غریب اور کیا کرے ؟
احساس کے انداز تحریر :۔ جاویدایازخان
گذشتہ روز ایک خبر اور ساتھ ہی خوشی سے بچوں کو انعام دیتے ہوۓ اس شہری کی تصویر دیکھ کر سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ اچھی خبر ہے یا بری خبر ہے ؟یہ خبر پڑھ کر خوش ہونا چاہیے یا افسوس ہونا چاہیے ؟ خبر کے مطابق ایک شخص نے دو سو یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے پر ایک انوکھا کام کیا ہے ۔شہری نے بجلی کے بل کو دو سو سے کم یونٹ رکھنے پر اپنے بچوں میں پانچ ہزار روپے تقسیم کردیے ۔شہری کا کہنا تھا کہ اگر دوسو سے ایک یونٹ بھی زیادہ ہوجاتے تو بل میں پانچ ہزار سے زیادہ رقم بلاوجہ شامل ہو جانی تھی ۔بچوں نے مل جل کر بجلی کا اچھے اور احتیاط سے استعمال کیا ہے اور بجلی کے بل کو دوسو یونٹ سے بڑھنے نہیں دیا ۔اس لیے اب یہ پانچ ہزار ان بچوں کا حق بنتا ہے ۔خبر اچھی اس لیے ہے کہ ہمارۓ ملک میں توانائی کی بچت کی سوچ پروان چڑھ رہی ہے اور افسوس ناک اس لیے کہ اس گھرانے نے یہ بچت کا ٹارگٹ حاصل کرنے کے لیے پورۓ ماہ کے دوران کیسی کیسی قربانیاں دی ہوں گی اور کیا کیا پاپڑ بیلے ہوں گے ؟آج کی حقیقت یہی ہے کہ زندہ رہنے کے لیے خوراک اور سانس کے بعد انسانی زندگی کی سب سے بڑی ضرورت بجلی بن چکی ہے ۔موسمیاتی تبدیلیوں نے اس کی طلب اور اہمیت کو دوگنا کردیا ہے ۔مگر بجلی کے بل کا خوف ہر ذہن کو پریشان رکھتا ہے ۔
میرے اپنے گھر میں ہی نہیں شاید ہر سفید پوش اور غریب کے گھر میں ہر وقت بیوی کی یہی چیخ وپکار سنائی دیتی رہتی ہے کہ "یہ فالتو بلب یا پنکھا کیوں جل رہا ہے ؟”کمرۓ کی لائٹ بلا ضرورت جل رہی ہے فورا” بند کرو یا پانی کی موٹر بند کرو ؟ ۔اور پورۓ ماہ کی بھاگ دوڑ کے باوجود بھی جب بجلی کا بل دو سو یونٹ سے بڑھ جاتا ہے تو بچوں کی شامت آجاتی ہے ۔کاش غریبوں کے گھروں میں بجلی کا کوئی ایسا کوئی میٹر بھی لگا ہوتا جو دو سو یونٹ پر پہنچتے ہی گھنٹی بجا کر مطلع کر دیتا کہ بس اب مزید گنجائش نہیں ہے ۔اس شدت کی گرمی میں جب لوڈشیڈنگ کی باعث بجلی گھنٹوں نہیں آتی تو گرمی سے بے حال بچے کہتے ہیں کہ امی جان ! چلو بجلی کی بچت تو ہو رہی ہے ناں ؟ شہر میں جہاں بھی جاؤاور جس سے بھی ملوتو ہر ذہن پر سوار بجلی کے بل کا دکھڑا ضرور سننے کو ضرور ملتا ہے ۔
چند دن قبل ہمارۓ گھرکی غریب ملازمہ سخت پریشان تھی اور اپنے اگلے ماہ کی تنخواہ ایڈوانس مانگ رہی تھی ۔جب وجہ دریافت کی تو پتہ چلا کہ چار بچوں کے ساتھ ایک کمرۓ میں گزارہ کرنے والی اس خاتون کا بجلی کا بل اتنا زیادہ آگیا ہے کہ ادائیگی ممکن نہیں ہو پارہی اور میٹر کٹ جاۓ تو گرمی کی اس شدت میں بغیر بجلی گزارہ بھی نہیں ہو سکتا ۔اپنی تھوڑی بہت جمع پونجی وہ پہلے ہی بجلی کے بلوں کی ادائیگی پر صرف کرچکی ہے ۔پچاس سینٹی گریڈ کے ٹمپریچر کے باوجود وز مرہ کرایہ بچانے کے لیے وہ تقریبا "ایک کلو میٹر پیدل سفربھی کرتی ہے ۔میں نے پوچھا بی بی ! اس ماہ تو ایڈونس لے کر کام چلا لو گی مگر یہ بل تو اگلے ماہ پھر آۓ گا ؟ تو کہنے گی اللہ مالک ہے کوئی نیا کام اور پکڑ لونگی کیونکہ بھوکا رہ کر تو زندہ رہا جاسکتا ہے مگر بجلی کے بغیر چھوٹے بچوں کے ساتھ اس گرمی میں جینا بڑا مشکل ہے ۔اس کے چہرۓ پر پھیلی پریشانی اور بےیقینی کی کیفیت صاف عیاں تھی ۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی، گیس اور دیگر بنیادی ضروریات کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے عام آدمی کی زندگی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ روزانہ محنت مزدوری کرنے والا شخص جب شام کو گھر لوٹتا ہے تو اس کے ذہن پر سب سے بڑا سوال یہی ہوتا ہے کہ بچوں کا پیٹ بھرے یا بجلی کا بل ادا کرے۔ جب ضروریاتِ زندگی آمدنی سے کہیں آگے نکل جائیں تو بے بسی، اضطراب اور مایوسی جنم لینے لگتی ہے۔آج مہنگائی کاجن بےقابو ہو چکا ہے ۔بجلی کا بل ایک امتحان بن گیا ہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ہاتھوں پریشان سفیر پوش یا غریب اپنی کسی بھی عام آمدنی میں اپنے گھر کا بجٹ نہیں بنا سکتا ۔آج یہ کسی ایک خاتون ملازمہ کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ ہر غریب اور سفیدپوش کا المیہ ہے ۔ہر شخص اپنی آمدنی بڑھانے اور اخراجات کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے ۔سوال یہ ہےکہ یہ غریب اور کیا کرۓ اور کس سے مدد مانگے ؟ مالی پریشانیوں کی وجہ سے خودکشیوں کے واقعات اس بات کا اشارہ ہیں کہ پانی سر سے گزر چکا ہے ۔
گذشتہ روز روزنامہ سیادت بہاولپور میں جناب کلب عابد خان کا ایک دردناک کالم” جب بجلی کا بل زندگی سے بھاری ہوجاے:ایک مزدور کی موت اور ریاست کی ذمہ داری ” پڑھا جو ایک نوجوان کے بارۓ میں لکھا گیا ہے جس نے بجلی کے بل کی وجہ سے اپنی جاں گنوا لی ۔یہ اس طرح کا کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ملک بھر میں مالی پریشانیوں سے منسلک خودکشیوں کی خبریں معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ ہر ایسا واقعہ صرف ایک فرد یا خاندان کا سانحہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سوال ہے کہ کیا ہم ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے اپنے کمزور طبقات کا سہارا بن سکتے تھے؟روزنامہ سیادت بہاولپورہمیشہ ایسے عوامی مسائل اور مشکلات کی نشاندہی کرنے کا اپنا مثبت صحافتی کردار ادا کرتا رہتا ہے ۔آے دن بجلی بلوں اور بھوک کے ہاتھوں تنگ لوگوں کی اپنے بچوں سمیت خودکشی کی خبریں بھی میڈیا پر دیکھنے میں آتی ہیں تو دل لرزنے لگتا ہے۔مگر ریلیف اور سہولت کی کوئی خبر نہیں آتی ۔
ایک طرف تو یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے، روزگار کے مواقع بڑھانے، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کو عوام کی استطاعت کے مطابق بنانے اور سماجی تحفظ کے نظام کو مؤثر کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ تو دوسری جانب اسی طرح مخیر ،صاحبِ استطاعت افراد، فلاحی اداروں اور مقامی برادریوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد موجود ضرورت مند خاندانوں کی خاموشی سے مدد کریں، تاکہ کوئی انسان صرف مالی تنگی کی وجہ سے خود کو تنہا اور بے آسرا محسوس نہ کرے۔اپنے اردگر د کے لوگوں اور خصوصی ہمسایوں کا خاص خیال رکھیں۔آپکی بروقت مدد کسی کے گھر کو روشن رکھ سکتی ہے تو یہ بھی عین انسانیت کی خدمت اور عبادت ہے ۔ مشکلات کتنی ہی شدید کیوں نہ ہوں، انسانی جان بے حد قیمتی ہے۔ وقتی بحران ہمیشہ مستقل نہیں رہتے، اور مدد مانگنا کمزوری نہیں بلکہ حوصلے کی علامت ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں تو بہت سے اندھیروں میں بھی امید کی کرن پیدا ہو سکتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف اعداد و شمار پر گفتگو نہ کریں بلکہ ایسے معاشرے کی تعمیر کریں جہاں کسی غریب کو یہ محسوس نہ ہو کہ اس کے لیے زندگی کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں۔ یہی ایک مہذب، باوقار اور انسان دوست معاشرے کی پہچان ہے۔یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ حکومت اور عوام دونوں اس مسئلے کو حل کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں ورنہ شدت کی یہ جان لیوا گرمی ، گھنٹوں کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کے بھاری بھر کم بل انسانی وجود پر اتنا بوجھ لاد دیں گے کہ چلنے کے قابل نہیں رہے گا ۔






