حکمران اور عوام
اورنگزیب اعوان
دنیا بھر میں حکمران عوام میں سے منتخب ہوتے ہیں. مگر ہمارے ہاں حکمران طبقہ پتہ نہیں کس مخلوق کا نام ہے. اسے عوام کے دکھ درد تکلیف کی کوئی پرواہ نہیں. یہ تو صرف اور صرف اپنی شان و شوکت کے لیے پیدا ہوا ہے. یہ کس طرح سے منتخب ہوتے ہیں. انہیں کون اقتدار کے ایوانوں میں لیکر آتا ہے. پاکستانی عوام آج تک اس سوال کا جواب تلاش نہیں کر پائی. بدقسمتی سے اگر کوئی عوام میں سے منتخب ہو بھی جائے. تو وہ سرمایہ دار حکمران طبقہ کی عیاشیوں کی چمک دمک دیکھ کر ان میں اس طرح سے محو ہو جاتا ہے. کہ یہ عوام کی فکر چھوڑ کر اس عیاش پسند زندگی کی فکر میں لگ جاتا ہے. پاکستان کی تنزلی کا سبب ہماری معاشی، معاشرتی، تعلیمی زبوں حالی نہیں. بلکہ ہمارے حکمران طبقہ کی عیاشیاں ہیں. ایک غریب ملک کے رہنماؤں کا شاہانہ انداز زندگی دیکھ کر ترقی یافتہ ممالک کے حکمران بھی ورطہ حیرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں. کہ کیسے حکمران ہیں. جن کو اپنی غریب عوام کی پرواہ تک نہیں. یہ ایسے ترقیاتی منصوبے شروع کرتے ہیں. جس سے عام عوام کو کوئی فائدہ ملے یا نہ ملے. مگر ان کی ذاتی تشہیر کا سامان لازمی پیدا ہو جاتا ہے. یہ اربوں روپیہ کی لاگت سے ایسے منصوبے شروع کر رہے ہیں. جن کو استعمال کرنے کے لیے عوام کے پاس پیسہ تک نہیں. ہمارے حکمران عوام کو خوشحال نہیں.بلکہ فقیر بنانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں. بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مد میں اربوں روپیہ رکھا گیا ہے. مگر ایک گھرانہ کو ایک ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں. اس ایک ہزار کے رقم کے لیے مائیں بہنیں علی الصبح فجر کی نماز کے بعد سڑکوں پر لائنیں بنا کر بیٹھی ہوتیں ہیں. کیا ہی اچھا ہو. کہ اس سرمایہ سے کسی بھی پسماندہ علاقہ میں انڈسٹری لگا دی جائے. جس سے لوگوں کو روزگار میسر آئے گا. اور ایک گھرانہ کا ایک فرد کم از کم چالیس ہزار ماہوار تخواہ لے گا. ایک ہزار بہتر ہے. یا چالیس ہزار، اس طرح سے اس علاقہ کی پسماندگی بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی. مگر نہیں کیونکہ ہمارے حکمران عوام کی تقدیر بدلنا نہیں چاہتے. بلکہ اسے لائنوں میں کھڑا کر کے اپنی سخاوت کی مشہوری کرنا چاہتے ہیں. میٹرو بس، اورنج ٹرین سے عوام کا بھوکا پیٹ نہیں بھرے گا. یہ جانتے ہوئے بھی ان منصوبوں کو شروع کیا جا رہا ہے. کیونکہ سارا کھیل کمیشن کا ہے. بیرونی سرمایہ داروں کے ساتھ مل کر ان منصوبوں کو شروع کیا جاتا ہے. اور اس میں سے کروڑوں کا کمیشن پہلے ہی بیرون ملک اپنے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں وصول کر لیا جاتا ہے. دنیا بھر میں پیٹرول کی قیمتیں کم ہوتی ہے. ہمارے حکمران اس میں اضافہ کرتے ہیں. کیونکہ ان کے گھر کا کچن نہیں چل رہا. اس لیے وہ عوام پر بے جا ٹیکس لگا کر اپنے گھروں کے خرچے اور عیاشیاں کر رہے ہیں. ان کےچھوٹے چھوٹے بچے کرپٹو کرنسی کا کاروبار کر رہے ہیں. اور دنیا بھر میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں. یہ حکمران طبقہ ہی حقیقت میں پاکستان کی بربادی اور تباہی کا اصل سبب ہے. انہیں عام عوام کی تکالیف کا ادراک تک نہیں. یہ تو صرف اور صرف عیاشی اور سرمایہ بنانے کی غرض سے اقتدار کے ایوانوں میں آٹے ہیں. انہیں عوام بس اپنی تقاریر کی حد تک یاد ہے. یا شاید انہیں تقاریر لکھ کر دینے والے لفظ عوام اس میں شامل کر دیتے ہیں. ورنہ تو یہ سرمایہ اور کمیشن کا ذکر ہی کرتے رہے. موجودہ حکمران اور ماضی کے تمام حکمرانوں نے عوام کے نام پر اپنے بچوں کے لیے دنیا بھر میں سرمایہ جمع کیا ہے. ان کے اثاثہ جات بڑھاتے جاتے ہیں. اور عوام زندگیوں سے ہاتھ دھوتی جاتی ہے. عوام ان سرمایہ دار حکمرانوں کے لیے محض ایندھن کا کام دیتی ہے. جس کو جلا کر وہ سرمایہ اکھٹا کرتے ہیں. بے حس اور مفاد پرست حکمرانوں سے اچھے کی کوئی امید نہیں. یہ اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل روشن کرنے کے لیے حکومت میں آتے ہیں. پاکستان میں دولت کمانے کے لیے سیاست سے بہتر کوئی اور کاروبار نہیں. اس لیے یہ لوگ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اندرونی و بیرونی آقاؤں کو خوش کر کے اقتدار میں آتے ہیں. پھر ان آقاؤں کی خوشنودی حاصل کیے رکھنے کے لیے ان کی ہر جائز و ناجائز ضرورت کا خیال رکھتے ہیں. کاش کوئی عوام کا درد رکھنے والا بھی حکمران آ جائے. تو عوام اور ملک پاکستان کی تقدیر بدل جائے






