نواب ناظم کی شاعری میں بچپن کی یادیں
پروفیسر سید محمد اصغر کاظمی
بچپن انسانی زندگی کا وہ سنہرا دور ہے جس کی یادیں وقت گزرنے کے باوجود دل کے نہاں خانوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ یہ وہ زمانہ ہوتا ہے جب انسان دنیا کو معصوم نگاہوں سے دیکھتا ہے، چھوٹی چھوٹی خوشیاں اس کے لیے بڑی مسرت کا سبب بنتی ہیں اور فطرت کے مظاہر حیرت و شوق کی نئی دنیا آباد کرتے ہیں۔ ادب میں جب بھی ماضی کی یادوں کا ذکر آتا ہے تو بچپن کی معصوم دنیا ایک خوب صورت موضوع کے طور پر سامنے آتی ہے۔ نواب ناظم کی شاعری میں بھی بچپن کی یادیں بڑی محبت، خلوص اور احساس کی گہرائی کے ساتھ نمایاں ہوتی ہیں۔
نواب ناظم نے اپنی شاعری میں بچپن کو محض گزرے ہوئے زمانے کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اسے ایک ایسی خوب صورت کیفیت بنا دیا ہے جس میں معصومیت، سادگی، فطرت سے وابستگی اور ماضی کی خوشبو شامل ہے۔ ان کے اشعار میں بچپن کی وہ دنیا دکھائی دیتی ہے جہاں جگنو کی روشنی بھی ایک عظیم خزانہ محسوس ہوتی ہے اور کھیتوں، موسموں اور قدرتی مناظر سے وابستگی زندگی کا حصہ ہوتی ہے۔
شاعر اپنے بچپن کی یادوں کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:
میں اجالے اچھالنے نکلا
ایک جگنو تھا میری مٹھی میں
ان اشعار میں بچپن کی معصوم خواہشات اور تخیل کی دنیا نہایت خوب صورتی سے ابھرتی ہے۔ ایک ننھا سا جگنو بچے کے لیے صرف ایک کیڑا نہیں بلکہ روشنی، امید اور خوشی کی علامت بن جاتا ہے۔ "اجالے اچھالنے” کی ترکیب شاعر کے بلند تخیل اور بچپن کی معصوم سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ مٹھی میں بند جگنو دراصل اس حسین لمحے کی علامت ہے جسے انسان عمر بھر یاد رکھتا ہے۔
نواب ناظم کی شاعری میں دیہی زندگی اور بچپن کی مصروفیات کا عکس بھی نمایاں ہے۔ کھیت، محنت، کھیل اور چھٹی کے لمحات ان کے شعری منظرنامے کا حصہ بنتے ہیں:
مجھ کو کھیتوں میں کام کرنا تھا
بھاگ آتا تھا آدھی چھٹی میں
یہ شعر ایک ایسے بچپن کی تصویر پیش کرتا ہے جہاں زندگی فطرت کے قریب تھی۔ کھیتوں کی خوشبو، کام کی ذمہ داری اور آدھی چھٹی کی خوشی مل کر ایک ایسی یاد بن جاتی ہے جو وقت گزرنے کے بعد بھی دل کو مسرور کرتی ہے۔ شاعر نے نہایت سادگی سے بچپن کی اس کیفیت کو بیان کیا ہے جس میں محنت بھی تھی اور معصوم خوشیاں بھی۔
نواب ناظم کے ہاں بچپن کی یادیں صرف ذاتی تجربات تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ایک اجتماعی احساس کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ ہر قاری ان اشعار میں اپنے بچپن کی جھلک محسوس کرتا ہے۔ یہی کسی بڑے شاعر کی کامیابی ہوتی ہے کہ وہ اپنے ذاتی احساس کو عام انسانی تجربے میں تبدیل کر دے۔
بچپن کی یادوں کے ساتھ فطرت کا تعلق بھی نواب ناظم کی شاعری کا اہم پہلو ہے۔ جگنو، کھیت، روشنی اور قدرتی مناظر ان کی شاعری میں محض الفاظ نہیں بلکہ زندگی کے خوب صورت استعارے ہیں۔ ان کے ذریعے شاعر اس سادہ اور پاکیزہ دنیا کو یاد کرتا ہے جو جدید زندگی کی مصروفیات میں کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔
فنی اعتبار سے نواب ناظم کی شاعری میں سادگی، روانی، منظر نگاری اور جذبات کی صداقت نمایاں ہے۔ وہ مشکل تراکیب کے بجائے عام فہم زبان میں ایسے احساسات پیش کرتے ہیں جو براہِ راست دل پر اثر کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں ماضی کی یاد، فطرت کی محبت اور بچپن کی معصومیت ایک دل نشیں امتزاج پیدا کرتی ہے۔
اسی حوالے سے اقبال کی نظم "بچہ اور جگنو” بھی یاد آتی ہے، جس میں بچے کی معصوم حیرت اور فطرت کے ایک ننھے مظہر سے اس کی دلچسپی کو پیش کیا گیا ہے۔ نواب ناظم کے ہاں بھی جگنو بچپن کی اسی حیرت، تجسس اور خوشی کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نواب ناظم کی شاعری میں بچپن کی یادیں صرف ماضی کا بیان نہیں بلکہ انسانی زندگی کی ان بنیادی خوشیوں کی یاد دہانی ہیں جو سادگی، محبت اور فطرت سے وابستگی میں پوشیدہ ہیں۔ ان کی شاعری ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ بچپن کے معصوم لمحے زندگی کا وہ سرمایہ ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود کبھی پرانے نہیں ہوتے۔
یوں نواب ناظم کی شاعری میں بچپن ایک روشن یاد، ایک خوب صورت احساس اور ایک ایسی دنیا کی علامت ہے جہاں خوشیاں چھوٹی مگر دل بہت بڑے ہوتے تھے۔ یہی کیفیت ان کی شاعری کو دل نشیں، مؤثر اور یادگار بناتی ہے۔






