#کالم

ریکی(تعارف، تاریخ اور عملی سفرایک مختصر جائزہ)

new desinhgchgchg

ابو بکر صدیق
(دل کی بات)
12

دورانِ تدریس میرے بہت سے طلبہ و طالبات نے ریکی کے بارے میں دلچسپی ظاہر کی اور اسے سیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ میرا ریکی سے باقاعدہ تعارف 2002ء کے آخر میں ہوا، جب مجھے اپنے مرشد اور ریکی ماسٹر، قبلہ ڈاکٹر عبدالغنی رحمۃ اللہ علیہ سے اٹیونمنٹ حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد اپریل 2003ء میں انہی کی نگرانی میں ریکی لیول ون اور لیول ٹو مکمل کیے، جس سے اس علم کو سمجھنے اور عملی طور پر سیکھنے کا موقع ملا۔

ریکی کیا ہے؟
ریکی (Reiki) جاپان میں شروع ہونے والا ایک روحانی اور تکمیلی طریقۂ کار ہے۔ اس کی بنیاد بیسویں صدی کے آغاز میں میکاؤ اوسوئی نے رکھی۔ "ریکی” دو جاپانی الفاظ، "رے” (کائناتی) اور "کی” (حیات بخش توانائی) سے مل کر بنا ہے، جس کا مطلب ہے "کائناتی حیات بخش توانائی”۔

روایت کے مطابق 1922ء میں میکاؤ اوسوئی نے جاپان کے پہاڑ کوراما یاما پر روحانی ریاضت کے دوران ایک خاص تجربہ حاصل کیا، جس کے بعد انہوں نے ریکی کو ایک باقاعدہ نظام کی شکل دی۔ ان کا مقصد انسان کی جسمانی، ذہنی، جذباتی اور روحانی بہتری کے ساتھ اچھے اخلاق اور اندرونی سکون کو فروغ دینا تھا۔

ریکی کے پانچ اصول
ریکی کی تعلیم پانچ سادہ مگر اہم اصولوں پر قائم ہے:

  • صرف آج کے لیے غصہ نہ کرو۔
  • صرف آج کے لیے فکر نہ کرو۔
  • اپنے رب کا شکر ادا کرو۔
  • دیانت داری سے اپنا کام کرو۔
  • سب لوگوں کے ساتھ مہربانی سے پیش آؤ۔

یہ اصول انسان کو مثبت سوچ، صبر، شکر، دیانت اور حسنِ اخلاق کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔

اٹیونمنٹ کیا ہے؟
اٹیونمنٹ ریکی سیکھنے کا پہلا اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ اس میں ریکی ماسٹر اپنے شاگرد کو عملی تربیت کے لیے تیار کرتا ہے۔ ریکی کے مطابق اس عمل سے طالبِ علم ریکی کی مشق کے لیے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ ہر شخص کا تجربہ مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے اس دوران محسوس ہونے والی کیفیات بھی ایک جیسی نہیں ہوتیں۔

ریکی کے درجات
ریکی لیول ون میں طالبِ علم ریکی کی بنیادی معلومات، ہاتھوں کی مختلف پوزیشنز، خود پر ریکی کرنے (Self-Healing) اور دوسروں کو ابتدائی ریکی سیشن دینے کا طریقہ سیکھتا ہے۔

ریکی لیول ٹو میں ریکی کی علامات (Symbols)، فاصلے سے ریکی (Distance Healing)، مراقبہ اور توانائی پر توجہ مرکوز کرنے کی مزید مشقیں سکھائی جاتی ہیں، جن سے عملی مہارت میں اضافہ ہوتا ہے۔

ریکی ماسٹر لیول آخری اور اعلیٰ مرحلہ ہے، جس میں طالبِ علم دوسروں کو ریکی سکھانے اور اٹیونمنٹ دینے کی تربیت بھی حاصل کرتا ہے۔ اس درجے میں علم کے ساتھ اخلاق، خدمت اور ذمہ داری کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔

میرے لیے ریکی کی تعلیم صرف ایک کورس نہیں تھی بلکہ خود کو بہتر بنانے، نظم و ضبط پیدا کرنے، روحانی شعور حاصل کرنے اور ذہنی یکسوئی کی طرف ایک نئے سفر کا آغاز تھی۔ بعد میں ماسٹر لیول تک کی تربیت نے اس نظام کو مزید گہرائی سے سمجھنے میں میری مدد کی۔

ریکی دنیا بھر میں ایک معروف تکمیلی روحانی طریقۂ کار کے طور پر جانی جاتی ہے۔ بہت سے لوگ اسے ذہنی سکون، تناؤ میں کمی اور مثبت سوچ کے لیے اختیار کرتے ہیں۔ تاہم اس کی افادیت کے بارے میں سائنسی ماہرین کی مختلف آراء موجود ہیں اور اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اسی لیے ریکی کو طبی علاج کا متبادل نہیں بلکہ ایک معاون اور تکمیلی طریقہ سمجھنا چاہیے۔ اس کا بنیادی پیغام اچھے اخلاق، اندرونی سکون، مثبت طرزِ فکر اور خدمتِ انسانیت کو فروغ دینا ہے۔

  1. ↩︎
  2. ↩︎
ریکی(تعارف، تاریخ اور عملی سفرایک مختصر جائزہ)

یوم شہدائے کشمیر

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے