راہول گاندھی، بنگلہ دیش ماڈل اور مودی کی مضبوط ہوتی سیاست
ڈاکٹر سیدہ عمرانہ مشتاق
دنیا کی سیاست میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپوزیشن حکومت کو کمزور کرنے کے لیے جو حکمتِ عملی اختیار کرتی ہے، وہی غیر ارادی طور پر حکمران جماعت کی سیاسی طاقت میں اضافہ کر دیتی ہے۔ اگر اپوزیشن عوام کو ایک مضبوط، قابلِ اعتماد اور منظم متبادل فراہم نہ کر سکے تو حکمران جماعت نہ صرف اپنی پوزیشن برقرار رکھتی ہے بلکہ خود کو استحکام اور تسلسل کی علامت کے طور پر بھی پیش کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ جنوبی ایشیا کی موجودہ سیاست، خصوصاً بھارت اور بنگلہ دیش، اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے اہم مثالیں پیش کرتے ہیں۔بھارت میں آج سیاست دو واضح بیانیوں کے گرد گھومتی ہے۔ ایک طرف راہول گاندھی ہیں، جو آئین، جمہوریت، سماجی انصاف، معاشی مساوات اور ریاستی اداروں کی خودمختاری پر زور دیتے ہیں۔ دوسری طرف نریندر مودی ہیں، جنہوں نے خود کو مضبوط قیادت، فیصلہ کن حکمرانی، قومی سلامتی، ترقی اور قومی وقار کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہی دو مختلف بیانیے آج بھارتی سیاست کی سمت متعین کر رہے ہیں۔راہول گاندھی نے گزشتہ برسوں میں بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کے مسائل، معاشی ناہمواری، انتخابی نظام کی شفافیت، اداروں کی آزادی اور سماجی تقسیم جیسے موضوعات پر حکومت کو مسلسل تنقید کا نشانہ بنایا۔ "بھارت جوڑو یاترا” نے ان کی سیاسی موجودگی کو ضرور تقویت دی مگر جمہوریت میں صرف احتجاج یا تنقید کافی نہیں ہوتی۔ عوام یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اقتدار ملنے کی صورت میں متبادل قیادت کیا کرے گی اس کی ترجیحات کیا ہوں گی اور وہ ملک کو کس سمت لے جانا چاہتی ہے۔یہی وہ خلا ہے جس کا فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھرپور انداز میں اٹھایا۔ بی جے پی نے صرف انتخابی مہم نہیں چلائی بلکہ ایک منظم تنظیم، مضبوط زمینی ڈھانچہ، مسلسل عوامی رابطہ، جدید انتخابی حکمتِ عملی، مو¿ثر ابلاغ اور طاقتور قیادت کے ذریعے اپنے ووٹر کو مسلسل متحرک رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ مودی کی سیاسی طاقت صرف اپوزیشن کی کمزوری کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی سیاسی منصوبہ بندی کا بھی حاصل ہے۔بنگلہ دیش کی حالیہ سیاسی صورتحال نے بھی جنوبی ایشیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ احتجاج، سیاسی کشیدگی اور اقتدار کی کشمکش نے یہ سوال پیدا کیا کہ جمہوری نظام میں عوامی احتجاج اور ریاستی استحکام کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ بعض حلقے بھارت کی اپوزیشن کی حکمتِ عملی کا موازنہ بنگلہ دیش کے تجربات سے کرتے ہیں، لیکن یہ موازنہ مکمل طور پر درست نہیں کیونکہ دونوں ممالک کے آئینی ڈھانچے، سیاسی تاریخ، ریاستی ادارے، انتخابی نظام اور سماجی حقائق ایک دوسرے سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔ اسی لیے کسی بھی تقابل میں احتیاط اور علمی دیانت ناگزیر ہے۔بھارت میں قومی سلامتی، دہشت گردی، چین اور پاکستان جیسے معاملات پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات ضرور موجود ہیں لیکن ریاستی مفادات کے حوالے سے کئی معاملات میں ایک بنیادی تسلسل بھی دکھائی دیتا ہے۔ راہول گاندھی سمیت متعدد اپوزیشن رہنماو¿ں نے مختلف مواقع پر دہشت گردی کے خلاف سخت مو¿قف اختیار کیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی جیسے معاملات صرف انتخابی سیاست تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان میں ریاستی پالیسی کا ایک تسلسل بھی موجود ہوتا ہے۔سوشل میڈیا پر اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ راہول گاندھی کی سیاست دراصل مودی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے یا وہ غیر ارادی طور پر بی جے پی کے بیانیے کو مضبوط کر رہے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی تائید میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں۔ یہ ایک سیاسی تجزیہ یا رائے ہو سکتی ہے، مگر اسے حقیقت کے طور پر پیش کرنا صحافتی دیانت کے تقاضوں کے مطابق نہیں۔البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جب اپوزیشن منتشر ہو، اس کا تنظیمی ڈھانچہ کمزور ہو علاقائی جماعتیں ایک مو¿ثر اتحاد قائم نہ کر سکیں اور عوام کو واضح متبادل قیادت دکھائی نہ دے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ اقتدار میں موجود جماعت کو پہنچتا ہے۔ بھارتی سیاست میں یہی منظرنامہ کئی انتخابات میں دیکھنے کو ملا ہے۔جمہوریت صرف حکومت کے مضبوط ہونے کا نام نہیں بلکہ ایک مضبوط، مو¿ثر اور ذمہ دار اپوزیشن بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہوتی ہے۔ اپوزیشن حکومت کا دشمن نہیں بلکہ احتساب کا آئینی ذریعہ ہوتی ہے۔ اگر اپوزیشن کمزور پڑ جائے تو اقتدار کا توازن متاثر ہوتا ہے جبکہ اگر حکومت خود کو احتساب سے بالاتر سمجھنے لگے تو جمہوریت کی روح کمزور ہونے لگتی ہے۔ اسی لیے مضبوط حکومت اور مضبوط اپوزیشن دونوں ایک صحت مند جمہوری معاشرے کے لیے ناگزیر ہیں۔جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کے لیے اصل سبق یہ ہے کہ سیاسی اختلاف کو ریاستی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کی اصل توجہ عوامی مسائل، معیشت، تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور گورننس پر ہونی چاہیے کیونکہ آخرکار عوام نعروں سے زیادہ اپنی زندگی میں آنے والی بہتری کو ووٹ دیتے ہیں۔راہول گاندھی اور نریندر مودی کے درمیان سیاسی مقابلہ ابھی ختم ہونے والا نہیں۔ آنے والے انتخابات ہی یہ طے کریں گے کہ بھارتی عوام کس بیانیے کو زیادہ قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں۔ تاہم موجودہ سیاسی منظرنامہ یہ ضرور بتاتا ہے کہ جب اپوزیشن اپنی توانائیاں صرف مخالفت پر صرف کرے اور عوام کے سامنے ایک واضح، مربوط اور قابلِ عمل متبادل پروگرام پیش نہ کر سکے تو اس کا سب سے بڑا سیاسی فائدہ حکمران جماعت کو پہنچتا ہے۔ایک ذمہ دار سیاسی تجزیہ نگار کا فرض ہے کہ وہ اختلاف کو دلیل سے پرکھے الزامات کو ثبوت کی کسوٹی پر جانچے اور رائے اور حقیقت کے درمیان واضح فرق برقرار رکھے۔ یہی صحافت کی ساکھ، علمی دیانت اور جمہوریت کی اصل روح ہے۔






