#کالم

مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح

new desing25

از حکیم راحت نسیم سوہدروی

پاکستان کی تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے اپنی بصیرت، فراست اور کردار کے ذریعے قوم کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لی۔ ان ہی عظیم شخصیات میں محترمہ فاطمہ جناح کا نام نمایاں ہے۔ قوم انہیں محبت اور احترام سے "مادرِ ملت” کے لقب سے یاد کرتی ہے۔ انہوں نے نہ صرف تحریکِ پاکستان میں اہم کردار ادا کیا بلکہ قیامِ پاکستان کے بعد بھی تعمیر و استحکام پاکستان، جمہوریت، قومی یکجہتی اور عوامی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔ ان کی زندگی خدمت، ایثار، دیانت اور عزم و استقلال کی روشن مثال ہے۔
محترمہ فاطمہ جناح 31 جولائی 1893ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ وہ بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کی چھوٹی بہن تھیں۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے طب کے شعبے کا انتخاب کیا اور دندان سازی (ڈینٹسٹری) کی تعلیم مکمل کی۔ اس زمانے میں خواتین کا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا آسان نہیں تھا، لیکن فاطمہ جناح نے اپنے عزم اور محنت سے یہ ثابت کیا کہ خواتین ہر شعبے میں کامیابی حاصل کر سکتی ہیں۔
فاطمہ جناح کی زندگی کا ایک اہم پہلو ان کا اپنے بھائی محمد علی جناح کے ساتھ غیر معمولی تعلق تھا۔ جب جناح صاحب کی اہلیہ کا انتقال ہوا تو فاطمہ جناح نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ وہ نہ صرف ایک بہن بلکہ ایک قابلِ اعتماد مشیر اور رفیقِ کار بھی تھیں۔ تحریکِ پاکستان کے دوران انہوں نے مسلم خواتین کو منظم کرنے، ان میں سیاسی شعور بیدار کرنے اور انہیں قومی جدوجہد میں شریک کرنے کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔
تحریکِ پاکستان میں فاطمہ جناح کا کردار انتہائی اہم تھا۔ وہ مختلف شہروں کا دورہ کرتیں، خواتین کے اجتماعات سے خطاب کرتیں اور مسلمانوں کو ایک الگ وطن کے قیام کی ضرورت سے آگاہ کرتیں۔ ان کی تقاریر میں اعتماد، خلوص اور قومی جذبہ نمایاں ہوتا تھا۔ انہوں نے خواتین کو گھر کی چار دیواری سے نکل کر قومی معاملات میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔ یہی وجہ ہے کہ تحریکِ پاکستان میں خواتین کی بھرپور شرکت ممکن ہوئی۔
1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد ملک کو بے شمار مسائل کا سامنا تھا۔ لاکھوں مہاجرین سرحد پار کرکے پاکستان آئے تھے اور انہیں رہائش، خوراک اور طبی سہولیات کی ضرورت تھی۔ فاطمہ جناح نے اس مشکل وقت میں متاثرین کی خدمت کے لیے دن رات کام کیا۔ انہوں نے مہاجرین کے کیمپوں کا دورہ کیا، ان کے مسائل سنے اور ان کی مدد کے لیے مختلف اقدامات کیے۔ ان کی خدمات نے لاکھوں لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے احترام اور محبت پیدا کی۔
فاطمہ جناح خواتین کی تعلیم اور فلاح و بہبود کی زبردست حامی تھیں۔ ان کا یقین تھا کہ کسی بھی قوم کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خواتین کو تعلیم اور مساوی مواقع فراہم نہ کیے جائیں۔ انہوں نے مختلف سماجی اور فلاحی اداروں کی سرپرستی کی اور خواتین کو معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔ ان کی سوچ آج بھی پاکستانی خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
بانیٔ پاکستان محمد علی جناح کے انتقال کے بعد فاطمہ جناح نے قومی معاملات پر گہری نظر رکھی۔ جب انہیں محسوس ہوا کہ ملک میں جمہوری اقدار کمزور ہو رہی ہیں تو انہوں نے عوامی آواز بننے کا فیصلہ کیا۔ 1965ء میں انہوں نے صدارتی انتخاب میں حصہ لیا اور آمریت کے خلاف جمہوری قوتوں کی نمائندگی کی۔ اگرچہ وہ انتخاب میں کامیاب نہ ہو سکیں، لیکن ان کی جدوجہد نے ملک میں جمہوریت کے فروغ کے لیے ایک نئی امید پیدا کی۔ ان کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ اصولوں پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے حق اور انصاف کے لیے آواز بلند کرنے پر یقین رکھتی تھیں۔
فاطمہ جناح کی شخصیت نہایت باوقار، سادہ اور مضبوط تھی۔ وہ سادگی کو پسند کرتی تھیں اور عوام کے مسائل کو اپنی ترجیح سمجھتی تھیں۔ ان کے کردار میں دیانت داری، اخلاص، حب الوطنی اور بے لوث خدمت کے عناصر نمایاں تھے۔ انہوں نے کبھی ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح نہیں دی۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو قوم کی خدمت اور پاکستان کی ترقی کے لیے وقف تھا۔
ان کی تحریروں اور تقاریر سے بھی ان کی گہری بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ قومی اتحاد، جمہوری روایات اور قانون کی بالادستی پر زور دیا۔ وہ سمجھتی تھیں کہ پاکستان کی مضبوطی اس کے عوام کے اتحاد اور جمہوری نظام کے استحکام میں پوشیدہ ہے۔ ان کے خیالات آج بھی پاکستان کے سیاسی اور سماجی منظرنامے میں اہمیت رکھتے ہیں۔
9 جولائی 1967ء کو فاطمہ جناح اس دنیا سے رخصت ہو گئیں، لیکن ان کی خدمات اور قربانیاں آج بھی زندہ ہیں۔ قوم ان کی جدوجہد کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ ان کی وفات سے پاکستان ایک مخلص رہنما، سماجی کارکن اور جمہوریت پسند شخصیت سے محروم ہو گیا، مگر ان کا نام تاریخ کے سنہرے صفحات میں ہمیشہ روشن رہے گا۔
آج جب ہم مادرِ ملت فاطمہ جناح کی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں ایک ایسی عظیم خاتون نظر آتی ہیں جس نے ہر مرحلے پر قوم کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ انہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے، قومی یکجہتی کو فروغ دینے اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی شخصیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اخلاص، محنت، دیانت داری اور قومی خدمت کے جذبے سے بڑے سے بڑا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔
مادرِ ملت فاطمہ جناح صرف ایک تاریخی شخصیت نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک حوصلہ اور ایک مثال ہیں۔ ان کی زندگی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اگر ہم ان کے اصولوں اور افکار کو اپنائیں تو ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کی تعمیر ممکن ہو سکتی ہے۔ یہی ان کے لیے بہترین خراجِ عقیدت ہوگا اور یہی ان کی خدمات کا حقیقی اعتراف بھی۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے