بھیرہ:تہذیب اور تمدن
راﺅ غلام مصطفی
تاریخ صرف گزری ہوئی صدیوں کی گرد آلود داستانوں کا نام نہیں، بلکہ قوموں کی اجتماعی یادداشت ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنے ماضی کو محفوظ رکھتی ہیں، وہی مستقبل کی سمت متعین کرنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہیں۔ قدیم شہر، تاریخی عمارتیں، علمی شخصیات اور تہذیبی روایات کسی بھی معاشرے کی وہ بنیادیں ہیں جن پر قومی شناخت استوار ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے ترقی کی دوڑ میں اپنی تاریخ کو اکثر نظر انداز کیا، حالانکہ ترقی یافتہ اقوام اپنی ہر اینٹ، ہر ورثے اور ہر تاریخی روایت کو سینے سے لگا کر رکھتی ہیں۔ایسے ماحول میں جب صاحب زادہ ڈاکٹر انوار احمد بگوی کی نئی تصنیف "بھیرہ: تاریخ و تمدن” کی تعارفی تقریب منعقد ہوئی تو یہ محض ایک کتاب کی رونمائی نہ تھی بلکہ اپنی تاریخ سے تعلق جوڑنے کی ایک فکری تحریک تھی۔ مولانا ظفر علی خان فاو¿نڈیشن کے آڈیٹوریم میں منعقدہ اس تقریب کی صدارت ممتاز صحافی مجیب الرحمن شامی نے کی، جبکہ اوریا مقبول جان، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، حکیم راحت نسیم سوہدروی، ڈاکٹر انجم رحمانی، ڈاکٹر حسین احمد پراچہ، صاحب زادہ ابوبکر بگوی، منشا قاضی اور حکیم بشیر بھیروی سمیت متعدد اہلِ علم نے اظہارِ خیال کیا۔مقررین کا اس بات پر اتفاق تھا کہ جس قوم کا رشتہ اپنی تاریخ سے ٹوٹ جائے، اس کا جغرافیہ بھی زیادہ دیر محفوظ نہیں رہتا۔ تاریخ صرف ماضی کا نوحہ نہیں بلکہ مستقبل کی منصوبہ بندی کا سرچشمہ ہے۔ قومیں اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں دونوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھتی ہیں۔ اسی لیے تاریخ کا مطالعہ دراصل قوموں کے اجتماعی شعور کو بیدار کرنے کا عمل ہے۔بھیرہ اور سوہدرہ برصغیر کے ان چند تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے جن کی تاریخ قبل از مسیح تک جا پہنچتی ہے۔ ہزاروں برسوں میں یہ شہر کئی مرتبہ آباد ہوا، اجڑا، پھر سنبھلا اور دوبارہ اپنی شناخت کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ اس کے کھنڈرات آج بھی اس کی عظمت کی خاموش گواہی دیتے ہیں۔ بھیرہ محض ایک شہر نہیں بلکہ تہذیبوں، ثقافتوں اور مختلف ادوار کی گزرگاہ رہا ہے۔عام روایت یہ مشہور ہے کہ جب شیر شاہ سوری کو شہر میں داخل ہونے کا راستہ نہ ملا تو اس نے کہا تھا "ایں بیراہ است” اور یہی لفظ آگے چل کر بھیرہ بن گیا۔ لیکن ڈاکٹر انوار احمد بگوی نے روایت پر اکتفا کرنے کے بجائے تحقیقی انداز اختیار کیا۔ ان کے مطابق سنسکرت میں "بھے” خوف اور "ہرا” محفوظ کے معنی دیتا ہے، یعنی ایسی بستی جو خوف سے محفوظ ہو۔ یہی علمی دیانت اس کتاب کو محض ایک تاریخی بیان نہیں بلکہ تحقیقی دستاویز بنا دیتی ہے۔ڈاکٹر انوار احمد بگوی اپنی ذات میں ایک ادارہ ایک انجمن اور صاحب فکر ونظر شخصیت ہیں۔ طب، ادب، تحقیق اور سماجی خدمت کے میدان میں ان کی خدمات نصف صدی پر محیط ہیں۔ وہ مولانا امین احسن اصلاحی کے ابتدائی شاگردوں میں شامل رہے، منصورہ ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو، منصورہ انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل اور قرشی یونیورسٹی میں شعب? طبِ مشرقی کے بانی صدر بھی رہے۔ انہوں نے "تذکارِ بگویہ” کی پانچ جلدیں مرتب کیں، سفرنام ایران تحریر کیا اور متعدد علمی و تحقیقی کتابیں تصنیف کیں۔ تاہم "بھیرہ: تاریخ و تمدن” بلا شبہ ان کی زندگی کا نمایاں ترین تحقیقی شاہکار ہے۔تقریب کے مقررین نے بجا طور پر کہا کہ یہ کتاب دراصل بھیرہ کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ تقریباً 288 صفحات پر مشتمل اس تصنیف میں صرف حکمرانوں یا جنگوں کا ذکر نہیں بلکہ بھیرہ کی تہذیب، تمدن، زبان، معاشرت، صحافت، ادب، تعلیم، مذہبی مراکز، رسم و رواج، قدیم آثار، نباتات، حیوانات، مقامی سوغاتوں، علمی شخصیات اور تاریخی عمارتوں کو بھی نہایت تحقیق کے ساتھ قلم بند کیا گیا ہے۔کتاب کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں صرف نامور حکمرانوں کو نہیں بلکہ ان گمنام افراد کو بھی جگہ دی گئی ہے جنہوں نے اپنے کردار سے بھیرہ کی شناخت قائم رکھی۔ ڈاکٹر بگوی نے 438 نمایاں شخصیات کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کرکے دراصل ان گمنام چراغوں کو بھی روشنی عطا کی ہے جن کا ذکر عمومی تاریخ میں شاذ ہی ملتا ہے۔یہی نہیں، کتاب میں ایک دل چسپ تاریخی حوالہ بھی ملتا ہے کہ بھیرہ کی ایک بہادر خاتون پدما نے مالوہ کے راجہ کے ساتھ مل کر توریان کے بیٹے مہرگل کے خلاف کامیاب کارروائی کی، جس کے بعد وہ کشمیر فرار ہونے پر مجبور ہوا۔ اسی طرح ممتاز فلمی اداکارہ نیلو کی جائے پیدائش بھی بھیرہ ہے، جبکہ پاکستان کے ساتویں وزیراعظم ملک فیروز خان نون نے بھی اسی تاریخی سرزمین سے تعلیم حاصل کی۔ ان ہی کے دورِ حکومت میں گوادر سلطنتِ عمان سے خرید کر پاکستان کا حصہ بنا۔ یہ تمام حقائق بھیرہ کی تاریخی اہمیت کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔تقریب میں حکیم راحت نسیم سوہدروی نے بجا طور پر کہا کہ بھیرہ دریائے جہلم کے کنارے آباد ہونے کی وجہ سے ہمیشہ بڑے بڑے حکمرانوں کی گزرگاہ رہا، لیکن وقت کے ساتھ یہ علم و عرفان کی گزرگاہ بھی بن گیا۔ خاندانِ بگوی، حکیم شاہ محمد، جسٹس پیر کرم شاہ الازہری اور مولانا گلزار احمد مظاہری جیسی شخصیات نے اس دھرتی کو علمی وقار عطا کیا، جبکہ پراچہ خاندان نے سیاسی میدان میں اپنی خدمات سے اس تاریخ کو مزید وسعت بخشی۔کتاب کا ایک اہم باب برطانوی دورِ حکومت پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ مصنف نے واضح کیا ہے کہ 1857ئ کی جنگِ آزادی کے بعد انگریز نے عوامی فلاح کے بجائے اپنے اقتدار کو مضبوط بنانے کے لیے انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا۔ عدالتوں میں تاخیر، تھانوں میں بے عزتی اور عوام کو سیاسی و معاشی طور پر کمزور رکھنے کی پالیسیاں اسی نوآبادیاتی نظام کا حصہ تھیں۔ یہ تجزیہ کتاب کو محض مقامی تاریخ تک محدود نہیں رہنے دیتا بلکہ قومی شعور کی تشکیل میں بھی معاون بناتا ہے۔تقریب کے اختتام پر مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بھیرہ کو اس کے تاریخی تشخص کے مطابق ٹورسٹ سٹی قرار دیا جائے، اس کی قدیم عمارتوں، فصیل، دروازوں اور آثارِ قدیمہ کی باقاعدہ حفاظت کی جائے اور اس تاریخی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جائے۔ یہ مطالبہ محض ایک شہر کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔حقیقت یہ ہے کہ قومیں صرف بلند و بالا عمارتوں سے ترقی یافتہ نہیں بنتیں بلکہ اپنی تاریخ سے وفاداری انہیں دوام بخشتی ہے۔ ڈاکٹر انوار احمد بگوی نے "بھیرہ: تاریخ و تمدن” کی صورت میں صرف ایک کتاب نہیں لکھی بلکہ ماضی اور حال کے درمیان ایک ایسا مضبوط پل تعمیر کیا ہے جس پر چل کر آنے والی نسلیں اپنی شناخت، اپنی تہذیب اور اپنے علمی ورثے کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گی۔ایسی تحقیقی کاوشیں اس امر کا ثبوت ہیں کہ جب قلم اپنے وطن کی مٹی سے محبت کرے تو تاریخ صرف لکھی نہیں جاتی، بلکہ زندہ ہو جاتی ہے۔ بھیرہ آج بھی زندہ ہے، کیونکہ اس کی تاریخ زندہ ہے، اور جب تک ایسے محقق اور اہلِ قلم موجود رہیں گے، اس دھرتی کی تہذیبی روشنی کبھی مدھم نہیں پڑے گی۔






