#کالم

داتا گنج بخش کا عرس، زائرین کی روایات اور انتظامیہ کی ذمہ داریاں

WhatsApp Image 2025 10 21 at 23.56.49

محمد ندیم بھٹی

حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ، مبلغِ اسلام اور شہر آفاق کتاب کشف المحجوب کے مصنف ہیں۔ آپ کی تعلیمات محبت، برداشت، اخوت، رواداری، خدمتِ خلق اور انسان دوستی کا عملی نمونہ ہیں۔ یہی وجہ ھے کہ ہر سال آپ کے سالانہ عرس کے موقع پر ملک بھر سے لاکھوں عقیدت مند لاھور کا رخ کرتے ہیں۔ یہ روحانی اجتماع صرف ایک مذہبی تقریب نہیں بلکہ پاکستان کی صوفیانہ تہذیب، ثقافت، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی ایک خوبصورت علامت بھی ھے۔عرس کے ایام میں پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف شہروں اور دیہات سے قافلے داتا دربار پہنچتے ہیں۔ ان قافلوں میں خواتین، بچے، بزرگ، نوجوان، علمائ ، مشائخ، درویش اور مختلف خانقاھوں سے وابستہ افراد شامل ھوتے ہیں۔ ان کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ھوتی ھے کہ وہ صرف اپنی عبادت کے لیے نہیں آتے بلکہ دوسرے زائرین کی خدمت کو بھی عبادت سمجھتے ہیں۔کئی دہائیوں سے یہ روایت چلی آ رھی ھے کہ زائرین اپنے ذاتی وسائل سے داتا دربار کے اطراف سبیلیں لگاتے ہیں، ٹھنڈا پانی، مشروبات، دودھ، شربت اور چائے تقسیم کرتے ہیں۔ اسی طرح بے شمار افراد اپنی استطاعت کے مطابق لنگر کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہزاروں مسافروں اور مستحق افراد کو مفت کھانا فراہم کیا جاتا ھے۔ بہت سے خاندان اپنے بچوں سمیت دو سے تین روز تک قیام کرتے ہیں اور شب و روز خدمتِ خلق میں مصروف رہتے ہیں۔ یہی وہ مناظر ہیں جو داتا گنج بخش کے عرس کو منفرد بناتے ہیں۔داتا گنج بخش کا عرس پاکستان کے ان چند مذہبی اجتماعات میں شامل ھے جہاں فرقہ، زبان، نسل، قومیت اور معاشرتی حیثیت کی تمام تقسیمیں ختم ھو جاتی ہیں۔ یہاں کوئی امیر یا غریب نہیں رہتا بلکہ ہر شخص صرف ایک زائر اور عاشقِ داتا ھوتا ھے۔ یہی وہ روحانی مساوات ھے جس نے صدیوں سے اس دربار کو محبت، بھائی چارے اور انسانیت کا مرکز بنا رکھا ھے۔اس سال داتا دربار کے اطراف جاری تعمیراتی کام نے ان روایتی سرگرمیوں کے حوالے سے زائرین میں تشویش پیدا کر دی ھے۔ زائرین کا کہنا ھے کہ اگر پہلے کی طرح انہیں قیام، سبیلوں اور لنگر کے لیے مناسب جگہ نہ ملی تو وہ اپنی برسوں پرانی روایت کو جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ ان کا مو¿قف ھے کہ یہ صرف انفرادی خدمت نہیں بلکہ ایک اجتماعی فلاحی نظام ھے جس سے ہر سال لاکھوں افراد مستفید ھوتے ہیں۔ترقیاتی منصوبے ہر شہر کی ضرورت ھوتے ہیں۔ بہتر سڑکیں، جدید انفراسٹرکچر، خوبصورت شہری ماحول اور جدید سہولیات وقت کی اہم ضرورت ہیں، لیکن ایسے منصوبوں پر عملدرآمد کرتے وقت مذہبی اجتماعات اور عوامی روایات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اگر بروقت منصوبہ بندی کی جائے تو ترقیاتی کام بھی جاری رہ سکتے ہیں اور زائرین کو بھی کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ھے کہ داتا دربار کا عرس صرف ایک مذہبی اجتماع نہیں بلکہ لاھور کی معیشت سے بھی جڑا ھوا ایک بڑا ایونٹ ھے۔ ھوٹل، گیسٹ ھاو¿سز، ٹرانسپورٹ، رکشہ ڈرائیور، ٹیکسی سروس، چھوٹے کاروبار، دکاندار، ریڑھی بان، کتاب فروش، تسبیح، جائے نماز، عطر، مذہبی اشیائ اور کھانے پینے کے کاروبار سے وابستہ ہزاروں افراد ان دنوں میں روزگار حاصل کرتے ہیں۔ بہتر انتظامات نہ صرف زائرین کے اطمینان کا باعث بنتے ہیں بلکہ مقامی معیشت کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔اس موقع پر محکمہ اوقاف، ضلعی انتظامیہ، لاھور پولیس، ٹریفک پولیس، ریسکیو 1122، واسا، ایل ڈبلیو ایم سی، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ انہیں چاہیے کہ عرس سے قبل جامع پلان ترتیب دیں، زائرین کے لیے متبادل قیام گاہیں، سبیلوں اور لنگر کے مخصوص زونز، پارکنگ ایریاز اور پیدل راستے واضح کریں تاکہ کسی قسم کی بدنظمی پیدا نہ ھو۔اسی طرح جدید ٹیکنالوجی سے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ھے۔ سی سی ٹی وی نگرانی، ڈیجیٹل معلوماتی بورڈز، ہیلپ لائن، موبائل ایپ، ایمرجنسی الرٹ سسٹم اور رہنمائی مراکز زائرین کی مشکلات میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔ جدید انتظامی نظام سے نہ صرف رش کو بہتر انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ھے بلکہ ہنگامی صورتحال سے بھی مو¿ثر انداز میں نمٹا جا سکتا ھے۔سکیورٹی کے جدید انتظامات بھی ناگزیر ہیں۔ واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز، بم ڈسپوزل اسکواڈ، ایلیٹ فورس، سادہ لباس اہلکار، طبی کیمپ، ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں اور گمشدہ افراد کے مراکز مکمل طور پر فعال ھونے چاہئیں۔ لاکھوں افراد کے اجتماع میں معمولی غفلت بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ھے، اس لیے پیشگی منصوبہ بندی انتہائی ضروری ھے۔صفائی کے انتظامات بھی خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔ بروقت کوڑا کرکٹ اٹھانا، صاف پانی کی فراہمی، موبائل واش رومز، جراثیم کش اسپرے، نکاسی آب اور خواتین و بزرگ زائرین کے لیے الگ سہولیات ہر صورت یقینی بنائی جانی چاہئیں تاکہ زائرین کو صحت مند ماحول میسر آ سکے۔میرے مطابق۔ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کو چاہیے کہ وہ صرف مسائل کی نشاندھی ھی نہ کریں بلکہ زائرین کی رہنمائی، صفائی، ٹریفک قوانین، سکیورٹی ہدایات اور خدمتِ خلق کے مثبت پہلوو¿ں کو بھی اجاگر کریں تاکہ عوام میں ذمہ داری کا احساس پیدا ھو۔فلاحی تنظیموں، مخیر حضرات، رضاکاروں اور سماجی اداروں کو بھی انتظامیہ کے ساتھ مربوط انداز میں کام کرنا چاہیے۔ اگر سبیلوں، لنگر، طبی امداد، رہنمائی مراکز اور دیگر خدمات کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت چلایا جائے تو وسائل کا بہتر استعمال ممکن ھوگا اور زائرین کو زیادہ سہولت ملے گی۔انتظامیہ کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ عرس کے دوران ناجائز منافع خوری، جعلی چندہ مہمات، غیر قانونی پارکنگ فیس، اوورچارجنگ اور زائرین سے دھوکہ دہی کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ ایسے عناصر اس مقدس اجتماع کے تقدس کو متاثر کرتے ہیں اور عوام کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچاتے ہیں۔دوسری جانب زائرین پر بھی ذمہ داری عائد ھوتی ھے کہ وہ قانون کی پاسداری کریں، صفائی کا خیال رکھیں، مقررہ مقامات پر ہی سبیلیں اور لنگر لگائیں، ٹریفک قوانین پر عمل کریں اور سکیورٹی اداروں سے مکمل تعاون کریں۔ مذہبی اجتماعات کی کامیابی صرف انتظامیہ کی نہیں بلکہ عوام کی مشترکہ ذمہ داری بھی ھوتی ھے۔وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے گزارش ھے کہ زائرین کے تحفظات کا فوری نوٹس لیا جائے اور داتا دربار کے اطراف جاری تعمیراتی کام کے باوجود قیام، سبیلوں اور لنگر کے لیے مناسب متبادل جگہیں مختص کی جائیں۔ متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات جاری کی جائیں تاکہ برسوں سے جاری خدمتِ خلق کی یہ عظیم روایت متاثر نہ ھو۔ اگر ضرورت ھو تو زائرین کے نمائندوں، سجادہ نشینوں، علماء ، مشائخ اور سماجی تنظیموں سے مشاورت کر کے ایسا متفقہ لائحہ عمل ترتیب دیا جائے جو سب کے لیے قابلِ قبول ھو۔راقم اپنے آپ کو پہلے ہی نہایت دیانت داری اور اخلاص کے ساتھ محکمہ اوقاف اور وزیراعلیٰ پنجاب کے اس ویڑن کے لیے وقف سمجھتا ھے تاکہ داتا گنج بخش کے عرس کو بہترین، محفوظ، منظم اور مثالی مذہبی اجتماع بنایا جائے۔ میری یہ گزارش چیف منسٹر پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ اور سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ سےصرف ایک صحافی کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ایسے شہری کی حیثیت سے بھی ھے جو داتا گنج بخش کے فیض اور خدمتِ خلق کی روایت کو پاکستان کا قیمتی سرمایہ سمجھتا ھے۔حضرت داتا گنج بخش کی تعلیمات ہمیں انسانیت سے محبت، ایثار، خدمت، برداشت اور رواداری کا درس دیتی ہیں۔ ان کے عرس پر آنے والے لاکھوں زائرین انہی تعلیمات کو عملی شکل دیتے ہیں۔ ریاست اور انتظامیہ کی ذمہ داری ھے کہ وہ ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے، نہ کہ مشکلات۔اگر بروقت منصوبہ بندی، مو¿ثر رابطہ، جدید انتظامات، عوامی تعاون اور خدمتِ خلق کے جذبے کو فروغ دیا جائے تو داتا گنج بخش کا سالانہ عرس نہ صرف روحانی اعتبار سے کامیاب ھوگا بلکہ انتظامی لحاظ سے بھی پورے پاکستان کے لیے ایک مثالی مذہبی اجتماع ثابت ھوگا۔ یہی وہ طرزِ عمل ھے جو پاکستان کی صوفی روایات، بین المذاہب ہم آہنگی، خدمتِ خلق کے جذبے اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کے آفاقی پیغام کا حقیقی احترام ھوگا۔

داتا گنج بخش کا عرس، زائرین کی روایات اور انتظامیہ کی ذمہ داریاں

اکہترویں سالگرہ

داتا گنج بخش کا عرس، زائرین کی روایات اور انتظامیہ کی ذمہ داریاں

کیا رانجھا جانگلی تھا؟

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے