#کالم

عورت: تاریخ کے ہر روشن باب کی معمار

Untitled 3

ڈاکٹر سیدہ عمرانہ مشتاق

دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ انسانی تہذیب کی تعمیر، ایمان کی حفاظت، خاندان کی بقا اور معاشروں کی تشکیل میں عورت کا کردار کسی بھی مرد سے کم نہیں رہا۔ افسوس یہ ہے کہ مختلف ادوار میں عورت کو کبھی کمزور، کبھی بے بس اور کبھی محض ایک ثانوی مخلوق بنا کر پیش کیا گیا، حالانکہ اگر مذہبی تاریخ، اسلامی روایات اور انسانی تہذیب کے بنیادی سنگ میلوں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بے شمار ایسے مواقع آئے جہاں تاریخ کا رخ ایک عورت نے موڑا۔اسلام نے عورت کو عزت، وقار اور حقوق اس وقت دیے جب دنیا کے بیشتر معاشروں میں اس کی حیثیت قابلِ رحم تھی۔ قرآن مجید نے عورت کو مرد کی طرح اللہ کا بندہ قرار دیا، اس کی روحانی عظمت کو تسلیم کیا، اس کی رائے کو اہمیت دی اور اس کی قربانیوں کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔حضرت آسیہ کا نام تاریخِ ایمان کے سنہرے حروف میں لکھا جاتا ہے۔ وہ دنیا کے سب سے بڑے جابر حکمران فرعون کے محل میں رہتی تھیں، مگر ان کا دل صرف اللہ کے سامنے جھکتا تھا۔ اقتدار، دولت اور شاہانہ زندگی انہیں حق سے نہ ہٹا سکی۔ انہوں نے ظلم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے ایمان کو اختیار کیا اور رہتی دنیا تک یہ پیغام دے دیا کہ عورت کمزور نہیں بلکہ ایمان کی طاقت سے ظلم کے مضبوط ترین قلعوں کو بھی چیلنج کر سکتی ہے۔حضرت ہاجرہ کی زندگی یقین، صبر اور توکل کی لازوال مثال ہے۔ ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنے شیر خوار بچے حضرت اسماعیل کے ساتھ تنہا چھوڑ دیے جانے کے باوجود انہوں نے مایوسی کو اپنے قریب نہ آنے دیا۔ صفا اور مروہ کے درمیان ان کی بے قرار دوڑ آج بھی حج اور عمرہ کا لازمی رکن ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں مسلمان ہر سال ایک ماں کے اسی عمل کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک عورت کے عمل کو قیامت تک عبادت کا حصہ بنا دیا۔اسی وادی میں اللہ تعالیٰ نے زمزم کا چشمہ جاری فرمایا، جو آج بھی دنیا کے عظیم ترین معجزات میں شمار ہوتا ہے۔ حضرت ہاجرہ کی استقامت نے ہمیں یہ سبق دیا کہ جب انسان اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہے تو اللہ اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔جب رسول اکرم پر پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ غارِ حرا سے تشریف لائے تو جس شخصیت نے سب سے پہلے آپ پر یقین کیا، آپ کو تسلی دی اور آپ کے مشن میں بھرپور ساتھ دیا، وہ حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا تھیں۔ انہوں نے صرف ایمان ہی قبول نہیں کیا بلکہ اپنا پورا سرمایہ، اپنی حیثیت اور اپنی زندگی اسلام کے لیے وقف کر دی۔ اگر ابتدائی دورِ اسلام کی مشکلات کا جائزہ لیا جائے تو حضرت خدیجہ کی قربانیاں ہر صفحے پر نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔اسلام کی پہلی شہیدہ بھی ایک عورت تھیں۔ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا نے بدترین تشدد برداشت کیا مگر ایمان کا دامن نہ چھوڑا۔ ان کا خون اسلام کی تاریخ میں اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ حق کی خاطر جان قربان کرنا صرف مردوں کا وصف نہیں بلکہ خواتین بھی اس میدان میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہیں۔قرآن مجید کی سور مجادلہ ایک ایسی خاتون کے واقعے سے شروع ہوتی ہے جنہوں نے اپنے مسئلے پر اللہ کے رسول سے رجوع کیا۔ حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کی فریاد اللہ تعالیٰ نے سنی اور ان کے حق میں قرآن کی آیات نازل فرمائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام عورت کی آواز کو نہ صرف سنتا ہے بلکہ اس کی داد رسی کو وحی کا حصہ بھی بنا دیتا ہے۔حضرت مریم علیہا السلام کی پاکیزگی، عبادت اور تقویٰ کا ذکر قرآن مجید میں جس احترام سے کیا گیا ہے، وہ دنیا کی کسی اور کتاب میں کم ہی ملتا ہے۔ ان کے نام پر مکمل سورت موجود ہے۔ وہ ہر دور کی خواتین کے لیے عفت، عبادت اور اللہ پر بھروسے کی علامت ہیں۔کربلا کا واقعہ صرف حضرت امام حسین کی قربانی تک محدود نہیں۔ اگر اس پیغام کو دنیا تک پہنچانے کا سہرا کسی کے سر جاتا ہے تو وہ حضرت زینب بنت علی رضی اللہ عنہا ہیں۔ انہوں نے ظلم کے ایوانوں میں کھڑے ہو کر ایسا خطبہ دیا جس نے طاقت کے نشے میں ڈوبے حکمرانوں کو بے نقاب کر دیا۔ ان کی استقامت نے ثابت کیا کہ سچائی کی آواز کو قید نہیں کیا جا سکتا۔اسلامی علمی روایت میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا مقام انتہائی بلند ہے۔ ہزاروں احادیث ان کے ذریعے امت تک پہنچیں۔ بڑے بڑے صحابہ کرام ان سے مسائل پوچھتے تھے۔ یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ اسلام میں علم کی بنیاد قابلیت ہے، جنس نہیں۔حضرت فاطمہ الزہراءرضی اللہ عنہا نے سادگی، عبادت، حیا اور خاندانی زندگی کا ایسا نمونہ پیش کیا جس نے آنے والی نسلوں کو کردار سازی کا راستہ دکھایا۔ ان کی گود میں پرورش پانے والے حضرت حسن اور حضرت حسین نے اسلام کی تاریخ میں وہ مقام حاصل کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔اسلامی تاریخ صرف انہی عظیم خواتین تک محدود نہیں۔ حضرت ا±مِّ عمارہ رضی اللہ عنہا نے غزوہ ا±حد میں رسول اکرم کے دفاع کے لیے تلوار اٹھائی۔ حضرت شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا تعلیم و انتظامی امور میں نمایاں کردار ادا کرتی رہیں۔ حضرت رفیدہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کو اسلامی تاریخ کی پہلی معروف طبی خدمت گزار خواتین میں شمار کیا جاتا ہے، جنہوں نے زخمیوں کی خدمت کی۔یہ تمام مثالیں ہمیں بتاتی ہیں کہ اسلام نے عورت کو صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں کیا بلکہ علم، دعوت، خدمت، معیشت، قربانی، قیادت اور کردار سازی کے ہر میدان میں اس کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا۔بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں اسلام کے نام پر بہت سے ایسے رویے اختیار کیے جاتے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ کہیں بیٹی کو وراثت سے محروم کیا جاتا ہے، کہیں اس کی تعلیم روک دی جاتی ہے، کہیں اس کی رائے کو غیر اہم سمجھا جاتا ہے اور کہیں عزت کے نام پر اس کی زندگی کے فیصلے چھین لیے جاتے ہیں۔ یہ سب اسلامی تعلیمات کی روح کے خلاف ہے۔ایک ماں صرف ایک بچے کی نہیں بلکہ ایک پوری نسل کی تربیت کرتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ عورت ایک تعلیم یافتہ خاندان کی بنیاد بنتی ہے۔ ایک باکردار عورت معاشرے میں اخلاقی اقدار کو زندہ رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نپولین بوناپارٹ کا مشہور قول ہے: "مجھے اچھی مائیں دو، میں تمہیں عظیم قوم دوں گا۔” اگرچہ یہ اسلامی قول نہیں، مگر اس میں پوشیدہ حقیقت سے انکار ممکن نہیں۔پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا کو آج اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں عورت کو اس کے اسلامی حقوق دینے ہوں گے۔ اسے بہترین تعلیم، صحت، قانونی تحفظ، معاشی مواقع، وراثت میں اس کا حق اور عزت و احترام دینا ہوگا۔ عورت کو بااختیار بنانے کا مطلب خاندانی نظام کو کمزور کرنا نہیں بلکہ اسے مزید مضبوط کرنا ہے۔عورت کسی مرد کی حریف نہیں بلکہ اس کی شریکِ سفر ہے۔ اسلام نے دونوں کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے۔ ایک معاشرہ اس وقت تک متوازن نہیں ہو سکتا جب تک اس کے مرد اور عورت دونوں اپنے اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھ کر ادا نہ کریں۔ہمیں اپنی بیٹیوں کو صرف ڈگریاں نہیں بلکہ اعتماد دینا ہوگا۔ اپنی بہنوں کو صرف ہمدردی نہیں بلکہ انصاف دینا ہوگا۔ اپنی ماو¿ں کو صرف محبت نہیں بلکہ احترام دینا ہوگا۔ اپنی بیویوں کو صرف ذمہ داریاں نہیں بلکہ حقوق بھی دینے ہوں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط خاندان، ایک مہذب معاشرے اور ایک ترقی یافتہ قوم کی بنیاد رکھتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسانیت کسی مشکل دور سے گزری، عورت نے اپنی ہمت، صبر، قربانی اور حکمت سے نئی راہیں متعین کیں۔ کبھی وہ آسیہ بن کر ظلم کے سامنے ڈٹ گئی، کبھی ہاجرہ بن کر توکل کی مثال بن گئی، کبھی خدیجہ بن کر اسلام کی پہلی پشت پناہ ثابت ہوئی، کبھی سمیہ بن کر شہادت کا تاج پہن لیا، کبھی مریم بن کر پاکیزگی کی علامت بنی، کبھی عائشہ بن کر علم کا چراغ روشن کیا اور کبھی زینب بن کر ظلم کے ایوانوں کو لرزا دیا۔یہی عورت کا اصل تعارف ہے۔ وہ کمزور نہیں، وہ تاریخ کی معمار ہے۔ وہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ نسلوں کی تربیت گاہ ہے۔ جس قوم نے اپنی عورتوں کی عزت کی، وہ عزت پاتی رہی، اور جس نے انہیں نظر انداز کیا، وہ خود بھی تاریخ کے اندھیروں میں گم ہو گئی۔آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم عورت کو نعروں سے نہیں بلکہ عمل سے عزت دیں، کیونکہ ایک باوقار عورت ہی ایک باوقار معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔

عورت: تاریخ کے ہر روشن باب کی معمار

امیر العظیم بہت یاد آﺅ گے

عورت: تاریخ کے ہر روشن باب کی معمار

پانی ، نعمت بھی ، ذمہ داری

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے