اماں
شاھدبخاری
راقم نے 1964ئ میں میٹرک گورنمنٹ ھائی سکول سرگو دھا سے کیا،جہاں کے سب اساتذہ نہایت محنتی،بےلوث اور مخلص تھے،خاص طور پرصوفی ذبیح الللہ اور سید شاہد محسن مرحوم۔ کالج میں ویسے ڈے ڈی۔۔۔۔کیٹڈ اساتذہ نہیں ملے،اس لئیے ایف اے کا امتحان دے کرکچہری چلا گیا۔ڈومیسائل فارم تب ایک آ نے کا ملتاتھا،وہ خود ھی پر کرلیا۔اوتھ کمشنر فاروقی صاحب ،ابا کے دوست تھے،انھوں نے فارم تصدیق کرنے کے دو روپے بھی نھیں لئیے۔ جب گھر گیا تو اماں نے پوچھا،کہاں سے آ رھے ھو؟یہ ھاتھ میں کیا ھے؟ جواب دیا کہ کچہری سے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ بنواکر لارھا ھوں۔پوچھنے لگیں کہ اس کی کیا ضرورت پڑ گئ؟میں نے بتلایا کہ سی۔ٹی۔کلاس میں داخلے کے لئیے یہ فارم کے ساتھ منسلک کرنا ضروری ھو تا ھے۔پو چھنے لگیں(اپنےماموں زاد بھائی) رضا کی طرح ایم۔اے۔ کیوں نہیں کر تا؟ تسلی دی کہ سی۔ٹی کے بعد پرائیویٹ امتحان دے کر کرلوں گا۔ کہنے لگیں اپنے ماموں سرو کی طرح پہلے بی۔اے۔،بی۔ٹی۔کرو،پھر بےشک،ایم۔اے۔پرائیویٹ کر لینا۔ان کی بات مان کر،بی۔ اے۔میں داخلہ لے لیا۔میری اماں کے بچپن میں شاہ آباد میں گرلز پرائمری سکول نہیں تھا۔گھر ھی میں بڑوں سے قرآن پاک ناظرہ پڑھ لینےاور ،اس کا ترجمہ پڑھتے رھنے کا تب رواج تھا، جس کی بدولت گھر میں موجود دینی کتب ورسائل وغیرہ اماں نے پڑھ لیئے۔ھمیں تعلیم کا شوق دلانے کے لئیے،جیسی کہانیاں ،وہ ھمیں رات کو سناتیں،ان میں سے ایک یہ بھی تھی۔ شیطان کا دربار لگا ھوا ھے۔اس کے چیلے اپنی اپنی کار گزاریوں کی رپورٹ سنا رھے ھیں۔ایک نے بتلایا کہ میں نے ایک ایمان دار سر کاری ملازم کو،رشوت خور بنا دیا ھے۔دوسرے نے بتلایا کہ ایک نمازی کو فلم بین بنا دیا ھے۔تیسرے نے بتلایا کہ میں نے ایک آدمی کو نشے پر لگا دیا ھے۔چوتھے نے بتلایا کہ میں نے بھائی بہنوں میں لڑا ئی جھگڑے شروع کروا دئیے ھیں۔پانچویں نے بتلایا کہ میں نے ایک ورکر کو چور بنا دیا ھے۔ چھٹے نے بتلایا کہ ایک آدمی سے میں نے قتل کروا دیا ھے۔یہ سب کچھ سن سن کر،شیطان ھر ایک کو شاباش شاباش کہتا رھا۔آخیر میں ایک چیلے نے کہا کہ میں نے ایک بچے کو جو بستہ گلے میں ڈالے سکو ل جا رھا تھا کو ورغلا کر،سیر سپاٹے پر لگا دیا ھے۔ شیطان اپنے تخت سے اٹھا،اشارے سے اس چیلے کو اپنے پاس بلایا،اسے گلے سے لگایا،اور خوب شاباش دے کر،تخت کے ساتھ والی خالی کرسی پر بٹھالیا۔ باقی چیلوں کے نمائندے نے شکا یت کی کہ دوسروں نے اتنے بڑے بڑے گناہ انسانوں سے کروائے لیکن انھیں دربار میں کرسی تو درکنار ،گلے تک نہ لگایا اور اس لاغر سے چیلے نے ذرا سے بچے کو سکول جانے سے ھٹا دیا تو اس کی آپ نے بہت قدر دانی کی اور اسے اتنا بڑا اعزاز کیوں بخشا؟؟شیطان نے جواب دیاکہ جو سکول سے بھاگ گیا،وہ بچہ جاھل رہ جائے گا اور بری صحبت میں رھنے کی وجہ سے جواری،شرابی کبابی، چور۔ڈاکو۔جھگڑالو،اورآوارہ گرد وغیرہ سب کچھ بن سکتا ھے۔دیکھا،آپ نے اس کہانی میں تعلیم حاصل نہ کر ۔۔۔۔سکنے کے نقصانات و نتائج کتنے موئ ثر طریقے سے ذہن نشین کراد یئے گئیے ھیں۔علاوہ قصے کہانیوں کے راقم کی والدہ کو شاہنامہ اسلام کے دونوں حصے، تقریباً منہ زبانی یاد تھے،میں دیکھ کر جب بھی کہیں غلطی کرتا،وہ فورآ اصلاح کر دیتیں۔ والدہ کا انتقال 22 جولائی 1996ئ میں ھوا،دعائے قل کے بعد ماموں زاد بھائیوں سے پوچھا کہ اماں کا بچپن تو ایک چھوٹے سے قصبے میں گذرا،انہوں نے ھمیں جتنے بھی اسلامی قصے کہانیاں سنائیں،وہ سب بعد ازاں میں نے مستند کتابوں میں پڑھیں تو پروفیسر رضا واسطی نے بتلایا کہ چچا سرفراز جو انسپکٹر مدارس تھے،وہ جو بھی کتب ورسا ئل۔۔۔۔وغیرہ گھر میں لاتے تھے پھوپی کے زیر مطالعہ رھتی تھیں۔ میری دادی اماں بھی سکول ٹیچر تھیں،ان کی کتابیں بھی اماں پڑھتی رھتی تھیں،جن کی بدولت جیسے اچھے اچھے خطوط اور مضامین وغیرہ،اماں نےہمیں لکھوائے ویسے اب مہنگی سے مہنگی کتب میں بھی اب تک نھیں پڑھے۔ ایک اور سبق آموز کہانی سےآپ کو اس بات کا ثبوت مل جائے گا۔ ایک باپ اپنے چھوٹے سے بچے کے ساتھ بازار سے گذر رھا تھا۔راستے میں انہوں نے دیکھا کہ شدید گرمی میں،مزدور سڑک بنا رھے ھیں۔ اوپرآسمان سے سورج آگ برسا رھا ھے۔نیچے تار کول کے پگھلانے کے لئیے آگ دہک رھی ھے اس کی تکلیف دہ تپش میں ایک مزدور گرم گرم ابلتے ھوئے تارکول والا ھینڈ پمپ چلا رھاتھا۔دوسرا مزدور پائیپ پکڑے سڑک پر تار کول پھیلا رھا تھا، کچھ مزدور کٹی ھوئے پتھروں پر جن پر تار کول کا سپرے ھو رھاتھا ،ساتھ ساتھ بجری پھینک رھے تھے،جن پر روڈ رولر چل رھاتھا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر باپ بتلانے لگا کہ یہ سب مزدور وہ لاڈلے بچے ہیں جن سے ان کے والدین بہت زیادہ پیار کرتے تھے۔مارے محبت کے،گر میوں میں سکول نہ بھیجتے کہ کہیں ان کو سن سٹروک نہ ھو جائے۔سردیوں میں بھی اس ڈر کے مارےاکثر چھٹیاں کروا دیتے تھے کہ کہیں انھیں نمونیہ نہ ھو جائے۔سکول میں باقا عد گی سے نہ جانے کی وجہ سے یہ نا لائق رہ گئے اور فیل ھوتے رھنے کی وجہ سے آ ج تک تکلیفیں برداشت کر رھے ھیں اور ان کے بیوی بچوں کی زندگی بھی اجیرن بنی ھوئی ھے۔وہ تھوڑا سا آ گے چلے تو وہ بینک آ گیا جہاں سے انھوں نے رقم نکلوا کر،بجلی کا بل بھی جمع کرواناتھا۔بینک کا سارا سٹاف صاحب ستھرے کپڑے پہنے پنکھوں کے نیچے بیٹھے خاموشی سے اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھا۔انھیں دیکھ کر باپ نے اپنے بیٹے کو سمجھایا کہ یہ وہ بچے ھیں کہ جو اپنے بچپن میں اپنے والدین کو ظالم اور سنگ دل اس لئیے سمجھتے تھے کہ وہ سخت سردی اور گرمی انھیں آرام دہ بستروں سے اٹھا کر سکول بھیج دیتے تھے، جس کا نتیجہ یہ ھے کہ پڑھ لکھ کر وہ بھی عیش و آرام میں ھیں اور ان کے بچے بھی مزے کی زندگی بسر کر رھے ھیں۔۔ مطالعہ کتب کی بدولت اماں نے ھمیں وقت کی ۔۔۔۔پابندی سکھلا ئی، جسمانی اور دماغی تربیت کی اہمیت بتائی۔برد باری کے سبق پڑھائے ،مکارم اخلاق کے آداب بتلائے۔خوف خدا قانون اور مذاھب کا احترام سکھلایا۔۔۔ اماں قانع اور صا بر و شاکر قسم کی خاتون تھیں۔ زمانہئ تنگ دستی میں بھی انھیں کبھی متفکر یا پریشان نھیں دیکھا.1947ئ میں قیام پاکستان کے بعد کے درد ناک حالات و واقعات سناتے ھوئے وہ آزردہ ھو جاتیں لیکن 16 دسمبر 1971ئ کو پاکستان کے دو لخت ھونے پر انھیں آنسو بہاتے دیکھ کر بہت دکھ ھوا ان کی خواھش پر دو بار فوج میں ملازمت کے لئیے اپلائی کیا لیکن سیلیکٹ نہ ھو سکا۔ چھوٹے بیٹے کوفوج میں کمیشن مل جانے پر وہ بھت خوش تھیں۔ ھماری پراپرٹی کم اور مقدمے زیادہ تھے،جو ابا جیت جیت کر تھک چکے تھے لیکن مخالفین ھار ھار کر پھر نئے سرے سے شروع کر دیتے۔پریشان ھو کر اماں سے پوچھا کہ الللہ کو تو سب پتہ ھے،وہ ان کو سزا کیوں نھیں دیتا؟ اماں نے جواب دیا،”تم میرے جنے وے میرا کہنا نھیں مانتے، الللہ تو آل ان آل ھے،اس سے دعا مانگتے رھو”تا دم آخر وہ مظلوم فلسطینیوں اور مقبوضہ کشمیریوں کے لئیے دعا گو رھیں کہ الللہ ان کے حال پر جلد رحم فرمائے۔ان کی جلد غیب سے مدد فرمائیں :
اب یہاں کوئی نہیں بنتا ھمارا،اماں
اس جہاں میں تھیں تمھی میرا سہارا،اماں
یہ جو اک چھوٹی سی کٹیا میں بسیرا ھے مرا
روز ھوتا ھے یہاں ذکر تمھارا اماں
نہ کوئی صبح میری ھے نہ کوئی شام میری
قبر میں جب سے تمھیں، میں نے اتارا اماں
ھاتھ اٹھا کر ھمیں۔ اب کون دعائیں دے گا؟؟
رہ گیا ھے یہاں اب کون ھمارا،اماں
اپنے حصے میں نھیں اب وہ مثالی شفقت
اس سے بڑھ کر نھیں ھے کوئی خسارا،اماں






