امن و سلامتی کیلیے پاک ‘ بھارت وزرائے اعظم کو خطوط
اج کا اداریہ1
پاکستان اور بھارت کے ممتاز شہریوں کی طرف سے ٹریک ٹو ملاقاتوں اور وزرائے اعظم کو امن و سلامتی کیلیے خطوط لکھے گئے ہیں ۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے نام لکھے گئے خط میں کہاگیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تلخیوں کو ختم کرنے اور باہمی مسائل کو حل کرنے کیلیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔
مسئلہ کشمیر: خط میں مسئلہ کشمیر کے پرامن حل اور 2004ء سے 2007ء کے درمیان ہونے والی پیشرفت کا خصوصی تذکرہ کیا گیا ہے ۔
عوامی مطالبات: پر دستخط کرنے والی 117 نامور شخصیات نے دونوں رہنماؤں سے عوام کی بہتری اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے ۔
پاکستان کا ماننا ہے کہ ’جنوبی ایشیا میں امن اور سلامتی کے امور پر امریکی شمولیت کا خیرمقدم کرے گا۔‘ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ نے ان ملاقاتوں کی تصدیق یا تردید نہیں کی اور نہ ہی شہباز شریف اور نریندر مودی کے نام لکھے گئے خط پر تبصرہ کیا۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی ملک امن اور سلامتی کے امور میں مدد کے مقصد سے انڈیا اور پاکستان دونوں کے ساتھ رابطہ کرنا چاہتا ہے تو پاکستان اس میں شامل ہو سکتا ہے۔‘
خیال رہے کہ بھارت اور پاکستان کے سو سے زائد ممتاز شہریوں نے دونوں ممالک کے وزرائے اعظم سے مشترکہ اپیل کی ہے کہ وہ باہمی مذاکرات، سفارتی تعلقات، تجارت اور عوامی روابط کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کریں۔
دریں اثنا حالیہ دنوں میں ذرائع ابلاغ میں کچھ ایسی رپورٹس شائع ہوئی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مئی 2025 کے پاکستان، انڈیا تنازع کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی ٹریک ٹو سفارت کاری کا سلسلہ جاری ہے۔ ان رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ حالیہ دنوں میں قطر، بنکاک اور کولمبو وغیرہ میں چند غیررسمی ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔دو روز قبل اس ضمن میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے کہا تھا کہ ’یہ نجی طور پر منعقد کی گئی تقاریب ہوتی ہیں، جن کا اہتمام غیر سرکاری فریقوں کی جانب سے کیا جاتا ہے۔مصری کا کہنا تھا کہ ’ہمارے نزدیک اِن (تقریبات، ملاقاتوں) کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے۔ بھارت سے جو بھی افراد ان تقریبات میں شریک ہوتے ہیں، چاہے وہ ریٹائرڈ سفارتکار ہوں، ریٹائرڈ فوجی افسران ہوں یا سول سوسائٹی کے ارکان، وہ اس میں اپنی ذاتی حیثیت میں شرکت کرتے ہیں اور اپنا ذاتی نقطۂ نظر پیش کرتے ہیں۔‘
بھارتی سیکریٹری خارجہ کے مطابق اِن تقاریب میں شریک ہونے والے افراد ’کسی بھی طرح سے بھارتی حکومت کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتے اور نہ ہی کر سکتے ہیں۔‘
جمعرات کو ہفتہ وار بریفننگ کے دوران ٹریک ٹو سفارتکاری کے تحت ہونے والی ملاقاتوں سے متعلق سوال پر ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ ’ہم بینکاک اور کولمبو میں ہونے والی ملاقاتوں سے متعلق رپورٹس سے آگاہ ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، یہ ٹریک ون ملاقاتیں نہیں ہیں، اس لیے میں اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔ مختلف مبصرین انھیں جو بھی نام دیں، یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اس نوعیت کی ملاقاتوں کی میزبانی نجی تھنک ٹینکس نے کی ہو۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کے ساتھ روابط کے حوالے سے ’ہماری پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔‘
اسلام آباد کا موقف ہے کہ ’پاکستان جنوبی ایشیا میں امن اور سلامتی کے امور پر امریکی شمولیت کا خیرمقدم کرے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ انڈیا سے متعلق ہر معاملے پر پاکستان کی قانونی اور سیاسی پوزیشن بہت مضبوط ہے۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہر معاملے پر ہماری پوزیشن بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی شقوں کے مطابق ہے۔ اس لیے ہمیں اعتماد ہے کہ اگر کوئی ملک امن اور سلامتی کے امور میں مدد کے مقصد سے انڈیا اور پاکستان دونوں کے ساتھ رابطہ کرنا چاہتا ہے تو پاکستان اس میں شامل ہو سکتا ہے۔ ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ بھارت ’بین الاقوامی رابطوں سے گریز کرتا ہے کیونکہ جموں و کشمیر، سرحد پار دریائی پانی اور انسداد دہشت گردی پر اس کی پوزیشن بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر سے مطابقت نہیں رکھتی۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس پاکستان ’بین الاقوامی برادری، بشمول امریکہ، کی کسی بھی مثبت شمولیت کا خیرمقدم کرے گا۔اس سوال پر کہ کیا کولمبو میں ہونے والی ملاقات میں وزارت خارجہ کے ڈی جی ساؤتھ شامل تھے، طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ ’میں اس شرکت سے متعلق آگاہ نہیں ہوں۔ تاہم میں یہ بتا سکتا ہوں کہ ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا کولمبو میں اپنے لازمی تربیتی کورس کے سلسلے میں موجود تھے۔‘پاکستانی اور بھارتی شخصیات کی جانب سے دونوں وزرائے اعظم کو لکھے گئے خط پر انھوں نے کہا کہ ’یہ نجی افراد ہیں اور وہ جو چاہیں لکھنے میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔ حکومتِ پاکستان اور وزارتِ خارجہ نہ اس کی توثیق کرتی ہے اور نہ ہی اسے مسترد کرتی ہے۔ اس حوالے سے ہمارے پاس کوئی خاص تبصرہ کرنے کے لیے نہیں ہے۔تاہم ان خطوط کے ذریعے امن مذاکرات پرزور دیا گیا ہے۔30 جون 2026 کو جاری کیے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں سے جاری کشیدگی نے سماجی، معاشی اور انسانی سطح پر بھاری قیمت وصول کی ہے، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ ’تنہائی کے بجائے روابط، مخاصمت کے بجائے مکالمہ اور تصادم کے بجائے تعاون‘ کا راستہ اختیار کیا جائے۔اس اپیل پر دونوں ممالک کے درجنوں سابق سفارتکاروں، سیاستدانوں، صحافیوں، ماہرین تعلیم اور سماجی کارکنوں نے دستخط کیے ہیں۔بھارت اور مقبوضہ کشمیر سے اِس اپیل پر دستخط کرنے والوں میں بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ کے سابق سربراہ اے ایس دُلت، فاروق عبداللہ، محبوبہ مفتی، میر واعظ عمر فاروق، منی شنکر ایئر، ماہرین تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندے شامل ہیں۔جبکہ پاکستان سے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سابق سفارتکار اشرف جہانگیر قاضی، ماہر طبعیات پروفیسر ہودبھائی،






