جب اعتماد ٹوٹتا ہے تو قوموں کا وقار بھی زخمی ہوتا ہے
تحریر: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق
دنیا میں قوموں کی پہچان صرف بلند عمارتوں، بڑی شاہراہوں اور معاشی ترقی سے نہیں ہوتی بلکہ اصل پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہاں قانون کتنا مضبوط، انصاف کتنا غیر جانبدار اور انسان کی عزت کتنی محفوظ ہے۔ ایک معاشرہ اسی وقت مہذب کہلاتا ہے جب وہاں طاقتور اور کمزور، اپنے اور غیر، سب کے لیے قانون کا معیار ایک جیسا ہو۔
حالیہ دنوں میں علی رضا ڈار کے حوالے سے سامنے آنے والا معاملہ عوامی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ غیر ملکی خواتین سے کاروباری روابط، انہیں پاکستان بلانے اور پھر مبینہ طور پر اغوا اور زیادتی جیسے سنگین الزامات نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ معاملہ صرف ایک فرد یا چند افراد تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے نظامِ انصاف، قانون کی عمل داری اور عالمی اعتماد سے بھی جڑا ہوا ہے۔
یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر الزام کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ہونی چاہئیں۔ نہ کسی متاثرہ شخص کی آواز دبائی جائے اور نہ کسی ملزم کو عدالت کے فیصلے سے پہلے مجرم قرار دیا جائے۔ یہی قانون کا حسن ہے اور یہی انصاف کا تقاضا ہے۔
اگر کوئی غیر ملکی خاتون یا شہری پاکستان کی سرزمین پر آتا ہے تو وہ صرف ایک شخص پر نہیں بلکہ پورے ملک کے نظام پر اعتماد کر کے آتا ہے۔ اس اعتماد کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ مہمان کی عزت، جان اور تحفظ ہماری اخلاقی، قانونی اور معاشرتی ذمہ داری ہے۔
اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہو کہ کسی کے ساتھ دھوکہ، اغوا یا جنسی زیادتی ہوئی ہے تو پھر ایسے جرم پر کوئی نرمی نہیں ہونی چاہیے۔ ایسے واقعات صرف متاثرہ فرد کی زندگی نہیں بدلتے بلکہ ملک کے وقار کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایک انسان کا درد، اس کی بے بسی اور اس کی پکار کسی سرحد کی محتاج نہیں ہوتی۔
لیکن اسی کے ساتھ ایک دوسرا اصول بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ انصاف جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقائق اور ثبوتوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا پر خبریں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں۔ چند پوسٹس اور تبصروں کی بنیاد پر رائے قائم کر لینا آسان ہے مگر عدالت کا راستہ تحقیق، گواہی اور ثبوت سے گزرتا ہے۔
پولیس اور تحقیقاتی اداروں کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ انہیں چاہیے کہ کسی دباؤ، سفارش یا اثر و رسوخ کے بغیر حقیقت سامنے لائیں۔ نہ کسی طاقتور کو بچایا جائے اور نہ کسی کمزور کو نظر انداز کیا جائے۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہونے چاہئیں۔
پاکستان پہلے ہی عالمی سطح پر مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں اگر غیر ملکی شہریوں سے متعلق کوئی واقعہ سامنے آئے تو اس کی شفاف تحقیقات اور بھی ضروری ہو جاتی ہیں کیونکہ دنیا ایسے معاملات کو بہت غور سے دیکھتی ہے۔ ایک درست فیصلہ پاکستان کے عدالتی نظام پر اعتماد بڑھا سکتا ہے جبکہ لاپرواہی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ جدید دور میں آن لائن دوستی، کاروباری تعلقات اور بین الاقوامی روابط بہت عام ہو چکے ہیں۔ ایسے تعلقات میں اعتماد کے ساتھ احتیاط، قانونی تحفظ اور واضح اصول ضروری ہیں تاکہ کوئی شخص کسی دوسرے کے اعتماد کا غلط استعمال نہ کر سکے۔
عورت چاہے کسی بھی ملک، رنگ، مذہب یا قوم سے تعلق رکھتی ہو، اس کی عزت اور تحفظ بنیادی انسانی حق ہے۔ کسی بھی معاشرے کی اخلاقی بلندی کا اندازہ اسی سے لگایا جاتا ہے کہ وہ کمزور اور مدد کے طلبگار افراد کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ ایسے تمام معاملات میں ایک واضح پیغام دے کہ پاکستان کی سرزمین پر قانون سب کے لیے برابر ہے۔ اگر جرم ثابت ہو تو سزا یقینی ہو، اور اگر الزام غلط ثابت ہو تو بے گناہ شخص کی عزت بھی بحال ہو۔
انصاف کا مطلب صرف مجرم کو سزا دینا نہیں، بلکہ سچ تک پہنچنا ہے۔ انصاف تب مکمل ہوتا ہے جب مظلوم کو حق ملے، بے قصور کو تحفظ ملے اور معاشرے کو یہ یقین ہو کہ قانون جاگ رہا ہے۔
قوموں کی عزت ان کے انصاف سے قائم رہتی ہے۔ جہاں انصاف زندہ ہو، وہاں اعتماد بھی زندہ رہتا ہے، اور جہاں اعتماد زندہ رہے وہاں قومیں کبھی کمزور نہیں ہوتیں۔






