معاشی نظام میں بہتری؛ وقت کی سب سے بڑی ضرورت
چوہدری محمد مجید
ریاست کی بقا، ترقی اور عوامی خوشحالی کا براہ راست تعلق ایک مستحکم، متوازن اور عادلانہ معاشی نظام سے ہوتا ہے۔ پاکستان آج جس تاریخی اور معاشی دوراہے پر کھڑا ہے، وہاں ہمیں روایتی سوچ سے نکل کر سنجیدہ، جامع اور انقلابی معاشی اصلاحات کی طرف قدم بڑھانا ہوں گے۔ اسلام نے ہمیں جو معاشی نظام عطا کیا ہے، وہ عدل و انصاف، امانت داری، محنت کی قدر اور دولت کی منصفانہ تقسیم پر مبنی ہے۔ اگر ہم اسلامی اصولوں کو اپنائیں، جن میں ربا (سود) کا کلی خاتمہ، زکوٰ? و صدقات کا مو¿ثر نظام اور کمزور طبقے کی کفالت شامل ہے، تو حقیقی معاشی استحکام کا حصول یقینی ہو جاتا ہے۔?پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار قدرتی وسائل، زرخیز زمین اور محنتی افرادی قوت سے نوازا ہے، لیکن اسلامی معاشی اصولوں سے دوری، پالیسیوں کے تسلسل کی کمی، فرسودہ ٹیکس نظام اور انتظامی کمزوریوں کی وجہ سے معیشت وہ بلندیاں چھونے میں ناکام رہی جن کی وہ مستحق تھی۔معاشی بہتری کے لیے سب سے پہلا اور اہم قدم ٹیکس کے نظام کی عادلانہ اصلاح ہے۔ ہمارے ملک میں بدقسمتی سے ٹیکس کا بوجھ ہمیشہ اس طبقے پر پڑتا ہے جو پہلے ہی معاشی دباو¿ کا شکار ہے، جبکہ مراعات یافتہ طبقہ اکثر ٹیکس نیٹ سے باہر رہتا ہے۔ اسلامی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ دولت چند ہاتھوں میں سمٹنے کے بجائے گردش میں رہنی چاہیے۔ جب تک ٹیکس کے دائرہ کار کو وسعت نہیں دی جاتی اور ٹیکس چوری کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جاتا، ملک میں مالیاتی خود کفالت کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور شفاف ڈیٹا بیس کا استعمال ناگزیر ہے تاکہ ہر آمدنی کا درست اندازہ لگایا جا سکے اور غریب عوام کا استحصال روکا جا سکے۔دوسرا اہم ترین نکتہ پیداواری شعبے (Manufacturing) اور برآمدات (Exports) میں اضافہ ہے۔ ایک مضبوط معیشت درآمدات پر انحصار کم کرکے اور برآمدات کو فروغ دے کر ہی پروان چڑھتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو آسان اور بلا ربا (غیر سودی) بنیادوں پر مالی تعاون فراہم کرے، توانائی کے نرخوں میں استحکام لائے اور صنعت کاروں کو ریلیف دے تاکہ ملک میں صنعتی پہیہ تیز رفتاری سے گھوم سکے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔زراعت، جو ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید زرعی ٹیکنالوجی، معیاری بیج، اور کسانوں کو براہ راست سبسڈی کی فراہمی سے ملکی پیداوار میں کئی گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف غذائی تحفظ یقینی ہوگا بلکہ دیہی علاقوں کی معیشت بھی مستحکم ہوگی۔آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ معاشی اصلاحات صرف حکومتی احکامات سے نافذ نہیں ہوتیں، بلکہ اس کے لیے نجی شعبے کا اعتماد، سیاسی استحکام اور اداروں کی شفافیت لازمی شرائط ہیں۔ جب تک ملک میں سرمایہ کاروں کو تحفظ اور سازگار ماحول فراہم نہیں کیا جائے گا، ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کا حصول ناممکن ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ذاتی مفادات اور سیاسی نعرہ بازی سے بالاتر ہو کر اسلامی اصولوں کی روشنی میں ایک متفقہ اور طویل المدتی قومی معاشی ایجنڈا تشکیل دیا جائے، کیونکہ ایک عادلانہ معاشی نظام ہی مضبوط اور باوقار پاکستان کی اصل ضمانت ہے۔






