عورت، عزت اور معاشرتی ذمہ داری
عتیق انور راجہ
کسی معاشرے کے مہذب یا غیر مہذب ہونے کا اندازہ لگانے کے لیے کسی پیچیدہ سائنسی فارمولے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کا سب سے سادہ اور سچا معیار یہ ہے کہ وہاں خواتین کو کس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ خواتین جو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی صورت میں ہمارے گھروں کی رونق ہیں، اور وہ عام خواتین جن سے ہمارا کوئی خون کا رشتہ نہیں،ان کے لیے ہم کس حد تک محفوظ، باوقار اور ترقی کے سازگار مواقع فراہم کرتے ہیں؟ یہی سوال کسی قوم کے اخلاقی دیوالیہ پن یا اس کی تہذیبی بلندی کا فیصل کن ثبوت ہوتا ہے۔پاکستانی معاشرے کی ساخت عجیب تضادات کا مجموعہ ہے۔ ہم زبانی دعوو¿ں اور جذباتی نعروں میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ہمارے ہاں ماں کے قدموں تلے جنت کی بشارت سنائی جاتی ہے، بہنوں کو خاندان کی غیرت اور آن سمجھا جاتا ہے، اور بیٹیوں کو رحمت کا روپ دے کر سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے۔ لیکن جیسے ہی ان جذباتی نعروں کی پردہ پوشی ہٹتی ہے، تو ایک بھیانک اور ہلا دینے والی حقیقت سامنے آتی ہے۔ ہماری اس نام نہاد احترام کی ثقافت کا سب سے پہلا شکار ‘بیوی’ کا کردار بنتا ہے۔ جس عورت کے ساتھ انسان اپنی پوری زندگی بانٹنے کا عہد کرتا ہے، وہی ہمارے ہاں مزاحیہ لطائف، تضحیک آمیز جملوں اور زہر آلود طنز کا آسان ترین ہدف ہوتی ہے۔ شادی کے ابتدائی سالوں میں بیوی کو گھر کا فرد سمجھنے کے بجائے ایک ‘باہر سے آئی ہوئی عورت’ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے ہر عمل، ہر سوچ اور ہر جذباتی وابستگی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جو عورت اپنا گھر، اپنے رشتے اور اپنا نام چھوڑ کر ایک نئے ماحول میں آتی ہے، اسے اپنے وجود کا ثبوت دینے کے لیے سالہا سال مسلسل ذہنی کرب سے گزرنا پڑتا ہے۔?اس سے بھی زیادہ شرمناک صورتحال وراثت کی تقسیم کے وقت پیدا ہوتی ہے۔ دینِ اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے عورت کو جائیداد میں واضح اور طے شدہ حق دیا تھا، لیکن ہم نے اپنے رسم و رواج اور لالچ کی قربان گاہ پر خدا کے حکم کو بھی قربان کر دیا۔ گاو¿ں اور دیہاتوں میں حالت یہ ہے کہ اگر کوئی بہن یا بیٹی اپنے بھائیوں سے باپ کی چھوڑی ہوئی وراثت میں سے اپنا شرعی حصہ مانگ لے، تو اسے خاندان سے عاق کرنے، تعلقات ختم کرنے اور مرے ہوئے باپ کی روح کو تڑپانے جیسے جذباتی بلیک میلنگ کے ہتھیاروں سے خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ اکثر اوقات حق مانگنے والی بہن کو عمر بھر کے لیے میکے کے دروازے بند ملتے ہیں۔ کیا یہ وہ احترام ہے جس کا ہم ڈھنڈورا پیٹتے ہیں۔?شہروں میں حالات بظاہر کچھ بہتر نظر آتے ہیں۔ تعلیم اور شعور کے پھیلاو¿ کی وجہ سے خواتین کو کام کرنے، پڑھنے اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی کچھ آزادی ملی ہے، لیکن شہروں میں بھی یہ بہتری اب بھی بہت محدود سطح تک ہے۔ ?اسی تسلسل میں ایک اور تاریک اور تلخ حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ جب خواتین اپنی معاشی خودمختاری یا سماجی فلاح کے لیے کسی پرائیویٹ ادارے یا این جی او سے منسلک ہوتی ہیں، تو بظاہر باوقار نظر آنے والے یہ ادارے بعض اوقات ان کے لیے ذہنی شکنجہ بن جاتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جب کوئی خاتون کسی ذاتی مجبوری، پیشہ ورانہ اختلاف یا بہتر مستقبل کی خاطر ان اداروں سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہتی ہے، تو اس کی ماضی کی پیشہ ورانہ تصاویر، دفتری خط و کتابت یا ذاتی میسجز کو ہتھیار بنا کر اسے ہراساں کیا جاتا ہے۔ بلیک میلنگ کا یہ گھناو¿نا کھیل نہ صرف عورت کی تذلیل کا باعث بنتا ہے بلکہ اس کے اعتماد کو بھی مسمار کر دیتا ہے۔باہر نکلنے والی عورت کو آج بھی ہر موڑ پر نظروں کی تپش، ہراسانی اور عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔?اور سب سے بڑا ہولناک سچ تو وہ دلدوز خبریں ہیں جو روز ہمارے اخبارات کی سرخیاں بنتی ہیں۔ پانچ سال کی معصوم بچی سے لے کر ستر سال کی بزرگ خاتون تک، کوئی بھی اس حیوانیت سے محفوظ نہیں ہے۔ جب معصوم کلیوں کو مسل دیا جاتا ہے اور سفید بالوں والی ماو¿ں کی عصمت دری کی خبریں سامنے آتی ہیں، تو گمان ہوتا ہے کہ ہم کسی مہذب معاشرے میں نہیں بلکہ جنگل کے قانون میں سانس لے رہے ہیں۔ یہ واقعات صرف چند مجرموں کی درندگی کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ یہ اس اجتماعی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو عورت کو انسان کے بجائے محض ایک جنس یا کمزور شکار سمجھتی ہے۔ تاہم، اس گھٹن زدہ ماحول میں امید کی ایک روشن کرن یہ ہے کہ اس وقت پنجاب میں حکومتی سطح پر خواتین کے تحفظ اور اداروں کی جوابدہی کے لیے بے مثال اقدامات کیے گئے ہیں۔ سیف سٹی پروجیکٹ اور جدید ہیلپ لائنز کے ذریعے اب کوئی بھی متاثرہ خاتون گھر بیٹھے ایک کلک یا فون کال پر اپنی شکایت درج کروا سکتی ہے، جہاں ان کی شناخت اور راز داری کو مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔?یہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین یا ہراسانی کا شکار ہونے والا کوئی بھی شخص، خوف اور خاموشی کا خول توڑ کر سامنے آئے۔ بلیک میلر کی خاموش تعمیل اس کے حوصلے مزید بلند کرتی ہے، جبکہ قانون کا سہارا لینا اس کے عزائم کو خاک میں ملا دیتا ہے۔ ڈرنے اور گھبرانے کے بجائے فوری طور پر قانونی اور ڈیجیٹل راستے اختیار کرنا ہی اس ذہنی دہشت گردی کا واحد اور حتمی حل ہے۔ہمیں اب خود فریب کے اندھیروں سے باہر نکلنا ہوگا۔ زبانی دعوو¿ں، جذباتی ڈراموں اور دوسرے نعروں کی د±ہائیوں سے معاشرے مہذب نہیں بنتے۔ اگر ہم واقعی ایک زندہ اور باوقار قوم بننا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے گھروں سے شروعات کرنی ہوگی۔ بیوی کو برابری اور عزت کا مقام دینا ہوگا، بیٹیوں اور بہنوں کو ان کا وراثتی حق بغیر مانگے خوشدلی سے دینا ہوگا، اور سڑکوں پر چلتی ہر نا محرم عورت کے لیے ایک محفوظ ماحول بنانا ہوگا۔ جب تک ہم عورت کو محض ایک جذباتی استعارہ سمجھنے کے بجائے ایک آزاد، باوقار اور مساوی انسان تسلیم نہیں کرتے، تب تک تہذیب کا کوئی بھی تمغہ ہمارے سینے پر سچ نہیں بیٹھ سکتا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی منافقت کے خول کو توڑیں اور سچی اخلاقیات کی بنیاد رکھیں۔






