دلدل
رشنااختر
بارش کی بوچھاڑ کچے آنگن میں پڑ رہی تھی لیکن بانو کو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہر قطرہ اس کے زخموں پر نمک چھڑک رہا ہو۔ کمرے کے گوشے میں پڑا ہوا پرانا صندوق کھلا تھا بالکل بانو کے نصیب کی طرح۔ وہ ریشمی جوڑا غائب تھا جو اس نے اپنی بیٹی کے جہیز کے لیے سینت سینت کر رکھا تھا۔ناصر نے صرف جوڑا نہیں چرایا تھا اس نے اپنی جوان بیٹی کی آنکھوں کے خواب اور باپ پر سے اس کا بھروسہ بھی چرا لیا تھا۔نشہ ایک ایسا مسافر ہے جو گھر میں مہمان بن کر آتا ہے اور پھر مالک بن کر پورے خاندان کو نکال دیتا ہے۔ ناصر جب پہلی بار سفید پاو¿ڈر کی لپیٹ میں آیا، تو بانو کو لگا کہ یہ ایک عارضی لغزش ہے، مگر اسے کیا معلوم تھا کہ یہ وہ دلدل ہے جس کی کوئی تہہ نہیں۔پہلے گھر کی گھڑی گئی پھر ریڈیو پھر بچوں کی کتابیں اور آخر کار وہ نوبت آئی کہ گھر کی دیواروں سے پلستر نہیں بلکہ غیرت جھڑنے لگی۔ ناصر کی ہڈیاں گوشت چھوڑ چکی تھیں مگر اس کی نشے کی پیاس بڑھتی ہی جا رہی تھی۔اس رات سناٹا بڑا سنگین تھا۔ ناصر جب گھر لوٹا تو اس کے ہاتھ میں کوئی تھیلا نہیں تھا بلکہ ایک عجیب سی وحشت تھی۔بانو کل اصغر صاحب آئیں گے۔ میں نے مکان کے کاغذات ان کے پاس رکھوا دیے ہیں۔اس کی آواز میں ایسی بے حسی تھی جیسے وہ مکان نہیں بلکہ کوئی پرانا جوتا بیچ آیا ہو۔بانو کا جگر کٹ کر رہ گیا۔ ناصر یہ مکان صرف اینٹ پتھر نہیں ہے یہ میرے بچوں کی چھت ہے یہ تمہارے باپ کی نشانی ہے۔ناصر نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور دیوار کا سہارا لے کر بیٹھ گیا۔ نشہ اب خون مانگتا ہے بانو… مکان تو بہت چھوٹی چیز ہے۔کچھ دن بعد جب ساہوکار نے دستک دی تو ناصر وہاں نہیں تھا۔ وہ کسی فٹ پاتھ پر ابدی نیند سو چکا تھا، جہاں اسے اب کسی پڑیا کی ضرورت نہیں تھی۔ بانو اپنے بچوں کے ساتھ گلی کے موڑ پر کھڑی اس گھر کو دیکھ رہی تھی جہاں اس کی جوانی دفن ہوئی تھی۔اس نے مڑ کر اپنے بڑے بیٹے کی طرف دیکھا، جس کی آنکھیں بھی سرخ ہو رہی تھیں۔ بانو کے قدم وہیں جم گئے۔ اسے خوف محسوس ہوا کہ کہیں یہ آگ اس کی اگلی نسل کو بھی اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔ نشہ صرف ایک انسان کو نہیں مارتا وہ نسلوں کا سکون اور خاندانوں کی پہچان مٹا کر انہیں گمنامی کے اندھیروں میں پھینک دیتا ہے۔بانو نے کانپتے ہاتھوں سے اپنے بیٹے کا شانہ جھنجھوڑا مگر اسے لگا جیسے وہ کسی انسان کو نہیں بلکہ ایک لرزتی ہوئی دیوار کو چھو رہی ہے۔ وہی وحشت وہی بے نیازی اور وہی سرخ ڈورے جنہیں وہ برسوں ناصر کی آنکھوں میں دیکھتی آئی تھی۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ کچا آنگن اب ایک گہری دلدل میں بدل چکا ہے جس میں پہلے اس کا سہاگ غرق ہوا پھر اس کی چھت چھن گئی اور اب وہی اندھیرا اس کے آنگن کے آخری چراغ کو نگلنے کے لیے منہ کھولے کھڑا ہے۔ نشہ مرتا نہیں ہے وہ تو بس چہرے بدل کر نسلوں کے تعاقب میں رہتا ہے۔






