#کالم

سرخ لکیر اور امت کا مستقبل

Untitled 6

سہیل بشیر منج

امریکہ اور ایران کے مابین دہکتی ہوئی دشمنی کی راکھ سے اگر دوبارہ لمبی جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے تو اس کا سب سے ہولناک خمیازہ ایران کی سرزمین اور اس کے معصوم عوام کو بھگتنا پڑے گا ماضی میں امریکی حملوں اور سخت ترین پابندیوں نے ایرانی معیشت کی کمر پہلے ہی توڑ دی ہے جہاں بنیادی انفراسٹرکچر، تیل کی تنصیبات اور عوامی سہولیات شدید زبوں حالی کا شکار ہو چکی ہیں اگر ایران نے بین الاقوامی قوانین کو پسِ پشت ڈال کر آبنائے ہرمز سے زبردستی ٹول ٹیکس وصول کرنے کی ضد نہ چھوڑی تو یہ خطہ ایک ایسی خوفناک تباہی کا گہوارہ بن جائے گا جس کا تصور بھی محال ہے  آبنائے ہرمز جیسے عالمی تجارتی راستے پر کسی ایک ملک کا حقِ ملکیت تسلیم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اگر ہر ملک اپنے ساحلوں سے گزرنے والے جہازوں سے بھتہ لینے لگے تو عالمی تجارت کا دھارا ہی رک جائے گا مہنگائی کا طوفان آئے گا اور بین الاقوامی برآمدات کا پورا نظام مفلوج ہو کر رہ جائے گا  ایران کے پاس جنگ بندی کے بعد ایک سنہری موقع تھا کہ وہ اپنے زخموں کو سیتا، ترقی کی نئی راہیں تلاش کرتا اور اپنی عوام کو معاشی خوشحالی کی نوید سناتا لیکن بدقسمتی سے پاسدارانِ انقلاب کی جنگجوانہ ہٹ دھرمی اور مہم جوئی نے امن کے اس پودے کو پامال کر دیا اس ممکنہ جنگ کے نتیجے میں ایران کے بجلی گھر، ہسپتال، سڑکیں اور گیس کے ذخائر خاکستر ہو جائیں گے، لاکھوں معصوم جانیں لقمہ اجل بنیں گی اور یہ ملک معاشی دوڑ میں دنیا سے کم از کم پچاس سال پیچھے دھکیل دیا جائے گا جہاں بھوک، افلاس اور اندھیروں کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا۔موجودہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور عرب ساحلوں و سمندری حدود میں ایرانی جارحیت نے پورے خطے کو بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے  جہاں ایک معمولی سی چنگاری بھی عالمگیر تباہی کا سبب بن سکتی ہے  اگر یہ سلسلہ یونہی دراز رہا اور سفارتی کوششیں ناکام ہو گئیں  تو اس کا انجام نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے ایک بھیانک ڈراو¿نے خواب کی صورت میں نکلے گا  عرب ممالک کی طویل المیعاد خاموشی کو ان کی کمزوری سمجھنا ایک سٹریٹجک بھول ہوگی  کیونکہ اگر یہ برادر ممالک اپنی بقا لیے محاذوں پر نکل آئے   تو ایک ایسی ہمہ گیر علاقائی جنگ چھڑ جائے گی جو صدیوں کے بنیادی ڈھانچے، اقتصادی ترقی اور تیل کی عالمی سپلائی چین کو یکسر مفلوج کر دے گی  خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری تجارتی راستوں کی بندش سے عالمی منڈیوں میں توانائی کا بحران پیدا ہوگا  جس سے ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دونوں بلاک معاشی تنزلی کا شکار ہو جائیں گے  اس صورتحال میں امریکی مداخلت محض علامتی نہیں ہوگی  بلکہ واشنگٹن ایران کے نیوکلیئر پلانٹس، اہم فوجی بیرکوں، فضائی دفاعی نظام اور ساحلی میزائل تنصیبات کو چن چن کر نشانہ بنائے گا جس کے نتیجے میں ایران تکنیکی اور معاشی لحاظ سے کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دیا جائے گا  مزید برآں، ایران کی جانب سے اپنے روایتی اور مخلص ثالثوں کی آرائ کو پسِ پشت ڈالنے کی روش اسے سفارتی تنہائی کے اس گہرے کنویں میں گرا دے گی جہاں سے واپسی ناممکن ہوگی اس ممکنہ جنگ کے وہ بھیانک پہلو جو عام نظروں سے اوجھل ہیں ان میں بڑے پیمانے پر انسانی ہجرت، ماحولیاتی آلودگی، سمندری حیات کی تباہی اور خطے میں ایسے نئے عسکری گروہوں کا ابھار شامل ہے جو طویل عرصے تک فرقہ وارانہ اور جغرافیائی انتشار کو ہوا دیتے رہیں گے، جس کا حتمی انجام صرف اور صرف پچھتاوا اور بربادی ہوگا۔مشرقِ وسطیٰ کے اس ہولناک بحران کا سب سے زیادہ حساس اور بھیانک رخ وہ ممکنہ منظرنامہ ہے جہاں ایران کی پشت پناہی سے یمنی حوثی اپنے دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے ارضِ مقدس سعودی عرب کو نشانہ بنانے کی سنگین غلطی کر بیٹھیں  یہ ایک ایسی سرخ لکیر ہے جس کے پار جاتے ہی جنگ کا پورا رخ بدل جائے گا کیونکہ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پاکستانی فوج اپنے سٹریٹیجک  معاہدوں اور ایمانی جذبوں کے تحت ڈھال بن کر سامنے کھڑی ہوگی  دنیا گواہ ہے کہ پاکستان وہ غیور اور باصلاحیت ملک ہے جو اپنے سے پچاس گنا بڑے روایتی حریف کو میدانِ جنگ میں ناکوں چنے چبا چکا ہے اور جس کی عسکری ہیبت کا لوہا عالمی طاقتیں مانتی ہیں  ایسے میں سٹریٹیجک  اور تکنیکی لحاظ سے پسماندہ حوثی جنگجوو¿ں کی عسکری حیثیت پاکستانی فوج کے جدید ترین نظام اور پیشہ ورانہ مہارت کے سامنے تنکے کی مانند بکھر کر رہ جائے گی اور یمن کی ان باغی قوتوں کو عبرتناک تباہی و ہولناک عسکری نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا  تاہم اس دفاعی اقدام کا دوسرا رخ سفارتی محاذ پر ایک انتہائی پیچیدہ اور دردناک صورتحال کو جنم دے گا جہاں برادر ملک ایران کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تعلقات شدید ترین دباو¿ کا شکار ہو جائیں گے  اگر تہران کے  ان ہتھکنڈوں کے باعث پاکستان جیسا مضبوط ترین ہمسایہ بھی اس کی اخلاقی اور سفارتی حمایت سے دستبردار ہو گیا تو ایران خطے میں مکمل طور پر تنہا اور بے یارومددگار ہو جائے گا جس کا انجام اس کی اپنی بقا کے لیے ہلاکت خیز ثابت ہو سکتا ہے  پاکستان ہمیشہ یہی چاہے گا کہ یہ جنگ کسی بڑے سانحے کے بغیر رک جائے کیونکہ ایران کی ممکنہ شکست پورے خطے کے توازن کو ملیا میٹ کر دے گی اور اس جغرافیائی مرکز پر ایسی استعماری قوتیں قابض ہو جائیں گی جو پورے اسلامی بلاک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔اگر یہ جنگ بند نہ ہوئی تو عالمی تجارتی شریانیں اس طرح خشک ہو جائیں گی کہ پوری دنیا کا معاشی نظام سکتہ میں آ جائے گا  خصوصاً آبنائے ہرمز جیسے حساس بحری راستے پر اگر ایران نے غیر قانونی ٹیکس یا ٹول ٹیکس وصول کرنے کی بدعت شروع کی  تو یہ بین الاقوامی سمندری قوانین کی موت ہوگی جس کی دیکھا دیکھی ہر ملک اپنے سمندروں میں من مانی قیمت وصول کرنے لگے گا اور یوں عالمی ایکسپورٹس مکمل طور پر تباہ و برباد ہو کر رہ جائیں گی  اس ہولناک معاشی جمود اور نسلوں کو نگل جانے والی جنگ کو روکنے کے لیے چین، روس، برطانیہ  اور یورپی یونین جیسی بڑی طاقتوں کو فوری اور مخلصانہ سفارتی کردار ادا کرنا ہوگا  ورنہ تاریخ ان کی مجرمانہ خاموشی کو کبھی معاف نہیں کرے گی  تہران کو یہ بات دیوار پر لکھی نظر آنی چاہیے کہ اگر وہ پاکستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کا تسلسل چاہتا ہے تو اسے یمن کے حوثی جنگجوو¿ں کی پشت پناہی فوری بند کر کے ان کی فتنہ پروری کو لگام ڈالنا ہوگی  کیونکہ اگر ان باغیوں نے ارضِ مقدس سعودی عرب کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو ان کا سامنا دنیا کی مایہ ناز اور غیور پاک فوج سے ہوگا جو حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ان کا نام و نشان مٹا دے گی  سعودی عرب پر کوئی بھی حوثی حملہ خود ایران کی فوری اور عبرتناک بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا  جس کے نتیجے میں پوری امتِ مسلمہ خون اور بارود کے اس بھیانک طوفان میں نہا جائے گی جو ہمیشہ سے شیطانی اور استعماری طاقتوں کا من پسند خواب رہا ہے  اگر عالمی برادری اور علاقائی طاقتیں اب بھی خوابِ غفلت سے نہ جاگیں تو آنے والا وقت زمین کو انسانی گوشت اور خون کی بو سے تر کر دے گا۔ جہاں صرف پچھتاوا اور راکھ کا ڈھیر باقی رہ جائے گا۔

سرخ لکیر اور امت کا مستقبل

22/07/2026 Daily Sarzameen Lahore

سرخ لکیر اور امت کا مستقبل

بھیرہ:تہذیب اور تمدن

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے