دہلی کا گھیراﺅ، مودی سرکار کی بوکھلاہٹ
اداریہ
بھارتی دارلحکومت کے طلبہ کی جانب سے گھیراو¿ نے مودی سرکار کے چودہ طبق روشن کردیے ہیں تحریک کے پسِ منظر میں چند انڈین حلقے ’پاکستانی‘ اور غیرملکی فنڈنگ سے متعلق الزامات کو بارہا دہرا رہے ہیں لیکن شواہد سامنے نہیں لاسکے۔ان الزامات کے بعد اب دلی پولیس نے یہ کہہ کر کہ ا±س نے پاکستان سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا کے 480 اکاو¿نٹس کی نشاندہی کر کے انھیں بلاک کر دیا ہے اپنی ناکامی پرپردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے تاہم عوام نے کان نہیں دھرا۔یاد رہے کہ دلی میں نوجوانوں کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کو کو کئی رنگ دیے جارہے ہیں۔لیکن حقائق کا مودی سرکار کو بھی بخوبی علم ہے۔دلی میں جاری یہ احتجاج بنیادی طور پر مقابلہ جاتی امتحانات، خصوصاً میڈیکل میں داخلے کے امتحان (نیٹ) میں مبینہ طور پر پرچے لیک ہونے اور بے ضابطگیوں کے خلاف نوجوانوں کے غم و غصے کے نتیجے میں شروع ہوا۔تحریک کے منتظمین اور متعدد آزاد مبصرین کا مو¿قف ہے کہ یہ ایک مکمل طور پر مقامی اور عوامی تحریک ہے، جبکہ حکمران جماعت سے وابستہ بعض رہنما اور دائیں بازو کی تنظیمیں اس کے پسِ پردہ بیرونی مداخلت کا الزام عائد کر رہی ہیں۔دوسری جانب حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بعض رہنماو¿ں نے بھی عوامی بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ احتجاجی سرگرمیوں کے پس منظر میں بیرونی جغرافیائی سیاسی مفادات کارفرما ہو سکتے ہیں۔ا±ن کا کہنا ہے کہ کچھ بیرونی قوتیں مبینہ طور پر انڈیا کی معاشی ترقی کو سست کرنے کے لیے ’تھرڈ پارٹی ایجنٹس‘ پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ غیر ملکی امداد کے ضوابط (ایف سی آر اے) کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی زیر بحث لائے گئے ہیں۔دلی ہائیکورٹ میں داخل کی گئی عرضی میں وانگچک کا بھی ذکر ہے، جنھوں نے طلبا کے حق میں 26 روزہ بھوک ہڑتال کی۔ درخواست میں ان کے بعض غیر ملکی اداروں کے ساتھ مبینہ روابط اور حمایت کی تحقیقات کا مطالبہ بھی شامل ہے۔نوجوانوں کی خود ساختہ تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور اس سے وابستہ طلبا تنظیموں نے پاکستان سمیت بیرونی ممالک کی معاونت جیسے تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔منتظمین کے مطابق یہ تحریک مکمل طور پر نوجوانوں کی جانب سے شروع کی گئی ایک مقامی مہم ہے، جس کی جڑیں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی عوامی بے چینی اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف ردِعمل میں موجود ہیں۔ان کے مطابق نیٹ امتحان سے متاثر ہونے والے 20 لاکھ سے زائد طلبہ کے مستقبل کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش نے اس تحریک کو جنم دیا۔متعدد سیاسی تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ’غیر ملکی سازش‘ کا بیانیہ اکثر مظاہروں کے دوران سامنے آتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ بحران کی بنیادی وجوہات میں امتحانی نظام میں خامیاں، مبینہ پرچہ لیک کے واقعات، نوجوانوں میں بے روزگاری اور پولیس کے رویے سے متعلق شکایات شامل ہیں۔احتجاج کے مرکز جنتر منتر پر کچھ ایسے مناظر نظر آ رہے ہیں جو اس بیانیہ کی نفی کرتے ہیں۔ احتجاج کرنے والے اس طرح کے نعرے لگا رہے ہیں کہ ’جب جب مودی ڈرتا ہے، ہندو مسلم کرتا ہے‘۔بہر حال رات وزیر اعظم مودی نے گذشتہ چار ہفتے سے جاری احتجاج پر ایک ٹویٹ کیا ہے اور امتحانی دھاندلی میں ملوث افراد کو ’سخت سزا‘ دینے کا عہد کیا ہے۔مبصرین کے مطابق احتجاج کے تناظر میں ایک اور بحث بیرونِ ملک ہونے والی یکجہتی ریلیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ نئی دہلی میں پولیس کارروائیوں کے بعد لندن، ایڈنبرا، برلن اور نیویارک سمیت مختلف بین الاقوامی شہروں میں مقیم انڈین طلبا اور پیشہ ور افراد نے احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں منعقد کیں۔تنظیم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمیاں صرف عالمی یکجہتی اور حمایت کی مثال ہیں، جبکہ ناقدین بعض اوقات انھی اجتماعات کو بیرونی اثر و رسوخ کی دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔اب تک کی مشترکہ رائے جو سامنے آئی ہے اسکے مطابق تحریک مکمل طور پر نوجوانوں کی جانب سے شروع کی گئی ایک مقامی مہم ہے، جس کی جڑیں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی عوامی بے چینی اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف ردِعمل میں موجود ہیں۔ان کے مطابق نیٹ امتحان سے متاثر ہونے والے 20 لاکھ سے زائد طلبہ کے مستقبل کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش نے اس تحریک کو جنم دیا۔متعدد سیاسی تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ’غیر ملکی سازش‘ کا بیانیہ اکثر مظاہروں کے دوران سامنے آتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ بحران کی بنیادی وجوہات میں امتحانی نظام میں خامیاں، مبینہ پرچہ لیک کے واقعات، نوجوانوں میں بے روزگاری اور پولیس کے رویے سے متعلق شکایات شامل ہیں۔






