کیا رانجھا جانگلی تھا؟
عبدالقادر مشتاق
زمانہ عجیب موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے۔ ایک طرف مہنگائی کی چکی میں پستا ہوا انسان، دوسری طرف ٹیکنالوجی کی چکاچوند، کہیں جنگوں کا دھواں، کہیں ترقی کے دعوے، اور ان سب کے درمیان اگر کوئی رانجھے کا ذکر چھیڑ دے تو لوگ حیرت سے دیکھنے لگتے ہیں، جیسے کسی نے شیشے کے جنگل میں بانسری بجا دی ہو۔ ہمارے ایک دوست، راو¿ سہیل صاحب، ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہیں۔ ان کے ایک کولیگ نے کہا، "میں آپ کے موبائل پر ایک پیغام بھیج رہا ہوں، مگر یقین ہے اسے پڑھ کر آپ مجھے خوب گالیاں دیں گے۔” راو¿ صاحب مسکرائے اور بولے، "پھر میں یہ پیغام باہر جا کر پڑھوں گا، تاکہ کم از کم تمہارے سامنے تمہیں گالیاں نہ دوں۔” بس یہی گزارش ہے کہ اس تحریر کو بھی آخر تک پڑھیے۔ ممکن ہے اختتام پر سوال وہ نہ رہے جو ابتدا میں تھا۔ آخر کیا رانجھا واقعی جانگلی تھا؟ یہ سوال کسی لوک داستان کے ایک کردار کا نہیں، بلکہ ہمارے عہد کے ضمیر کا سوال ہے۔ ہم نے تہذیب کی تعریف بڑی عجیب کر لی ہے۔ جو ہجوم کے ساتھ بہہ جائے، وہ مہذب۔ جو سوال کرے، وہ باغی۔ جو سچ کہے، وہ نادان۔ اور جو محبت کرے، وہ دیوانہ۔ رانجھا شاید اسی جرم میں گرفتار ہوا تھا۔ اس نے جاگیر کی دیواروں سے زیادہ دل کی دھڑکن پر یقین کیا۔ اس نے نسب، دولت اور سماجی مرتبے کے ترازو کو ایک طرف رکھ کر محبت کا پلڑا تھام لیا۔ معاشرہ ایسے لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرتا، کیونکہ محبت ہر ا±س نظام کے لیے خطرہ ہوتی ہے جو مفاد پر قائم ہو۔ ہم اسے جانگلی کہتے ہیں۔ مگر کبھی سوچا کہ جنگل آخر ہے کہاں؟ کیا جنگل صرف وہاں ہے جہاں درخت بے شمار ہوں؟ یا وہاں بھی ہے جہاں چہروں پر مسکراہٹیں اور دلوں میں نفرت اگتی ہو؟ جہاں رشتے قیمت دیکھ کر بنتے ہوں، جہاں سچ بولنے سے پہلے نقصان کا حساب لگایا جائے، جہاں وفا کو سادگی اور خلوص کو کمزوری سمجھا جائے؟ اگر یہی شہر ہے تو جنگل کس کو کہیں گے؟ رانجھا جنگل میں اس لیے نہیں گیا تھا کہ اسے درخت انسانوں سے زیادہ عزیز تھے۔ وہ اس لیے گیا کہ انسانوں کے درمیان اسے انسانیت نہ ملی۔ کبھی کبھی درختوں کی خاموشی انسانوں کی گفتگو سے زیادہ سچی ہوتی ہے۔ دریا کبھی دوغلا پن نہیں سیکھتے، پہاڑ چاپلوسی نہیں کرتے، اور ہوا کسی کا چہرہ دیکھ کر اپنا رخ نہیں بدلتی۔ شاید اسی لیے فطرت آج بھی انسان سے زیادہ مہذب ہے۔ آج ہر شخص کسی نہ کسی شکل میں رانجھا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ رانجھا بانسری بجا کر اپنا دکھ بیان کرتا تھا، اور ہم سوشل میڈیا پر مسکراہٹوں کی تصویریں لگا کر اپنی اداسی چھپاتے ہیں۔اس زمانے میں جنگل تنہائی دیتا تھا، اس زمانے میں ہجوم تنہائی دیتا ہے۔ رانجھا صرف ہیر کا عاشق نہیں تھا، وہ اپنے آپ کی تلاش میں نکلا ہوا ایک مسافر بھی تھا۔ عشق نے اس کے قدموں کو راستہ دکھایا، اور راستے نے اسے ذات کی دہلیز سے اٹھا کر حقیقت کے دروازے تک پہنچا دیا۔ اسی لیے صوفیا نے رانجھے کو ایک انسان نہیں، ایک مقام کہا۔ بابا بلھے شاہ نے جب کہا: رانجھا رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوئی” تو وہ کسی شخص کا نام نہیں لے رہے تھے، وہ اپنے اندر کے "میں” کو دفن کر رہے تھے۔ جب "میں” مر جاتی ہے تو محبت جنم لیتی ہے، اور جب محبت جنم لیتی ہے تو انسان خود سے بڑا ہو جاتا ہے۔ رانجھا دراصل ایک نام نہیں، ایک کیفیت ہے۔ وہ کیفیت جس میں انسان نفرت کے جواب میں محبت بانٹتا ہے، ظلم کے مقابلے میں صبر اختیار کرتا ہے، اور مفاد کے بازار میں بھی اپنے ضمیر کی قیمت نہیں لگنے دیتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ آج ہماری کامیابی کا معیار بدل گیا ہے۔ اب جھوٹ بولنے والا ذہین، چاپلوسی کرنے والا سمجھدار، اور سچ بولنے والا بے وقوف سمجھا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی رانجھا پیدا ہو جائے تو اسے جانگلی ہی کہا جائے گا، کیونکہ وہ اس مصنوعی تہذیب کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے سے انکار کر دیتا ہے۔ شاید اصل سوال کبھی یہ تھا ہی نہیں کہ رانجھا جانگلی تھا یا نہیں۔اصل سوال تو یہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے اپنی تہذیب کے نام پر ایک ایسا جنگل آباد کر لیا ہے، جہاں درندے انسانوں کے لباس میں رہتے ہیں اور محبت کرنے والے اجنبی قرار دیے جاتے ہیں؟ مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ رانجھا کبھی جانگلی نہیں تھا۔ وہ تو شاید اس عہد کا سب سے مہذب انسان تھا، کیونکہ اس نے محبت کو نفرت پر، وفا کو مفاد پر، اور سچائی کو ریاکاری پر ترجیح دی۔ اگر محبت میں دیوانگی، سچائی میں نقصان، اور وفا میں تنہائی ہی جانگلی پن ہے، تو پھر اس زمین کو آج پہلے سے کہیں زیادہ رانجھوں کی ضرورت ہے۔ کیونکہ تہذیب عمارتوں سے نہیں، انسانوں سے بنتی ہے۔ اور جب انسان محبت کھو دے تو شہر بھی جنگل بن جاتے ہیں۔






