#کالم

محترمہ عظمیٰ بخاری سے اہل قلم کی لائل پور ٹی ہاوس کے لیے اپیل

shehzad baig 2

شہزاد بیگ
ایک زمانہ تھا جب لائل پور کی آباد کاری کے وقت لائل پور کے کیفے اورقہوہ خانے شاعروں ،ادیبوں، دانشور اور سیاستدانوں کی آماجگاہ ہوا کرتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تقریباً بیشتر کیفے،چائے خانے،ہوٹلز یادِ ماضی کی تصویر ہوکر رہ گئے، ان میں سے چند ایک اب بھی موجودہ ہیں جبکہ باقیوں کی جگہ گودام یاپلازے تعمیر ہوگئے ،بعض نئے ہوٹلز ڈھابے یا ٹی ہاوس نئے بھی بنےہیں جہاں شہر کے اہل قلم کبھی کبھار نظر آجاتے ہیں ،جبکہ بدقسمتی سےیہاں حلقہ ارباب ذوق جوکہ 55 برس کا ہونے کو ہے ابھی تک دربدر کی ٹھوکریں کھا ہےا سے حکومتی سطح پر آج تک کوئی ٹی ہاوس دستیاب نہیں ہوسکا، جبکہ یہ شہر جوکہ قیام پاکستان کے بعد اہل قلم کے حوالے سےدنیا بھر میں ممتاز رہا ہے ہمیشہ ہی سرکاری ’’لائل پورٹی ہاوس‘‘ سے محروم رہا ہے، جبکہ اس شہر میں فیض احمد فیض،حبیب جالب،افضل احسن رندھاوا،خلیق قریشی،عدیم ہاشمی،احمد ریاض،افتخار نسیم،ریاض مجید،ڈاکٹر اسحاق قریشی،فضل حسین راہی،علامہ نادر جاجوی،پروفیسرغلام رسول تنویر ،طالب جالندھری ،حزیں لدھیانوی،قمر لدھیانوی، مرزا منور،نسیم شوکت اخگر،شاکر عروجی،سلیم بیتاب،احسن زیدی،انور محمود خالد ،عبیر ابو ذری،اقبال نوید،افتخار فیروز،اختر سدیدی،افسر ساجد،آصف بشیر چشتی،نصرت صدیقی ،ارشد جاوید،زاہد فخری ،شبیر احمد قادری،،خاور جیلانی،حمید شاکراورصابر رضا،جیسے نابغہ روزگار موجود رہے ہیں جو کہ یہاں کے ڈھابوں پر آتے رہے ہیں اور خوب محفلیں سجتی رہی ہیں،قیام پاکستان کے بعد یہاں قہوہ خانوں کی بات کریں تو ان میںارم ہوٹل ، گرینڈ ہوٹل،کیفےایران،کیفے لطیف ،عالم ٹی ہاؤس،کیفے دلدار،کیفےدیوان، سلطان ہوٹل،رائل ہوٹل،ریزہوٹل، شیبا ہوٹل،کیفے تسکین،چراغ ہوٹل،کیری ہوم،پاکستان ٹی سٹال،جھنڈے دا ہوٹل،ظفر ہوٹل،ہزارہ ہوٹل، خیام ہوٹل ،شالیمار ہوٹل،تھری سٹار ہوٹل،نیشنل ہوٹل ،کشمیر ہوٹل،تاج ہوٹل، محفل ہوٹل ودیگر موجود رہے ہیںاب یہ شہر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت پھیل چکا ہےلیکن یہاں کے اہل قلم تمام پرانے ہوٹلوں سے تقریباً محروم ہوچکے ہیں، اب یہاںنئے اور پرانے کھانوں کے کئی جدید ترین ہوٹل بن گئے ہیںجہاں ہر قسم کا فوڈ دستیاب ہوتا ہے مگر اہل قلم کے بیٹھنے کی کسی کے پاس جگہ نہ ہے جوکہ شہر کا اصل چہرہ ہوتے ہیں اور انکے کے لیے ایک اعزاز کادرجہ رکھتے ہیں مگر۔۔۔۔۔ اب یہاں ہر شے کو پیسے تولا جارہا ہے اور دن بدن یہاں فیملوں کا رش بڑھتا جارہا ہے۔ یہاں ہرقسم کی رائس ڈشیز ،مٹن باٹی،چکن باٹی، چکن چانپ،چکن پلاؤ ،پیزا،پراٹھا اور کوئلہ اور تلی ہوئی فش مل جاتی ہے، ایک زمانہ تھا جب بھوانہ بازار اور کچہری بازار ہی فش ملتی تھی، اب تو پورا شہر ہی دعوت شیراز بن گیا ہے، ڈی گروانڈ میں تو باقاعدہ ایک مکمل فوڈ سٹریٹ بن گئی ہےجہاں دس کے قریب کھابے موجود ہیں،کوہ نور 1,2,3کے پیچھےفوڈ سٹریٹ شہر میں پہلے نمبر پر جارہی ہے جہاں ہر چیز دستیاب ہے حتی کہ دنبہ کڑاہی بھی موجود ہے، اسی طرح کینال روڈ کی مارکیوں نے بھی ایک نیا جہان آباد کردیا ہے اسی طرح سمندری روڈ پرالعزیز دال والے ایک الگ دنیا بسے بیٹھے ہیں سرگودھا روڈ لاثانی پلی روڈ پر بھی کھابے موجود ہیںستیانہ روڈ پر طارق ٹی سٹال،اسی طر ح سوساں روڈ اقبال سٹیڈیم میں خیال ڈیرا اوپن ایر بھی کمال کی سروسز مہیا کررہا ہےجبکہ اشرافیہ کے لیےڈینسٹی،چناب کلب،سرینا، ہوٹل ون، کے ایف سی،کے فوڈ پوائنٹ نے شہر میں اپنی مثال آپ ہیں،جھنگ بازار میں مٹن کڑاہی اور چراغ ہوٹل کے کھابے دیسی گھی میں اب بھی تیار ملتے ہیں کچہری بازار میں جہانگیر مرغ پلاؤ الائیڈ موڑ پر طارق مرغ پلاؤ الائیڈ موڑ سے شہر کی طرف آئیں تو ایف ایم یو گیٹ کے سامنے سٹون او تھوڑا آگے جائیں اکبر آباد چوک میں شہر یار ہوٹل جہاں کی آئس کریم بہت معروف ہے جسے کھاکر آپ گھنٹہ کی لذت بھول جائیں گے،اسی طرح ٹی بی ہسپتال سے تھوڑا آگے ہزارہ ہوٹل نہر پر ظفر ہوٹل ساتھ پرانا ہزارہ ہوٹل موجود ہے۔آج جب ہم شہر کی تعمیر و ترقی کے ساتھ ساتھ یہاں پر میٹرو اور گرین بس سے مستفید ہونے جارہے ہے اور ملک کے دیگر شہروں کی طرح یہاں چکیوں چوراہوں میں کیمرے اور وائی فائی بھی آپ کی منتظر ہے۔ڈئیر عظمی بخاری صاحبہ منسٹر اطلاعات پنجاب آپ فیصل آباد کی بیٹی ہونے کے باوجود یہاں کارونیشن لائبریری میں زیر تعمیر ’’لائل پور ٹی ہاوس ‘‘ابھی تک نا مکمل پڑا ہے جسکے تعمیر نوواش روم لاک پڑے ہیں اور باقی تعمیر بھی ادھوری کی ادھوری پڑی ہے آپ سےیہاں کےاہل قلم کی پر زور اپیل ہے کہ یہاں کے شاعروں ادیبوں کے اس دیرنیہ مطالبے کو فورا پورا کیا جائے۔

محترمہ عظمیٰ بخاری سے اہل قلم کی لائل پور ٹی ہاوس کے لیے اپیل

اماں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے