#کالم

” روٹی کا حصول "

ChatGPT Image Jun 16 2026 12 53 45 AM

حروف بے زباں مرزا رضوان

ایک عام آدمی کی زندگی کا محور کیا ہے؟ اگر ہم اس سوال کا جواب تلاش کرنے نکلیں تو بیسیوں پیچیدہ فلسفیانہ بحثیں جنم لیں گی، لیکن اگر زمینی حقیقت کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا سادہ سا جواب "روٹی کا حصول” ہے۔ یہ روٹی، جو کسی بھی معاشرے میں بقا کی بنیادی علامت سمجھی جاتی ہے، آج پاکستان کے معاشی حب، یعنی کراچی میں ایک لگژری یا عیاشی بنتی جا رہی ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی حالیہ رپورٹس اور اعداد و شمار اس دردناک کہانی کی تصدیق کر رہے ہیں کہ کیسے ایک شہری آبادی، جو پورے ملک کی معیشت کا پہیہ گھماتی ہے، خود بنیادی خوراک کے لیے تڑپ رہی ہے۔
اعداد و شمار کی زبان بڑی بے رحم ہوتی ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی دستاویزات کے مطابق، ایک سال قبل کراچی میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1800 روپے تک تھی، جو اس وقت بھی ملک کے دیگر شہروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ تھی۔ آج ایک سال بعد، وہی تھیلا 2900 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ یہ محض اعداد و شمار میں اضافہ نہیں، بلکہ ہزاروں گھرانوں کے دسترخوان سے روٹی کے سائز میں کمی اور کئی کے ہاں چولہا ٹھنڈا ہونے کی کہانی ہے۔
کراچی، جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، آج مہنگائی اور معاشی بدحالی کی تاریکیوں میں گھرا ہوا ہے۔ وفاقی ادارہ شماریات کی یہ دستاویز اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی کے شہریوں کے ساتھ ایک طویل عرصے سے معاشی زیادتی ہو رہی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ پورے ملک میں سب سے زیادہ مہنگا آٹا اسی شہر میں بک رہا ہے جو ملک کو سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں صرف معیشت دان بننے کی ضرورت نہیں، بلکہ تھوڑی سی انتظامی بصیرت کی ضرورت ہے۔ کراچی میں آٹے کی قیمتوں کا یہ ہوشربا اضافہ محض عالمی منڈی کے اثرات نہیں، بلکہ اس میں انتظامی ناکامی، ذخیرہ اندوزی، اور سپلائی چین کے ناقص نظام کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ گندم کی فصل کی کٹائی سے لے کر چکی اور آٹا ملوں تک پہنچنے کے عمل میں جو "مافیاز” بیٹھے ہیں، وہ عام آدمی کی مجبوری کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
جب 20 کلو آٹے کا تھیلا 2900 روپے کا ہوگا، تو ایک دیہاڑی دار مزدور، جس کی روزانہ کی کمائی اس سے کہیں کم ہے، اپنے بچوں کا پیٹ کیسے بھرے گا؟ کیا وہ دودھ خریدے گا، بجلی کا بل دے گا، بچوں کی فیس ادا کرے گا یا پھر صرف روٹی خرید کر اپنی زندگی بچانے کی کوشش کرے گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب حکومت کے پاس تو شاید کوئی "پالیسی بیان” ہو، مگر عوام کے پاس اس کا جواب صرف فاقہ کشی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، گندم کی دستیابی اور آٹے کی قیمتوں میں مصنوعی تضاد تب پیدا ہوتا ہے جب ذخیرہ اندوزوں کو کھلی چھوٹ دی جائے۔ کراچی کی مارکیٹ میں گندم کی ترسیل کے عمل میں شفافیت کا فقدان ہے۔ جب سرکاری گوداموں سے ملوں کو کوٹہ جاری کیا جاتا ہے، تو اس کے بعد قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا نظام مکمل طور پر ناکام نظر آتا ہے۔ پرچون فروش (پرچون کی دکانیں) اور چکی مالکان، سب اپنی جگہ منافع خوری میں مصروف ہیں، جس کا بوجھ بالآخر آخری صارف پر پڑتا ہے۔
اس صورتحال کا ایک اور تاریک پہلو "سماجی بگاڑ” ہے۔ جب گھر کا سربراہ اپنے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھلا سکتا، تو معاشرے میں فرسٹریشن (بے چینی) پیدا ہوتی ہے۔ کراچی میں سٹریٹ کرائم اور چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے پیچھے جہاں دیگر وجوہات ہیں، وہیں ایک بڑی وجہ "بھوک” بھی ہے۔ جب انسان بنیادی ضرورت پوری کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے، تو وہ غلط راستوں کی طرف مائل ہونے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
حکومتِ وقت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کراچی کے لیے کوئی خاص ریلیف پیکج نظر نہیں آتا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اکثر ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر بری الذمہ ہو جاتی ہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات تو صرف ایک آئینہ ہے جو ہمیں دکھا رہا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ اصل کام تو ان پالیسی سازوں کا ہے جن کے ہاتھ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا اختیار ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی میں آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ سب سے پہلے تو "پائس کنٹرول کمیٹیوں” کو فعال کیا جائے جو صرف کاغذی کارروائی کے بجائے زمینی سطح پر چھاپے ماریں۔ شہر میں قائم سستا بازاروں کی تعداد بڑھائی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ رعایتی نرخوں پر ملنے والا آٹا عام شہری تک پہنچے، نہ کہ ذخیرہ اندوزوں کی جیبوں میں جائے۔ اس کے علاوہ، گندم کی ترسیل کے راستوں پر کڑی نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتیں بڑھانے والوں کا راستہ روکا جا سکے۔
ایک طویل مدتی حل کے طور پر، کراچی میں آٹے کی سرکاری سپلائی چین کو ڈیجیٹلائز کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہر راشن کارڈ یا شناختی کارڈ پر آٹے کی فراہمی کو ریکارڈ کیا جائے، تو ذخیرہ اندوزی پر قابو پانا ممکن ہوگا۔ ساتھ ہی، سندھ اور پنجاب کے درمیان گندم کی بین الصوبائی نقل و حمل پر لگی غیر اعلانیہ پابندیوں کو ختم کر کے ایک آزاد مارکیٹ کا تصور لایا جائے، تاکہ سپلائی میں خلل نہ آئے۔
کراچی کے عوام نے ہمیشہ ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا ہے، مگر آج وہی عوام خود کو بے یار و مددگار محسوس کر رہے ہیں۔ روٹی کی قیمت میں یہ اضافہ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں، یہ ایک سماجی بحران کا پیش خیمہ ہے۔ اگر اس بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سیلاب کو نہ روکا گیا، تو معاشرے میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس مزید بڑھے گا۔
حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ کسی بھی ریاست کا استحکام اس کے شہریوں کے پیٹ بھرنے سے جڑا ہوتا ہے۔ اگر کراچی جیسے شہر میں، جہاں معاشی سرگرمیاں سب سے زیادہ ہیں، وہاں بنیادی خوراک اتنی مہنگی ہو جائے گی، تو

” روٹی کا حصول "

غریب اور کیا کرے ؟ 

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے