#کالم

آج کا درست انتخاب،کل کی محفوظ زندگی

nadia tubsum

نادیہ تبسم

پنجاب میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی، سنگل یوز پلاسٹک کے بے دریغ اور غیر ذمہ دارانہ استعمال، اور اس کے نتیجے میں عوامی صحت، نکاسی آب کے نظام، زرعی زمینوں اور آبی حیات پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے پیش نظر صوبائی سطح پر ایک جامع، مربوط اور طویل المدتی حکمتِ عملی کے تحت عملی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب فوڈ اتھارٹی اور محکمہ تحفظ ماحول پنجاب نے گزشتہ چند روز قبل مشترکہ طور پر سنگل یوز پلاسٹک کے خاتمے کے لیے صوبہ بھر میں ایک منظم آپریشن، سخت ریگولیٹری مانیٹرنگ اور وسیع البنیاد آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد نہ صرف قانون پر م¶ثر اور یکساں عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے بلکہ معاشرے میں ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دینا اور کاروباری طبقے میں پائیدار ماحولیاتی رویوں کو مضبوط کرنا بھی ہے۔یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے“گرین پنجاب”وژن کے تحت ایک کلیدی اوردور رس اثرات کا حامل سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس کا ہدف پنجاب کو ایک صاف، سرسبز، صحت مند اور ماحولیاتی طور پر پائیدار صوبہ بنانا ہے۔ اس وژن کے تحت حکومت پنجاب نہ صرف آلودگی میں کمی کے لیے عملی اور م¶ثر اقدامات پر عمل پیرا ہے بلکہ عوامی صحت کے تحفظ، قدرتی وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور بہتر ماحول کی فراہمی کو بھی اپنی بنیادی ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے۔اس سلسلے میں دونوں ادارے صوبہ بھر میں مشترکہ انسپیکشنز، آگاہی مہمات اور قانون پر عملدرآمد کے ذریعے پلاسٹک آلودگی کے خلاف م¶ثر اقدامات کریں گے۔ پنجاب بھر کے ریسٹورنٹس، بیکریز، کیفیز، فوڈ چینز، کیٹرنگ یونٹس، سپر مارکیٹس اور دیگر فوڈ بزنسز کی مشترکہ انسپیکشنز کی جائیں گی۔ خصوصی طور پر ان اضلاع پر زیادہ توجہ مرکوز ہو گی ،جہاں سنگل یوز پلاسٹک بیگز، سٹراز، ڈسپوزایبل کپ، پلیٹس اور پلاسٹک کٹلری کا استعمال سب سے زیادہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ مشترکہ ٹیمیں نہ صرف قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گی بلکہ کاروباری اداروں کو ماحول دوست متبادل اختیار کرنے کی ترغیب بھی دیں گی۔جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ تحفظ ماحول پنجاب کی ٹیمیں ای بائیکس اور ایکو واچ ایپ کے ذریعے فیلڈ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم رپورٹنگ انجام دیں گی۔ اس ڈیجیٹل نظام سے کارروائیوں میں شفافیت، م¶ثر نگرانی اور فوری ردعمل کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ صوبہ بھر میں ہونے والی سرگرمیوں کا مرکزی ریکارڈ بھی مرتب کیا جائے گا۔ڈائریکٹر جنرل ماحولیات پنجاب ڈاکٹر عمران حامد شیخ نے تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سنگل یوز پلاسٹک بظاہر ایک معمولی سہولت معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ماحول، قدرتی وسائل اور انسانی صحت کے لیے ایک خاموش خطرہ ہے۔ پلاسٹک فضلہ برسوں تک ختم نہیں ہوتا، زمین اور آبی ذخائر کو آلودہ کرتا ہے اور بالآخر مائیکرو پلاسٹک کی صورت میں انسانی خوراک کا حصہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج ہم نے اپنی عادات تبدیل نہ کیں تو آنے والی نسلوں کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پلاسٹک بیگز، سٹراز اور ڈسپوزایبل اشیاءکے استعمال کو ترک کریں اور کپڑے کے تھیلوں، کاغذی پیکنگ اور دیگر قابلِ استعمال ماحول دوست متبادل کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تحفظ ایک مشترکہ ذمہ داری ہے جس میں ہر فرد کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔دوسری جانب تقریب میں خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ محفوظ خوراک کا تصور صرف خوراک کے معیار اور حفظانِ صحت تک محدود نہیں بلکہ اس کی پیکنگ اور پیشکش میں استعمال ہونے والا مواد بھی عوامی صحت پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی ایسے اقدامات کی بھرپور حمایت کرتی ہے جو محفوظ خوراک کے ساتھ ساتھ محفوظ ماحول کے فروغ کا باعث بنیں۔انہوں نے مزید کہا کہ فوڈ سیکٹر میں سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال میں کمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ریسٹورنٹس، بیکریز اور دیگر فوڈ بزنسز کو ماحول دوست اور قابلِ ری سائیکل متبادل اختیار کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ خوراک کی حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ کے مشترکہ مقاصد حاصل کیے جا سکیں۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی اپنے ریگولیٹری کردار کے ساتھ ساتھ فوڈ بزنس آپریٹرز میں شعور اجاگر کرنے کے لیے بھی مختلف اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ تحفظ ماحول پنجاب کے ساتھ یہ مشترکہ مہم صرف ایک نفاذی کارروائی نہیں بلکہ ایک وسیع عوامی آگاہی مہم بھی ہے جس کا مقصد معاشرے میں ذمہ دارانہ طرزِ زندگی کو فروغ دینا ہے۔ صاف ماحول اور محفوظ خوراک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور دونوں کے حصول کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔یہ اقدام وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے گرین پنجاب وژن کا عملی مظہر ہے جس کے تحت صوبہ پنجاب کو ماحولیاتی طور پر مستحکم، صحت مند اور پائیدار بنانے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کروائی جا رہی ہیں۔ حکومت پنجاب کی ترجیح ہے کہ ماحولیاتی تحفظ اور عوامی صحت کے شعبوں میں جدید اور م¶ثر پالیسیوں کے ذریعے مثبت تبدیلی لائی جائے۔ سنگل یوز پلاسٹک کے استعمال میں کمی سے ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ نکاسی آب کے نظام میں بہتری ہونے کے ساتھ ساتھ زرعی زمینوں اور آبی حیات کا تحفظ ممکن ہوگا اور عوامی صحت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں پلاسٹک کے متبادل اور ماحول دوست مصنوعات کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔پنجاب فوڈ اتھارٹی اور محکمہ تحفظ ماحول پنجاب نے تمام شہریوں، تاجروں، صنعتکاروں، تعلیمی اداروں، فوڈ بزنس آپریٹرز اور سول سوسائٹی سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ سنگل یوز پلاسٹک کے خاتمے کی اس مہم میں بھرپور تعاون کریں اور ایک صاف، محفوظ، صحت مند اور سرسبز پنجاب کے قیام میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے