غلام میں کام آتی ہیں تدبیریں نہ شمشیریں
ڈاکٹر قیصر عباس
غلامی صرف ہاتھوں میں پڑی زنجیروں کا نام نہیں، بلکہ سب سے خطرناک غلامی وہ ہے جو انسان کے ذہن پر قبضہ کر لے۔ جب ایک نظام انسان کو یہ یقین دلا دے کہ رزق صرف کرنسی، نوکری، سرمایہ، سود اور منافع کی دوڑ میں ہے، تو پھر وہ اس نظام کا قیدی بن جاتا ہے، چاہے اس کے ہاتھوں میں کوئی ہتھکڑی نہ ہو۔سرمایہ دارانہ نظام نے انسان کو اسی ذہنی غلامی میں جکڑ رکھا ہے۔ ہر شخص صبح سے شام تک دوڑ رہا ہے۔ اسے یقین ہے کہ شاید اگلی ترقی، اگلی تنخواہ، اگلا کاروبار یا اگلی سرمایہ کاری اسے سکون دے دے گی۔ لیکن سکون ہر بار اس سے ایک قدم آگے نکل جاتا ہے۔ وہ دوڑتا رہتا ہے، مگر منزل کبھی نہیں آتی۔غلامی کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ انسان اپنی زنجیروں کو ہی اپنی کامیابی سمجھنے لگتا ہے۔ اگر اس سے کہا جائے کہ ایک ایسا معاشی نظام بھی ممکن ہے جہاں رزق کی ضمانت ہو، صلاحیت کی قدر ہو، اور دولت چند ہاتھوں کی جاگیر نہ بنے، تو وہ فوراً انکار کر دیتا ہے، کیونکہ اس کا ذہن غلامی کا عادی ہو چکا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بہت سے مخلص لوگ بھی مسئلے کی جڑ تک نہیں پہنچ پاتے۔ کوئی کہتا ہے کہ ٹیکس کا نظام بہتر کر دو، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ کوئی کہتا ہے کہ زکوٰة اور صدقات صحیح تقسیم ہونے لگیں تو
غربت ختم ہو جائے گی۔ کوئی سمجھتا ہے کہ امیر اگر زیادہ خیرات کرنے لگیں تو معاشرہ خوشحال ہو جائے گا۔لیکن یہ تمام تدبیریں اس درخت کے پتے کاٹنے کے مترادف ہیں جس کی جڑ ہی زہریلی ہو۔ سرمایہ دارانہ نظام کی بنیاد ہی طبقاتی تقسیم پر قائم ہے۔ اس نظام کو چلانے کے لیے ایک امیر طبقہ بھی چاہیے اور ایک ایسا غریب طبقہ بھی، جو اپنی محنت بیچنے پر مجبور ہو۔ اگر غریب باقی نہ رہیں تو سستی مزدوری کہاں سے آئے گی؟ اگر ضرورت مند نہ ہوں تو سرمایہ دار کی شرائط کون قبول کرے گا؟ اس لیے غربت اس نظام کی خرابی نہیں، بلکہ اس کے وجود کی ضرورت ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہر چند سال بعد نئے نعرے سنائی دیتے ہیں؛ کبھی ٹیکس ریفارمز، کبھی ویلفیئر اسٹیٹ، کبھی خیرات، کبھی سبسڈی، کبھی امدادی پیکج۔ لیکن نتیجہ وہی رہتا ہے، کیونکہ بیماری کا علاج نہیں کیا جاتا، صرف اس کی علامات کو وقتی طور پر دبایا جاتا ہے۔بھیڑ چال چلنے والے لوگ باغیوں کو برداشت نہیں کر سکتے، کیونکہ آزاد سوچ انہیں اپنی غلامی کا احساس دلاتی ہے۔ جو سرمایہ دارانہ نظام پر سوال اٹھاتا ہے، وہ باغی کہلاتا ہے۔ جو کرنسی فری معاشرے کی بات کرتا ہے، وہ خواب دیکھنے والا سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ اصل مسئلہ خواب نہیں، غلام ذہن ہے۔اسی لیے شاعر نے کہا:”غلامی میں نہ کام آتی ہیں تدبیریں، نہ شمشیریں۔”کیونکہ جب تک غلامی پیدا کرنے والا نظام قائم رہے گا، تدبیریں صرف زنجیروں کا رنگ بدلیں گی، زنجیریں نہیں توڑیں گی۔ حقیقی آزادی اس دن شروع ہوگی جب انسان صرف قوانین بدلنے کی نہیں، بلکہ پورا معاشی نظام بدلنے کی جدوجہد کرے گا۔ جب نظام بدلے گا تو انسان کی صلاحیت کو اس کا حق ملے گا، رزق چند ہاتھوں کی جاگیر نہیں رہے گا، اور انسان کرنسی کا غلام نہیں بلکہ ایک باوقار، آزاد اور پ±رسکون معاشرے کا فرد بن کر زندگی گزارے گا۔






