#کالم

عوام کی بے بسی اور حکمرانوں کی بے حسی

mirza rizwan

مرزا رضوان

صبح کا سورج طلوع ہوتے ہی کروڑوں انسانوں کی آنکھیں ایک ہی خوفناک سوال کے ساتھ کھلتی ہیں: "آج کے دن کے دو وقت کی روٹی کا انتظام کیسے ہوگا؟” یہ وہ سوال ہے جو آج پاکستان کے عام شہری کے اعصاب پر ہتھوڑے کی طرح برس رہا ہے۔ ملک میں حکمرانوں کی کمی نہیں، وزرائ ، مشیروں اور ایوان اقتدار کے مکینوں کی طویل قطاریں ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس پورے نظام میں ایک بھی ایسا "مسیحا” یا مدبر موجود نہیں جو اس غریب عوام کو مشکلات کے اس گرداب سے باہر نکال سکے؟آج کا المیہ یہ ہے کہ سیاست اقتدار کی جنگ بن چکی ہے، اور اس جنگ میں سب سے بڑی قربانی عام آدمی کی عزتِ نفس اور اس کے بنیادی حقوق کی دی جا رہی ہے۔گزشتہ چند سالوں سے معاشی بدحالی، مہنگائی کے جنون اور بے روزگاری نے متوسط اور غریب طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ آٹا، چینی، گھی، ادویات اور بجلی کے بل اب عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور ہو چکے ہیں۔ حالت یہ ہے کہ غریب باپ اپنے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانے سے قاصر ہے، اور یہ بے بسی انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔جب ریاست اپنے شہریوں کو روٹی، کپڑا، مکان، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے، تو عوام کا ریاست پر سے اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے سیاستدانوں اور پالیسی سازوں کے پاس اس کا کوئی حل نہیں؟یہ کہنا غلط ہوگا کہ ہمارے ملک میں تجربہ کار لوگوں یا ماہرینِ معیشت کی کمی ہے۔ یہاں بڑی بڑی ڈگریوں والے، نامور معیشت دان اور طویل سیاسی تجربہ رکھنے والے چہرے موجود ہیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ تجربہ عوامی فلاح کے بجائے ذاتی مفادات، سیاسی جوڑ توڑ اور اقتدار کے بقا کی جنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔جب بھی اقتدار کی میز پر بیٹھنے کا موقع ملتا ہے، طویل المدتی اصلاحات کے بجائے وقتی اور نمائشی اقدامات پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ سستے نعرے اور وعدے تو ہر انتخاب سے پہلے دہرائے جاتے ہیں، لیکن عملی طور پر عام آدمی کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے کوئی سنجیدہ اور پائیدار حکمتِ عملی نظر نہیں آتی،پاکستان کی عوام کو کسی معجزے کی نہیں، بلکہ ایک ایسی مدبرانہ قیادت کی ضرورت ہے جو دردِ دل رکھتی ہو، جو یہ سمجھے کہ ایک محنت کش کے لیے عزت کی روٹی کتنی قیمتی ہے۔ معاشی پالیسیوں کا مرکز اشرافیہ نہیں بلکہ عام آدمی ہونا چاہیے۔ ٹیکسوں کا بوجھ غریب پر ڈالنے کے بجائے مراعات یافتہ طبقے کو کٹہرے میں لانا ہوگا۔ زراعت، صنعت اور چھوٹے پیمانے پر کاروبار کو فروغ دے کر نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازے کھولنا ہوں گے۔ بنیادی اشیائ ِ خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت اور موثر انتظامی میکانزم بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔حکمران آتے ہیں، اپنے دور اقتدار کے قصے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، لیکن عوام کی تقدیر وہیں کی وہیں رہ جاتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ایوانوں میں بیٹھے تمام سیاستدان اپنی ذاتی اور جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سوچیں ورنہ تاریخ ان کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ عام آدمی کو سیاسی نعروں کی نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ وہ صبح اٹھ کر اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں پرامید ہو سکے، نہ کہ دو وقت کی روٹی کے حصول کی فکر میں گھلتا رہے۔

عوام کی بے بسی اور حکمرانوں کی بے حسی

پانی پرجوش اور ہم

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے