تنازعہ کشمیر ایک بار پھر زیربحث
اداریہ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مو¿ثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ ا±س کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پ±رامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔دنیاکے سامنے پاکستان نے ایک بار پھر بھارت کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور کہا ہے کہ ہے کہ جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہ ہے اور نہ کبھی رہا ہے۔یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل نمائندے رضا بشیر تارڑ نے جنرل اسمبلی میں جواب دینے کا اپنا حق استعمال کرتے ہوئے کہی۔واضح رہے کہ پیر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سڑسٹھویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے کہا تھا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور اقوام متحدہ میں اس مسئلے کو اٹھایا جانا مناسب نہیں ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق اقوام متحدہ میں بھارت کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی تقریر میں جموں وکشمیر کے تنازعے کا حوالہ بلاجواز نہیں تھا جیسا بھارت نے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ صدر زرداری نے جنرل اسمبلی کے خطاب میں اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق کی حمایت جاری رکھے گا۔واضح رہے کہ بھارت نے اپنے بیان میں پاکستان کے صدر کا نام لیے بغیر ان کے خطاب میں کشمیر کا حوالہ دیے جانے کو غلط قرار دیا تھا۔انہوں نے کہا ’اس پلیٹ فارم سے جموں و کشمیر کے حوالے سے نامناسب تنقید کی گئی۔ اس موضوع پر ہمارا اصولی موقف رہا ہے جو سب کو معلوم ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام نے بھارتی جمہوری نظام کے ذریعہ کئی بار اپنے مستقبل کے بارے میں انتخاب کیا ہے۔ ہم یہ بالکل واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے‘۔گزشتہ ہفتے صدر آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنا مستقبل طے کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ نکالا جانا اقوام متحدہ کی ناکامی ظاہر کرتا ہے.بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت، پاکستان کے ساتھ بات چیت کی پھر شروعات کر چکا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر لانے کے لیے قدم بڑھا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتا ہے جس سے خطے میں امن اور ترقی کو فروغ ملے گا۔یاد رہے اقوام متحدہ نے تنازعہ کشمیر کے لئے قراردادیں منظور کیں جن میں کشمیریوں کا حق خود ارادیت تسلیم کیا گیا اور یہ طے ہوا کہ ان کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لئے رائے شماری کا موقع فراہم کیا جائے۔ وزیراعظم نہرو نے اپنے پارلیمنٹ انڈیا اور ریڈیو انڈیا میں خطاب کے دوران اور پاکستانی وزیراعظم لیاقت علی کو بذریعہ خط اور پوری دنیا سے وعدہ کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے فراہم کیا جائے گا۔ دنیا کے سامنے بھارت نے ہمیشہ مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر امن پسند اور مہذب ملک ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ا?ج 78 برس گزرنے کے باوجود بھارت مختلف حیلے بہانوں سے اس سے انکار کرتا چلا ا? رہا ہے اور اب تو ڈھٹائی سے بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ کہتا ہے۔ اس اٹوٹ انگ میں بسنے والے ایک کروڑ کشمیری بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف گذشتہ 71 سالوں سے نبردا?زما ہیں۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کشمیری بھارتی غاصب افواج کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں مگر کشمیر میں بھارت سے ا?زادی کی تحریک ختم نہیں ہو سکی‘ یہ اب بھی جاری ہے۔1947 سے ا?ج تک بھارت کی 7 لاکھ فوج پرامن کشمیریوں کو فتح کرنے پر لگی ہوئی ہے۔ بھارت پروپیگنڈے سے کشمیر کی پرامن جدوجہد کو دہشت گردی ثابت کرنا چاہتا ہے۔ بھارت تو اب کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے اور ا?زادی کی بات کو تو وہ مانتا ہی نہیں۔ محترم مجید نظامی صاحب نے بین الاقوامی TV کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستانی عوام اور کشمیری عوام کی بھرپور نمائندگی کرتے ہوئے واضح الفاظ میںکہا تھا کہ کشمیری عوام ا?زادی تک بھارت سے دوستی نہیں چاہتے۔ بھارت ہمارے دریاو?ں پر قبضہ کر کے ہمیں بنجر اور ریگستان بنانا چاہتا ہے۔ ہمارے بھارت سے تعلقات بہتر کیسے ہوسکتے ہیں۔ مجید نظامی کا یہ پیغام پوری پاکستانی قوم کا پیغام ہے۔ یہ پیغام مسئلہ کشمیر پر ہماری پالیسی ہونی چاہیے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ تنازعہ تین جنگوں کا باعث بن چکا ہے۔ ا?ج بھی کنٹرول لائن پر عملاً جنگی صورتحال جاری ہے۔ ا?زاد کشمیر پر بمباری سے درجنوں سویلین شہید ہو رہے ہیں۔ پاکستان ابھی تک تحمل سے کام لے رہا ہے۔ اگر اقوام متحدہ اور عالمی برادری نے اس مسئلہ کے حل کے لئے جلد از جلد کوئی قدم نہ اٹھایا تو برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان یہ تنازعہ ایٹمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔بھارت اپنی اندھی طاقت کو تحریک ا?زادی کشمیر کو دبانے کیلئے استعمال کررہا ہے۔ بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں جرائم پر عالمی برادری ا?نکھیں کھولے۔ عالمی برادری معاشی اور دیگر مفادات کی خاطر مسئلہ کشمیر پرا? واز نہیں اٹھاتی۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کا کردار زبانی جمع خرچ سے زیادہ نہیں۔ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل چاہتا ہے۔






