچسپی لیتے رہے ہیں اور دونوں زبانوں کے پر جوش طالب علم ہیں۔ اس لئے جو تراجم انہوں نے کئے ہیں وہ بڑی حد تک ہمیں تو کامیاب نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کچھ امریکی اور برطانوی مصنفین کی کہانیوں کا ترجمہ بھی کیا ہے جو کئی جرائد میں شائع بھی ہوا ہے اور قارئین نے بے حد پسند کیا ہے۔ امریکی کہانی کار Edgar Allan Poe کی کہانی Tell Tale Heartکا ترجمہ ڈاکٹر اقبال نے اردو میں کیا ہے جو اکیڈمی آف لیٹرز کے جریدے ادبیات میں شائع ہوا ھے۔دیکھئے وہ کہانی کا آغاز کیسے کرتے ہیں:”سچ تو یہ ہے کہ میں پریشان تھا،بہت ہی پریشان، میں پریشان تھا بھی اور اب بھی ہوں، لیکن کیوں! شاید آپ مجھے دیوانہ کہیں، شاید مجھے بیماری لاحق تھی،جس نے نقصان دینے کی بجائے میری حسیاّت کو تیز کر دیا تھا، میری سننے کی قوت حیرت انگیز طور پر بڑھ گئی تھی، مجھے ہر چیز جو زمین و آسمان میں ہے،سنائی دینے لگی تھی، یوں لگتا تھا کہ جنت اور جہنم کی تمام آوازیں سننے لگا تھا۔ تو کیا میں دیوانہ ہوں لیکن میں تو آپ کو ساری کہانی بڑے سکون سے سنا سکتا ہوں“ Edgar Allan Poe۔۔۔۔سنسنی خیزی اورPathos کی وجہ سے بہت مشہور ہے آپ چاہئیں تو اس کی کہانیوں کو تھرلر کہہ سکتے ہیں،بالکل آج کی موجودہ فلموں کی طرح۔دراصل Poeجو بذاتِ خود یہاں ہیرو ہے، ایک بوڑھے کو قتل کر دیتا ہے۔جس کے ساتھ اسے کوئی بیر نہیں۔ بس اسے اس کی آنکھ پسند نہیں اور پھر اس کا ضمیر ہتھوڑے برسانا شروع کر دیتا ہے، وہ از خود اپنے آپ کو قانون کے حوالے کر دیتا ہے۔ ڈاکٹرشیخ اقبال نے اس کہانی کا نہایت فنکارانہ، چابکدستی کے ساتھ آسان اورنہایت سہل اردو میں ترجمہ کیا ہے،کہیں بھی تجسس کم نہیں ہوا کہیں بھی تسلسل نہیں ٹوٹا۔ ترجمے کا یہی کمال ہوتا ہے کہ وہ اصل نظر آئے۔ڈاکٹر اقبال نے ایک اور کہانی Love is fallacy جسے امریکی کہانی کار Max Shulman نے تحریر کیا ہے کا انتہائی خوبصورت ترجمہ نذرِ قارئین کیا ہے۔ اس میں اگر نام تبدیل کر دیئے جائیں تو یہ بالکل برِ صغیر کی کہانی نظر آئے گی۔ اس میں فلسفیانہ موشگافیاں ہیں۔ یہ کہانی بھی انتہائی دلچسپ ہے، مصنف اپنے دوست Petey Bellows کا انتہائی تفصیل سے ذکر کرتا ہے جو بظاہر بڑا Abnormalنظر آتا ہے۔وہ ”ریکون کوٹ“ہر قیمت پر لینا چاہتا ہے۔ مصنف کے والد کے پاس یہ کوٹ موجود ہے، Petey Bellows اس کے بدلے اسے کچھ بھی دے سکتا ہے۔ مصنف کو معلوم تھا کہ وہ Polly Espy سے بہت محبت کرتا ہے میں نے اسے”ریکون کوٹ“کے بدلے Polly Espy کو مانگ لیا۔وہ اس کے لئے تیار ہو گیا۔ مصنف نے پولی ایپسی کے فلسفے کی بہت سی موشگافیوں سے آشنا کیا،بہت کچھ سکھانا چاہا،اسے وہ بہت مشکل سے سمجھ پایا تو ا س نے پھر پولی ایپسی سے اس کی محبت مانگنا چاہی۔ اس نے فلسفے کی ساری مو شگافیاں اس پر استعمال کیں اور بالآخر اس نے کہا کہ مجھے تو وہ شخص پسند ہے جس کے پاس ریکون کوٹ ہو۔ یہ کہانی عجیب و غریب کہا نی ہے۔ دل کی اپنی دنیا ہے اور کافر دل کسی کی نہیں سنتا۔ اس موضوع پر یہ کہانی جوانتہائی خوبصورتی سے لکھی گئی تھی۔ڈاکٹر اقبال نے اسے انتہائی خوبصورتی سے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ڈاکٹر اقبال نے James Joyceکی مشہور کہانی Arabyکا خوبصورت اردو ترجمہ کیاہے۔انہوں نے ترجمے کو صرف کہانیوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہوں نے ہیلن کیلر کی خوبصورت تحریر Three Days to seeکا بہت عمدہ ترجمہ ”بارِ الہٰ بینائی کے صرف تین دن“ کے نام سے ترجمہ کیا۔ہمیں معلوم ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ہیلن کی پوری سوانح عمری بھی تحریر کی ہے جس کا ذکرپہلے ہو چکا ہے یہ مضمون اس سوانح کے علاوہ ہے اور بی اے کے طلبائ کے نصاب کا حصہ رہا ہے۔ ("یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کے کتابی سلسلے پاکستانی ادب کے معمار سیریز کے تحت 2022 میں شائع ہوئی تھی”جس کی تلخیص بہ اجازت چٹھی AOL بتاریخ27مئی 2025 قسط وارشائع کر رھے ہیں)






