#کالم

عورت کب محفوظ ہوگی؟ ایک بیمار معاشرہ اور پاکستان کا تلخ سچ

Untitled 3

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
سوشل میڈیا پر آئے دن ایسی ویڈیوز سامنے آتی ہیں جو صرف ایک واقعے کی خبر نہیں ہوتیں بلکہ پورے معاشرے کا آئینہ بن جاتی ہیں۔ حال ہی میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے ہر حساس انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ صرف ایک خاتون کو ہراساں کیے جانے کا منظر نہیں تھا بلکہ پاکستانی معاشرے، ہماری اجتماعی سوچ، اخلاقی اقدار، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سیاسی قیادت اور سماجی رویوں پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان تھا۔
یہ سوال اب صرف یہ نہیں رہا کہ عورت کہاں محفوظ ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا پاکستان میں عورت کسی بھی عمر میں محفوظ ہے
بچی ہو یا طالبہ، ملازمت پیشہ خاتون ہو یا بزرگ عورت، گھریلو خاتون ہو یا سیاست دان، صحافی ہو یا جج، ہر عورت کسی نہ کسی درجے میں خوف، عدم تحفظ اور ہراسانی کے احساس کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ یہ صورت حال کسی ایک شہر، ایک طبقے یا ایک ادارے تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے۔
ہم اپنے شہروں میں سیف سٹی منصوبے بناتے ہیں، ہزاروں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرتے ہیں، جدید نگرانی کے نظام متعارف کراتے ہیں، مگر کیا کبھی کسی نے یہ سوچا کہ کیمرے جرم کو ریکارڈ تو کر سکتے ہیں، جرم کرنے والی ذہنیت کو ختم نہیں کر سکتے؟
اصل بیماری انسان کے دماغ میں ہے۔
اگر سوچ بیمار ہو جائے تو قانون بھی بے بس ہو جاتا ہے، کیمرے بھی بے معنی ہو جاتے ہیں اور معاشرہ بھی آہستہ آہستہ اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو جاتا ہے۔
آج ہماری گلیاں، بازار، دفاتر، تعلیمی ادارے، پبلک ٹرانسپورٹ، سوشل میڈیا اور یہاں تک کہ بعض گھروں کے اندر بھی عورت کو ہراساں کرنے والی ذہنیت موجود ہے۔ یہ صرف چند مجرموں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسی سوچ کا مسئلہ ہے جس نے مردانگی کو طاقت، جبر اور عورت پر برتری کے غلط تصور سے جوڑ دیا ہے۔
اسلام نے عورت کو عزت، احترام اور تحفظ دیا۔ رسول اکرم ﷺ نے خواتین کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایمان کی علامت قرار دیا۔ مگر افسوس کہ اسلام کے نام پر قائم ملک میں عورت کو وہ تحفظ حاصل نہیں جس کی تعلیم اسلام دیتا ہے۔
ہر بار جب کوئی افسوسناک واقعہ سامنے آتا ہے تو چند روز شور مچتا ہے، ہیش ٹیگ بنتے ہیں، بیانات آتے ہیں، کمیٹیاں بنتی ہیں، پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ لیکن متاثرہ عورت کی زندگی کبھی معمول پر نہیں آتی۔
ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ مسئلہ صرف قانون سازی کا نہیں بلکہ قانون پر عمل درآمد کا بھی ہے۔ اگر مجرم کو یقین ہو کہ وہ بااثر ہونے، سفارش یا کمزور تفتیش کے ذریعے بچ نکلے گا تو جرائم کا سلسلہ کبھی نہیں رکے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ گھروں میں بچوں کی تربیت بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ بیٹوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ عورت کوئی کمزور مخلوق نہیں بلکہ برابر کی انسان ہے، جس کے حقوق، عزت اور آزادی کا احترام ہر حال میں لازم ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بعض اوقات عورت کو ہی موردِ الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ اس کے لباس، اس کی ملازمت، اس کے باہر نکلنے یا اس کی موجودگی پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، جبکہ اصل سوال مجرم کی ذہنیت پر ہونا چاہیے۔
کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان یہ نہیں کہ وہاں کتنی بلند عمارتیں ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہاں عورت کتنی محفوظ ہے۔
آج پاکستان کو صرف معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام یا مہنگائی کا سامنا نہیں بلکہ اخلاقی بحران کا بھی سامنا ہے۔ جب معاشرے میں انسان دوسرے انسان کی عزت کو پامال کرنے لگے تو یہ زوال کی خطرناک علامت ہوتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ خواتین کی بڑھتی ہوئی سماجی، تعلیمی اور پیشہ ورانہ شرکت کے ساتھ ان کے خلاف نفرت، ہراسانی اور کردار کشی کے نئے طریقے بھی سامنے آئے ہیں۔ سوشل میڈیا نے جہاں اظہار کا موقع دیا، وہیں بدزبانی، بلیک میلنگ، جعلی ویڈیوز اور آن لائن ہراسانی کو بھی فروغ ملا۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ خواتین کے تحفظ کے لیے موجود قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنائے، پولیس کی تربیت بہتر کرے، تفتیش کو جدید بنائے، عدالتی کارروائی کو تیز کرے اور متاثرہ خواتین کے لیے محفوظ اور باوقار نظام فراہم کرے۔
لیکن صرف حکومت سب کچھ نہیں کر سکتی۔ اساتذہ، والدین، مذہبی رہنما، میڈیا، ادیب، شاعر، صحافی اور سماجی کارکن سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ معاشرے کی اصلاح صرف قانون سے نہیں بلکہ شعور سے ہوتی ہے۔
ہمیں اپنے بیٹوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ طاقت کسی کو خوفزدہ کرنے میں نہیں بلکہ کسی کمزور کی حفاظت کرنے میں ہے۔ اصل مردانگی عورت کی عزت میں ہے، اس کی تذلیل میں نہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اگر معاشرے میں خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو ترقی کا ہر دعویٰ کھوکھلا رہ جاتا ہے۔ تعلیم، صحت، معیشت، سیاست اور انصاف سب متاثر ہوتے ہیں۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس مسئلے کو سیاسی یا سماجی بحث تک محدود نہ رکھیں بلکہ قومی ترجیح بنائیں۔ اگر آج اس بیمار ذہنیت کا علاج نہ کیا گیا تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ یہ آگ ہر طبقے، ہر خاندان اور ہر ادارے تک پہنچ سکتی ہے۔
ہمارے حکمرانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ، تعلیمی اداروں اور مذہبی قیادت کو مل کر ایک ایسی فضا قائم کرنی ہوگی جہاں عورت احترام کے ساتھ زندگی گزار سکے، تعلیم حاصل کر سکے، ملازمت کر سکے، سفر کر سکے اور اپنے خواب پورے کر سکے۔
قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ اپنے کردار، انصاف اور اخلاق سے ترقی کرتی ہیں۔
آئیے ہم یہ عہد کریں کہ ہم خاموش تماشائی نہیں بنیں گے۔ ظلم کے خلاف آواز بلند کریں گے، متاثرہ خواتین کے ساتھ کھڑے ہوں گے، اپنے گھروں سے تربیت کا آغاز کریں گے اور ایسے پاکستان کی تعمیر کریں گے جہاں کسی ماں، بہن، بیٹی یا بزرگ خاتون کو صرف عورت ہونے کی وجہ سے خوف کے سائے میں زندگی نہ گزارنی پڑے۔
کیونکہ جس معاشرے میں عورت محفوظ نہ ہو، وہاں امن بھی محفوظ نہیں رہتا، تہذیب بھی نہیں اور مستقبل بھی نہیں۔

عورت کب محفوظ ہوگی؟ ایک بیمار معاشرہ اور پاکستان کا تلخ سچ

” روٹی کا حصول "

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے