#اداریہ

یوم شہدائے کشمیر

Fahad 01

اج کا اداریہ

گزشتہ روز یوم شہدائے کشمیر منایا گیا ،یہ دن 1931 میں ڈوگرہ راج کی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے 22 کشمیری مسلمانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے منایا جاتا ہے۔یہ تاریخی واقعہ مزاحمت کی ایک ناقابلِ فراموش علامت ہے جب کشمیری مسلمانوں نے ریاستی ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے صرف اذان مکمل کرنے کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ یومِ شہدائے کشمیر پر 1931ء میں ڈوگرہ افواج کی فائرنگ کا سامنا کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے 22 کشمیری شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
یومِ شہدائے کشمیر پر جاری اپنے پیغام میں صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ اس دن، پاکستان کے عوام اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مل کر 1931ء کے شہداء کی عظیم قربانی کو یاد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ کشمیری عوام اب بھی بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ آج بھی نو لاکھ سے زائد بھارتی قابض افواج جموں و کشمیر پر اپنے ناجائز قبضے کو برقرار رکھنے کے لیے کشمیری عوام کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کشمیری عوام کی منفرد شناخت مٹانے اور انہیں اپنی ہی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنے کی ایک اور کوشش تھی۔ ان اقدامات کے بعد کشمیری عوام کے جذبات کو مجروح کرتے ہوئے، بھارت نے یومِ شہدائے کشمیر کی سرکاری تعطیل، جو 1948ء سے ہر سال منائی جاتی تھی، ختم کردی۔ بھارت نے مزارِ شہداء پر روایتی گارڈ آف آنر کی تقریب بھی بند کر دی۔
صدر مملکت نے کہا کہ آج، ہم1931ء کے شہداء اور اس منصفانہ جدوجہد میں اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والے تمام بے گناہ کشمیریوں کی قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے، بھارت پر زور دیتے ہیں کہ وہ بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں جبر و استبداد فوری طور پر بند کرے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ختم کرے، تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، فوجی محاصرہ ختم کرے اور مقبوضہ علاقے کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششوں سے باز آئے۔صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم بین الاقوامی برادری سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یومِ شہدائے کشمیر کو جموں و کشمیر کے عوام کے عزم، جرات اور غیر متزلزل استقامت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اپنے جائز حق اور امنگوں کے حصول کے لیے ثابت قدمی سے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔پاکستان کشمیری عوام کی اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے حصول کی منصفانہ جدوجہد میں مکمل یکجہتی کے ساتھ ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے،جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کا انحصار جموں و کشمیر کے تنازع کے پرامن حل پر ہے۔یومِ شہدائے کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ یومِ شہدائے کشمیر ہر سال 13 جولائی کو ان 22 کشمیری شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جنہوں نے 1931ء میں سری نگر میں پرامن مظاہرین پر ڈوگرہ انتظامیہ کی فائرنگ کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کی عظیم قربانی جموں و کشمیر کے عوام میں سیاسی شعور کی بیداری، وقار، بنیادی حقوق اور اپنی شناخت کے حصول کی جدوجہد میں ایک تاریخ ساز سنگ میل ثابت ہوئی۔وزیراعظم نے کہا کہ یومِ شہدائے کشمیر، جموں و کشمیر کے عوام کے عزم، جرات اور غیر متزلزل استقامت کی علامت بھی ہے، جس نے نسل در نسل کشمیری عوام کو انصاف کے حصول اور اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کی جدوجہد جاری رکھنے کی تحریک دی ہے۔ اس بنیادی حق کے لیے ہر قربانی دینے کا جذبہ آج بھی جموں و کشمیر کی تاریخی جدوجہد کی سمت متعین کر رہا ہے اور اس کی شناخت بن چکا ہے۔
کشمیریوں کی اپنے حقوق اور آزادی کے لئے کئی عشروں سے جاری جدوجہد میں 96 ہزار سے زیادہ کشمیری شہید ، 22 ہزار سے زیادہ خواتین بیوہ، 1 لاکھ 5 ہزار سےزیادہ بچے یتیم اور 10 ہزار سے زیادہ خواتین جنسی تشدد کا شکار ہو چکی ہیں۔ یہ فوجی موجودگی، مسلسل نگرانی اور جوابدہی کے ڈھانچے کی کمی نے کشمیریوں کی کئی نسلوں کو شدید نفسیاتی صدمے میں مبتلا کر دیا ہے اور ذہنی صحت کے ایک وسیع بحران کو جنم دیا ہے۔سکیورٹی کریک ڈاؤن کے علاوہ معاشی معاشی استحصال پر مبنی بھارتی حکام کے اقدامات کے ذریعے مقامی کشمیری تجارت کے شعبوں بشمول زراعت، سیب کے باغات اور مقامی دستکاروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ، جس سے وادی کی روایتی تجارتی آزادی اور خود کفالت شدید متاثر ہوئی ہے۔
تجاوزات کے خلاف مہموں کے نام پر مقامی آبادی کوان کی زمینوں کی ملکیت سے محروم کیا جا رہا ہے، جبکہ نئی انتخابی حلقہ بندیوں کے تحت غیر مقامی افراد کو ووٹر بنانے کی اجازت دے کر مقامی حلقوں میں آبادی کے تناسب کا تبدیل کیا جا رہا ہے۔2019 میں آرٹیکل 370 اور 35-A کے خاتمے کے بعد غیر مقامی افراد کو لاکھوں ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کے اجرا سے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت کو بڑے پیمانے پر تبدیل کیا جا رہا ہے جو چوتھے جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 49(6) کی خلاف ورزی ہے۔ یہ یکطرفہ قانون سازی اور انتظامی اقدامات اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں (47، 91 اور 122) کی بھی خلاف ورزی کرتے ہیں، جو علاقے کے حتمی فیصلے کے لیے آزاد اور غیر جانبدار استصواب رائے کا مطالبہ کرتی ہیں
انہوں نے کہا کہ بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں شدید عسکری محاصرے، مسلسل جبر و استبداد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود کشمیری عوام کے عزم میں کوئی لغزش نہیں آئی۔ من مانی گرفتاریوں، سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے، ذرائع ابلاغ پر قدغنیں عائد کرنے اور مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی و سیاسی تشخص کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مختلف اداروں نے بارہا دستاویزی شکل دی ہے اور ان کی مذمت کی ہے۔ اس کے باوجود جموں و کشمیر کے عوام اپنے جائز حق اور امنگوں کے حصول کے لیے ثابت قدمی سے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یوم شہدائے کشمیر

15/07/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے