#کالم

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آۓ 

Untitled 5

احساس کےانداز  تحریر :۔ جاویدایازخان 

قومیں صرف بڑی یونیورسٹیوں، جدید عمارتوں اور طویل نصاب سے ترقی نہیں کرتیں، بلکہ وہ اس دن ترقی کی حقیقی راہ پر گامزن ہوتی ہیں جب وہ اپنے سب سے کمزور اور محروم افراد کی صلاحیتوں پر یقین کرنا سیکھ لیتی ہیں۔ کسی معاشرے کا اصل چہرہ اس کے اسپتالوں، جیلوں اور اسپیشل ایجوکیشن کے اداروں میں نظر آتا ہے، جہاں یہ طے ہوتا ہے کہ ہم معذوری کو مجبوری سمجھتے ہیں یا ایک مختلف صلاحیت۔خصوصی بچوں کی تعلیم کو اب بھی بدقسمتی سے روائتی نصاب کی عینک سے دیکھا جاتا ہے اور عام طور پر کامیابی کا معیار صرف امتحانات اور ڈگریوں کو سمجھا جاتا ہے ۔جبکہ دنیا اب مہارت ،تخلیق اور ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو چکی ہے ۔ہر بچہ ڈاکٹر ،انجینئریا سائنس دان نہیں بن سکتا ۔لیکن ہر بچے میں کوئی نہ کوئی ایسی صلاحیت ہوتی ہے۔گزشتہ دنوں ایک دیرینہ دوست خالد سعید سے ملاقات ہوئی جنہوں نے اس سوچ کو عملی شکل دےدی ہے ۔سابق بینکار اور نامور مصور  نے خصوصی بچوں کے دو تعلیمی اداروں  میں رضاکارانہ طور پر مصوری ،پینٹنگ اور آرٹ و کرافٹ مختلف شعبوں میں تعلیم دینے کا بیڑہ اٹھایا ہے اور خدمت خلق کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے ۔انہیں امید ہے کہ اگر کسی بچے کے ہاتھ میں برش آجاۓ تو شاید اس کی زندگی میں امید کے رنگ بھی اتر آئیں گے ۔ یہ صرف مصوری نہیں، بلکہ خود اعتمادی کی تعلیم ہے۔ جب ایک اسپیشل بچہ اپنی تخلیق کو مکمل کرتا ہے تو وہ صرف ایک تصویر نہیں بناتا، بلکہ اپنے دل میں یہ یقین بھی پیدا کرتا ہے کہ وہ بھی کچھ کر سکتا ہے، وہ بھی معاشرے کے لیے مفید بن سکتا ہے۔

معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے جیتے ہیں۔ وہ شہرت کے متلاشی نہیں ہوتے، نہ ہی ان کے ہاتھ میں کوئی سرکاری اختیار ہوتا ہے، مگر ان کے کردار کی روشنی بہت سے اندھیروں کو مٹا دیتی ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے دم سے انسانیت زندہ رہتی ہے۔خالد سعید بھی انسانیت کے ایسے ہی خاموش خدمت گزار ہیں ۔سابق بینکار ہونے کے باوجود انہوں نے ریٹائرمنٹ کو میری طرح آرام کا نام نہیں دیا بلکہ اسے خدمت خلق کا ایک نیا باب بنا دیا ۔آج وہ اسکول آف اسپیشل ایجوکیشن اور سنٹرل لائبریری میں خصوصی بچوں کو رضاکارانہ طور پر آرٹ اینڈ کرافٹ یعنی مصوری ،پینٹنگ اور تخلیقی فنون کی تعلیم دے رہے ہیں ۔جہاں ان کی اس خدمت کے پیچھے نہ مالی منفعت ہے اور نہ شہرت کی خواہش بلکہ اپنی زندگی میں صرف انسانیت سے محبت اور معاشرۓ کو کچھ لوٹانے کا جذبہ ہے ۔

ہاتھ پیر ، آنکھوں ،کانوں اور زبان سے محروم خصوصی بچے کسی ترس کے نہیں بلکہ اعتماد اور مواقع کے مستحق ہوتے ہیں۔ ان کے ہاتھ اگرچہ عام بچوں سے مختلف انداز میں کام کرتے ہیں، مگر ان کے خواب، احساسات اور تخلیقی صلاحیتیں کسی سے کم نہیں ہوتیں۔ جب ایک مخلص استاد ان کے ہاتھ میں برش دیتا ہے تو دراصل وہ ان کے ہاتھ میں خود اعتمادی، امید اور ایک باوقار مستقبل تھما دیتا ہے۔آج دنیا مصنوعی اور ڈیجیٹل آرٹ کے دور میں داخل ہو چکی ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ خصوصی تعلیمی اداروں میں روائتی نصاب کے ساتھ ساتھ آرٹ اور کرافٹ یعنی آرٹ ،گرافک ڈیزائین ،پینٹنگ ،مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید مہارتوں کو بھی فروغ دیا جاۓ تاکہ بچے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر معاشی طور پر خود مختار بن سکیں ۔ خالد سعید جیسے لوگ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ قومیں صرف بلند و بانگ دعووں سے نہیں بنتیں بلکہ ایسے کرداروں سے بنتی ہیں جو خاموشی سے دوسروں کی زندگیوں میں رنگ بھر دیتے ہیں۔ ممکن ہے کل انہی خصوصی بچوں کی بنائی ہوئی کوئی تصویر کسی عالمی نمائش میں آویزاں ہو، اور لوگ داد دیتے ہوئے یہ نہ جانتے ہوں کہ اس شاہکار کے پیچھے ایک ایسے استاد کا اخلاص شامل ہے، جس نے انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت فن بنا لیا۔خالدسعید نے اپنے اس مشن کا آغاز گورنمنٹ ڈگری کالج آف سپیشل ایجوکیشن بہاولپور سے کیا اور اپنی کامیبوں کے جھنڈے گاڑھ دیے ۔آج بھی سکینڈری یجوکیشن اسکول بہاولپور  اور سینٹرل لائبریری بہاولپور میں آرٹ کلاسزکا اہتمام کر رہے ہیں ۔اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے اشراک سے بےشما ر تصویری نمائشوں کا انعقاد کر چکے ہیں ۔جہاں معذور بچوں کے فن پاروں نے پسندیدگی اور توجہ ہی نہیں بلکہ پینٹنگ کی فروخت سےحوصلہ افزائی بھی پائی ۔ 

بہاولپور کی سرزمین صدیوں سے فنونِ لطیفہ، دستکاری اور ہنرمندی کا گہوارہ رہی ہے۔ یہاں کا آرٹ اور ہینڈی کرافٹ محض ایک پیشہ نہیں بلکہ تہذیب، ثقافت اور شناخت کا استعارہ ہے۔ مٹی کے برتن سازی، فنِ مصوری، کشیدہ کاری، شیشہ کاری، لکڑی کی نفیس نقش و نگاری اور کندن کے نام سے مشہور چاندی کے روایتی زیورات نے اس خطے کو برصغیر کی ممتاز ثقافتی روایتوں میں نمایاں مقام عطا کیا ہے۔ یہ ہنر نسل در نسل منتقل ہوتے رہے اور ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ بھی بنے۔یہاں پر کوزہ گری ،سایکل رکشوں اور تانگوں پر نقش ونگار کا فن منفرد تھا ۔ 

اگر اسپیشل ایجوکیشن کے اداروں میں انہی روایتی فنون کو جدید تقاضوں کے ساتھ جوڑ دیا جائے، اور خصوصی بچوں کو روایتی دستکاری کے ساتھ ڈیجیٹل آرٹ، آن لائن مارکیٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کی تربیت بھی دی جائے، تو وہ نہ صرف اپنی ثقافتی میراث کے امین بنیں گے بلکہ مقامی ہنر کو عالمی منڈی تک پہنچانے میں بھی اہم کردار ادا کر سکیں گے۔ یوں بہاولپور کی صدیوں پرانی دستکاری نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ایک نئی زندگی حاصل کرے گی، اور خصوصی بچے اس ثقافتی ورثے کے محافظ بھی بنیں گے اور اس سے باعزت روزگار بھی حاصل کریں گے

آج مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل آرٹ، گرافک ڈیزائن اور آن لائن فری لانسنگ نے دنیا میں روزگار کے بے شمار نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ اگر ہمارے اسپیشل ایجوکیشن کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آرٹ، پینٹنگ، کمپیوٹر، مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ہنر باقاعدہ سکھائے جائیں تو ہزاروں خصوصی بچے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر خود کفیل بن سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سائنس یا دوسرے مضامین کی اہمیت کم ہو جاتی ہے، بلکہ یہ کہ تعلیم کو ہر بچے کی صلاحیت اور ضرورت کے مطابق ڈھالا جائے۔ میری دلی خواہش ہے کہ ملک کے ہر اسپیشل ایجوکیشن ادارے میں خالد سعید جیسے رضاکار پیدا ہوں۔ جو ہفتے میں چند گھنٹے ہی سہی، مگر خصوصی بچوں کے لیے وقف کریں۔ شاید ان چند گھنٹوں کی محنت کسی بچے کی پوری زندگی بدل دے۔ انسانیت کی خدمت صرف عطیات دینے کا نام نہیں، بلکہ کسی محروم انسان کو اپنے قدموں پر کھڑا کر دینا سب سے بڑی خدمت ہے۔ جو ہاتھ کسی بچے کو قلم، برش یا کمپیوٹر کا ماؤس پکڑا دے، وہ درحقیقت اس کے ہاتھ میں عزت، اعتماد اور مستقبل تھما دیتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم خصوصی بچوں کو رحم کی نگاہ سے نہیں بلکہ امکانات کی نگاہ سے دیکھیں۔ انہیں مدد نہیں، مواقع چاہئیں؛ ہمدردی نہیں، مہارت چاہیے؛ اور اگر ہم نے انہیں یہ مہارتیں دے دیں تو یقین جانیے، کل یہی بچے اپنے رنگوں، اپنی تخلیقات اور اپنی کامیابیوں سے پاکستان کا نام روشن کریں گے۔تاکہ رنگوں سے روشن ہوتے یہ خواب تعبیر پا سکیں ۔

آج سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا نے فن اور ہنر کی سرحدیں ختم کردی ہیں ۔ایک باصلاحیت بچے کی بنائیء ہوئی تصویریا خوبصورت پینٹنگ ،کشدہ کاری کا نمونہ یا مٹی کے برتن کا منفرد ڈیزائن چند لمحوں میں دنیا بھر کے لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اب ہنر صرف نمائشوں یا بازاروں کا محتاج نہیں رہا، بلکہ موبائل فون کی ایک اسکرین پوری دنیا کو بازار میں تبدیل کر چکی ہے۔ اگر آج ہم اپنے خصوصی بچوں کے ہاتھوں میں صرف کتاب کے ساتھ برش، قلم، ڈیجیٹل قلم اور جدید ٹیکنالوجی بھی دے دیں، تو آنے والا کل ان کے لیے زیادہ روشن، زیادہ باوقار اور زیادہ بااختیار ہوگا۔ یہی وہ سرمایہ کاری ہے جس کا منافع صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو ملتا ہے، کیونکہ کسی انسان کو ہنر مند بنا دینا یقیناً خدمتِ انسانیت کی اعلیٰ ترین صورتوں میں سے ایک ہے۔قوموں کا مستقبل صرف سائنس دان ،انجینئر یا ڈاکٹر ہی نہیں بناتے بلکہ وہ اساتذہ بھی بناتے ہیں جو محروم بچوں کو ان کی صلاحیتوں پر یقین کرنا سکھادیتے ہیں ۔ایسے لوگ واقعی معاشرۓ کا قیمتی سرمایہ اور انسانیت کا روشن چہرہ ہوتے ہیں ۔آئیں پاکستان کے ہر شہر میں کچھ خالد سعید جیسے پرعزم لوگ تلاش کریں جن کے رنگ باتیں کریں اور معاشرۓ کو خوشبو سے مہکا دیں ۔

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آۓ 

06/07/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے