#کالم

سیلاب کو زحمت نہیں، رحمت بنائیے!

Untitled 13 1

تحریر: رفیع صحرائی
۔۔۔۔۔
قدرت جب کسی قوم کو نوازتی ہے تو وہ نعمتیں بھی عطا کرتی ہے اور آزمائشیں بھی۔ دانا قومیں آزمائشوں میں بھی مواقع تلاش کر لیتی ہیں، جبکہ غفلت کا شکار معاشرے نعمتوں کو بھی زحمت بنا لیتے ہیں۔ پاکستان کا المیہ بھی یہی ہے کہ جس پانی کو اللہ تعالیٰ نے زندگی، زرخیزی اور خوشحالی کا سرچشمہ بنایا، ہم نے ناقص منصوبہ بندی، سیاسی مصلحتوں، ادارہ جاتی کمزوریوں اور اجتماعی بے حسی کے باعث اسے تباہی اور بربادی کی علامت بنا دیا ہے۔
ہر سال مون سون آتا ہے، بارشیں ہوتی ہیں، دریا بپھر جاتے ہیں، بستیاں اجڑتی ہیں، فصلیں تباہ ہوتی ہیں، پل بہہ جاتے ہیں، سڑکیں ٹوٹ جاتی ہیں، ہزاروں خاندان بے گھر ہو جاتے ہیں اور اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنے کے بعد ہم چند اجلاس، چند اعلانات اور چند دوروں پر اکتفا کر لیتے ہیں۔ چند ماہ بعد یہی ملک پانی کی شدید قلت کا رونا روتا ہے، کسان نہروں میں پانی نہ ہونے کی شکایت کرتے ہیں، شہروں میں زیرِ زمین پانی خطرناک حد تک نیچے چلا جاتا ہے اور ہم ایک مرتبہ پھر کسی نئے بحران کے منتظر ہو جاتے ہیں۔
یہ کیسا المیہ ہے کہ ایک ہی ملک میں کبھی پانی کی تباہی اور کبھی پانی کی قلت دونوں ایک ساتھ موجود ہوں؟ مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ پریکٹس ہر سال ہوتی ہے۔
حکومت نے مون سون سے قبل اجلاس منعقد کیے، ایمرجنسی رسپانس کمیٹی قائم کی، این ڈی ایم اے کو متحرک کرنے اور آبی منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ تمام اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر قوم کا سوال آج بھی وہی ہے کہ گزشتہ برس کی ہولناک تباہی سے کیا سبق سیکھا گیا؟ کتنے نئے ڈیم تعمیر ہوئے؟ کتنے حفاظتی بند مضبوط کیے گئے؟ کتنے ندی نالے صاف ہوئے؟ کتنی تجاوزات ختم کی گئیں؟ اگر ان سوالوں کے جواب تسلی بخش نہیں تو پھر محض اجلاس اور بیانات قوم کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی آلودگی میں ہمارا حصہ نہایت معمولی ہے۔ اس کے باوجود ہماری ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی، بلکہ ہمیں اپنی بقا کے لیے دوسروں سے زیادہ سنجیدہ منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے کے لیے کچھ آسانی پیدا کی جا سکیں۔
وقت آ گیا ہے کہ سیلابی پانی کو دشمن سمجھنے کی بجائے قومی سرمایہ سمجھا جائے۔ ہر سال کروڑوں ایکڑ فٹ پانی سمندر میں جا کر ضائع ہو جاتا ہے، جبکہ یہی پانی اگر بڑے ڈیموں، درمیانے آبی ذخائر، چیک ڈیموں اور بارشی ذخیرہ گاہوں میں محفوظ کر لیا جائے تو نہ صرف سیلاب کی شدت کم ہوگی بلکہ زراعت، صنعت، پینے کے پانی اور بجلی کے مسائل میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
پاکستان کو صرف ایک یا دو بڑے ڈیم نہیں بلکہ ایک ایسی قومی آبی پالیسی درکار ہے جس میں بڑے ڈیموں کے ساتھ چھوٹے ڈیم، پہاڑی علاقوں میں چیک ڈیم، بارشی پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے اور ہر ضلع کی جغرافیائی ضروریات کے مطابق آبی انفراسٹرکچر شامل ہو۔ پانی کا ہر قطرہ قومی امانت سمجھا جائے۔
اس سے بھی زیادہ اہم مسئلہ زیرِ زمین پانی کا ہے۔ ٹیوب ولوں کے بے تحاشہ استعمال کی وجہ سے کئی شہروں اور دیہی علاقوں میں پانی کی سطح اتنی نیچے جا چکی ہے کہ کسانوں اور شہریوں دونوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں پانی کی قلت قومی سلامتی کا مسئلہ بن سکتی ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بارش اور سیلابی پانی کو زمین میں واپس پہنچانے کے لیے لاکھوں ریچارج ویلز، سوک ایوے کنویں اور مصنوعی ریچارج سسٹم تعمیر کر چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی قومی سطح پر ایسی مہم شروع ہونی چاہیے کہ ہر شہر، ہر قصبے، ہر پارک، ہر سرکاری عمارت، ہر تعلیمی ادارے اور ہر زرعی علاقے میں ایسے کنویں بنائے جائیں جو بارش کے پانی کو ضائع ہونے کے بجائے زمین میں جذب کریں۔ اس ایک اقدام سے چند برسوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح بلند کی جا سکتی ہے، خشک ہوتے کنویں دوبارہ آباد ہو سکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے پانی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح شجرکاری کو محض فوٹو سیشن تک محدود رکھنے کے بجائے قومی فریضہ بنایا جائے۔ درخت صرف آکسیجن نہیں دیتے بلکہ بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرتے، سیلابی ریلوں کی رفتار کم کرتے، مٹی کے کٹاؤ کو روکتے، درجہ حرارت میں اعتدال پیدا کرتے اور ماحول کو زندگی بخشتے ہیں۔ اگر ہر پاکستانی ہر سال چند درخت لگا کر ان کی حفاظت کا عہد کر لے تو چند برسوں میں پاکستان کا ماحولیاتی نقشہ بدل سکتا ہے۔
دریاؤں، ندی نالوں اور برساتی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات بھی ہر سال تباہی کا سبب بنتی ہیں۔ قانون کمزور پر نہیں بلکہ طاقتور پر بھی یکساں لاگو ہونا چاہیے۔ قدرتی گزرگاہوں پر قبضہ دراصل آنے والی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ حکومت کو سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر بلاامتیاز کارروائی کرنا ہوگی۔
تاہم صرف حکومت کو موردِ الزام ٹھہرا کر ہم اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ قومیں حکومتوں سے پہلے اپنے کردار سے بنتی ہیں۔ اگر ہم خود ندی نالوں میں کچرا پھینکیں، غیر قانونی تعمیرات کریں، پانی ضائع کریں، درخت کاٹیں، انتباہات کو نظر انداز کریں اور ہر معاملے میں صرف حکومت کی طرف دیکھتے رہیں تو پھر نقصان بھی اجتماعی ہوگا۔
ہمارے گھروں میں بارشی پانی محفوظ کرنے کے نظام کیوں نہیں؟ ہماری ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں ریچارج کنویں کیوں نہیں؟ ہماری مساجد، مدارس، اسکول، کالج اور جامعات شجرکاری اور پانی کے تحفظ کی مستقل تحریک کیوں نہیں چلاتے؟ یہ سوال صرف حکومت سے نہیں بلکہ پوری قوم سے ہے۔
ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ اسکولوں کے نصاب میں پانی کے تحفظ، ماحولیات اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے عملی اسباق شامل کیے جائیں۔ میڈیا، علما، اساتذہ، سماجی تنظیمیں اور مقامی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے