#کالم

امن کی آبیاری، شدت پسندی کا خاتمہ

Untitlfgfdgfged 1

ڈاکٹر ذاکر اللہ خان

پاکستان اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں عدم برداشت، نفرت انگیز تقاریر، ہجوم کے ہاتھوں تشدد، فرقہ واریت، سیاسی تقسیم اور سوشل میڈیا پر انتہا پسندانہ بیانیے تیزی سے معاشرتی رویوں کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ہر نفرت آمیز رویہ دہشت گردی میں تبدیل نہیں ہوتا، لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ انتہا پسندی اچانک جنم نہیں لیتی بلکہ یہ تعصب، نفرت، گمراہ کن بیانیوں اور سماجی بے حسی کے مسلسل فروغ کا نتیجہ ہوتی ہے۔ مذہبی منافرت، ہجوم کے تشدد، سیاسی عدم برداشت اور آن لائن انتہا پسندی کا ہر واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ شدت پسندی سب سے پہلے ایک سماجی مسئلہ ہوتی ہے، بعد میں سکیورٹی کا مسئلہ بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان صرف شدت پسند عناصر کو قابو کرنے کی حکمت عملی تک محدود نہ رہے بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تشکیل پر توجہ دے جہاں برداشت، تنقیدی سوچ، سماجی ہم آہنگی اور جمہوری اقدار کو فروغ دیا جائے۔گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف زیادہ تر "کنٹرول اپروچ” اختیار کی۔ آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحے کے بعد قومی ایکشن پلان تشکیل دیا گیا جبکہ ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے فوجی آپریشنز نے دہشت گرد تنظیموں کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا اور کئی متاثرہ علاقوں میں ریاستی عمل داری بحال کی۔ ان کامیابیوں سے انکار ممکن نہیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شدت پسندی صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ تعلیم، سماجی رویوں، نفسیات، ابلاغ اور معیشت سے جڑا ہوا ایک پیچیدہ چیلنج ہے۔ شدت پسندوں کو گرفتار یا ہلاک کرنا وقتی خطرات کو تو کم کر سکتا ہے، مگر ان نظریات، محرومیوں اور سماجی عوامل کا خاتمہ نہیں کرتا جو نئی نسل کو انتہا پسندی کی طرف دھکیلتے ہیں۔دنیا بھر میں انسدادِ شدت پسندی پر ہونے والی جدید تحقیق اب اس بات پر زور دیتی ہے کہ ردعمل سے زیادہ مو¿ثر حکمت عملی پیش بندی ہے۔ جن ممالک نے تعلیم، نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں، کمیونٹی کی شمولیت، ڈیجیٹل خواندگی، ذمہ دار مذہبی بیانیے اور معاشی مواقع پر سرمایہ کاری کی، وہاں پائیدار امن کے بہتر نتائج سامنے آئے۔ پاکستان نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے حال ہی میں نیشنل پریوینشن آف وائلنٹ ایکسٹریمزم (NPVE) پالیسی متعارف کرائی ہے، جس کا مقصد صرف دہشت گردی کا مقابلہ کرنا نہیں بلکہ ایسے سماجی حالات پیدا کرنا ہے جن میں شدت پسند سوچ پنپ ہی نہ سکے۔وفاقی سطح پر نیشنل کاو¿نٹر ٹیررازم اتھارٹی (NACTA) اس حکمت عملی کا مرکزی ادارہ ہے۔ نیکٹا صرف انٹیلی جنس اداروں کے درمیان رابطہ کار ہی نہیں بلکہ تحقیق، پالیسی سازی، قومی ایکشن پلان کی نگرانی، عوامی آگاہی، اسٹریٹجک کمیونیکیشن اور انسدادِ شدت پسندی کے اقدامات کا بھی ذمہ دار ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں نیکٹا نے جامعات، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھایا، تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دیا، نوجوانوں کی شمولیت کے پروگرام شروع کیے اور شدت پسندی کی روک تھام کے لیے نئی پالیسی متعارف کرائی۔ یہ اقدامات اس بات کا اشارہ ہیں کہ پاکستان محض دہشت گردی کے خلاف جنگ سے آگے بڑھ کر شدت پسندی کی وجوہات کے خاتمے کی طرف بھی متوجہ ہو رہا ہے۔اس کے باوجود نیکٹا کو کئی سنجیدہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان مو¿ثر ہم آہنگی کا فقدان، محدود مالی وسائل، افرادی قوت کی کمی اور مختلف اداروں کے اختیارات میں باہمی تداخل اس کی کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں۔ اس کی متعدد پالیسیاں کاغذوں تک محدود رہ جاتی ہیں کیونکہ ان پر عملدرآمد کا انحصار صوبائی حکومتوں پر ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ عام شہری آج بھی نیکٹا کے احتیاطی اور تحقیقی کردار سے زیادہ واقف نہیں، حالانکہ شدت پسندی کا مقابلہ صرف ریاستی ادارے نہیں بلکہ پوری سوسائٹی مل کر ہی کر سکتی ہے۔پنجاب حکومت نے بھی سنٹر آف ایکسیلنس آن کاو¿نٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم قائم کر کے ایک اہم پیش رفت کی ہے، جسے حال ہی میں خودمختار قانونی حیثیت دی گئی ہے۔ اس ادارے کا مقصد صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت نہیں بلکہ تحقیق، تربیت، پالیسی سازی، مو¿ثر ابلاغ اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ اس کا بنیادی تصور یہ ہے کہ انتہا پسندی کا آغاز پولیس کی فائلوں میں نہیں بلکہ معاشرے، تعلیمی اداروں، خاندانوں اور آن لائن دنیا میں ہوتا ہے، اس لیے اس کا حل بھی وہیں تلاش کرنا ہوگا۔تاہم یہ ادارہ بھی ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ اس کی زیادہ تر توجہ ادارہ جاتی ڈھانچے کی تشکیل، مختلف فریقوں کے درمیان روابط اور پالیسی سازی پر رہی ہے، جبکہ اس کے عملی نتائج کا جامع اندازہ لگانے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ ویسے بھی شدت پسندی کی روک تھام کی کامیابی کا پیمانہ گرفتار افراد کی تعداد نہیں بلکہ ایسے واقعات کا نہ ہونا ہے جو پیش آ سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ برداشت، سماجی اعتماد اور نظریاتی مزاحمت جیسے پہلوو¿ں کی پیمائش نسبتاً مشکل ہوتی ہے۔پاکستان کا تعلیمی نظام بھی اس مسئلے کا ایک اہم پہلو ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے زیادہ تر امتحانات اور نمبروں پر توجہ دیتے ہیں جبکہ شہری شعور، تنقیدی سوچ، میڈیا لٹریسی، اختلافِ رائے کا احترام اور تنازعات کے پرامن حل جیسی صلاحیتوں کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کی آج ضرورت ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا نے شدت پسندی کی نوعیت کو یکسر بدل دیا ہے۔ آج انتہا پسند تنظیمیں خفیہ میسجنگ ایپس، سوشل میڈیا الگورتھمز اور آن لائن پروپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں صرف نگرانی کافی نہیں بلکہ شہریوں میں ڈیجیٹل شعور اور تنقیدی صلاحیت پیدا کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔معاشی مشکلات اور سیاسی تقسیم بھی شدت پسندی کو تقویت دیتی ہیں۔ غربت بذاتِ خود دہشت گرد پیدا نہیں کرتی، لیکن بے روزگاری، محرومی اور مواقع کی کمی نوجوانوں کو انتہا پسند گروہوں کے لیے آسان ہدف بنا دیتی ہے۔ پاکستان کی نوجوان آبادی ایک بہت بڑا سرمایہ بھی ہے اور ایک بڑا چیلنج بھی۔ اگر انہیں معیاری تعلیم، روزگار اور فیصلہ سازی میں کردار ملا تو یہی نوجوان امن کے سب سے بڑے سفیر بن سکتے ہیں، لیکن اگر انہیں نظرانداز کیا گیا تو شدت پسند بیانیے ان کے لیے زیادہ پرکشش ثابت ہو سکتے ہیں۔میڈیا کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دہشت گردی کے واقعات کی رپورٹنگ ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ امن، بین المذاہب ہم آہنگی، نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں، کامیاب بحالی پروگراموں اور سماجی ہم آہنگی کی مثالوں کو بھی نمایاں کرنا ہوگا۔ صحافت کا مقصد صرف بحرانوں کی نشاندہی نہیں بلکہ ایسے مثبت رجحانات کو فروغ دینا بھی ہونا چاہیے جو معاشرے میں اعتماد اور برداشت کو مضبوط کریں۔پاکستان کے پاس اس وقت ایک بہتر موقع موجود ہے کہ وہ شدت پسندی کے خلاف اپنی حکمت عملی کو نئے انداز میں تشکیل دے۔ نیکٹا، پنجاب کا سنٹر آف ایکسیلنس، جامعات، سول سوسائٹی، مذہبی قیادت اور میڈیا اگر مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو شدت پسندی کی بنیادی وجوہات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم سرحدی کشیدگی، فرقہ وارانہ تنازعات، سیاسی عدم استحکام، آن لائن انتہا پسندی اور معاشی دباو¿ جیسے عوامل اب بھی بڑے خطرات ہیں۔ اگر حکومتوں کی ترجیحات بدلتی رہیں اور ادارہ جاتی تسلسل برقرار نہ رہا تو یہ تمام کوششیں وقتی منصوبوں تک محدود رہ جائیں گی۔پاکستان کے تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے طاقت کا استعمال ضروری ضرور ہے، لیکن دیرپا امن صرف طاقت سے قائم نہیں کیا جا سکتا۔ قانون جرائم کی سزا دے سکتا ہے، مگر برداشت، رواداری، ہمدردی اور ذمہ دار شہری ہونے کا شعور پیدا نہیں کر سکتا۔ یہ ذمہ داری خاندان، تعلیمی اداروں، مذہبی قیادت، میڈیا، سول سوسائٹی اور ریاستی اداروں سب پر یکساں عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم شدت پسندی کو جڑ سے ختم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف تشدد کو روکنے کی نہیں بلکہ امن، برداشت اور مثبت سوچ کو پروان چڑھانے کی قومی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو محض شدت پسندی کا مقابلہ کرنے سے آگے بڑھا کر ایک پ±رامن، مستحکم اور ہم آہنگ معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے