#کالم

دانائی اور حاضر جوابی 

Untitled 5

احساس کے انداز  تحریر:۔ جاویدایازخان

میرا  کالم "مذاق کے نام پر زہر ” جو موجود سوشل میڈیا اور میڈیا  ڈراموں میں کی جانے والی گفتگو   میں مذاق کے نام پر کی جانے والی بڑھتی ہوئی جگت بازی کے بارۓ  میں تھا ۔اسے پڑھ کر  ایک دوست نے کہا کہ یہ جگت بازی  دراصل حاضر جوابی  ہوتی ہے ۔ جو ہمارۓ معاشرۓ میں صدیوں سے چلی آرہی ہےاور لوگ اس سے خوش بھی ہوتے ہیں ۔مگر مجھے اس بات سے قطعی اتفاق نہیں ہے  کیونکہ یہ دانائی سے عاری جگت بازی  بے ساختہ نہیں بلکہ باقاعدہ پوری تیاری سے کی جاتی ہے ۔جس کے لیے مخصوص اداکار یا فنکار پوری زندگی تیاری کرتے رہتے ہیں ۔ہمارے معاشرۓ میں شادی بیاہ کے موقعہ پر اکثر ایسے کردار آتے تھے جنہیں بھانڈ کہا جاتاتھا اور جن کا م صرف  کسی کے رنگ ،شکل ،لباس وغیرہ کا مذاق اڑانا اور  لوگوں کو  ہنسانا ہوتاتھا ۔وہ محفل میں موجود کسی بھی شخص کی شخصیت یا کمزوری پر طنزکرتے جس سے وہ شخص شرمندہ ہوتا مگر باقی لوگ طنز پر  قہقہہ لگاتے طنز ہمیشہ دل آزاری  اور تکلیف کا باعث بنتا ہے ۔جبکہ حاضر جوابی ایک ایسی خصوصیت ہے جو اگر دانائی اور ذہانت سے کی جاۓ تو سننے والے اس کی داد دیے بغیر نہیں رہتے ۔مجھے ایک قصہ یاد آتا ہے جسے پڑھ کر طنز اور دانائی کی حاضر جوابی کے درمیان فرق کو سمجھا جاسکتا ہے ۔مذاق یا گفتگو وہی اچھی ہوتی ہے جو دوسرۓ کو خوشی تو پہچاۓ مگر اس سے کسی اور کی دل آزاری نہ ہو ۔ہسننے اور خوش ہونے کے لیے جگت ضروری نہیں ہوتی مقصد اور سوچ اہم ہوتی ہے ۔

کہتے ہیں کہ ایک ملک میں ایک بڑا ظالم ،خود پرست اور مغرور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام شاہ بہرام تھا اور وہ اپنی طاقت پر اتنا گھمنڈ کرتا تھا کہ کسی کی بات سننے کو تیار نہ ہوتا۔ اگر کسی نے اس کے مزاج کے خلاف کوئی بات کہہ دی تو اس کی خیر نہ ہوتی۔ شاہ بہرام کے دربار میں ایک حجام تھا جس کا نام جلال تھا۔ جلال اپنے کام میں بہت ماہر تھا، اس کے ہاتھ میں صفائی اور زبان میں حاضر جوابی کی تیزی بھی تھی۔ بادشاہ کو بھی اس کی مہارت کے ساتھ ساتھ دانائی پر بھی بھروسہ تھا، اس لیے جلال ہی ہر روز بادشاہ کی حجامت کرتا تھا۔ جلال چونکہ ہر روز بادشاہ کے بہت قریب ہوتا تھا، اس لیے اس میں ایک خاص بات پیدا ہوگئی تھی: وہ بادشاہ کے مزاج کو پہچاننے لگا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کب بادشاہ خوش ہے اور کب غصے میں آجاۓ ؟ایک دن صبح کے وقت، جلال بادشاہ کی حجامت کر رہا تھا۔ بادشاہ معمول کے مطابق خاموش بیٹھا تھا۔ حجامت کے دوران، جلال نے اچانک دیکھا کہ بادشاہ کے سر کے بیچوں بیچ، بال کا ایک چھوٹا سا حصہ سفید ہو گیا ہے۔ ابھی وہ محض چند بال تھے جو چھپائے جا سکتے تھے، لیکن جلال جانتا تھا کہ بادشاہ اپنی عمر کا یہ نشان دیکھ کر غصے سے لال پیلا ہو جائے گا اور شاید اسے اس کی گستاخی پر سزا بھی دے دے گا۔ جلال نے فورا” سوچا کہ اس حقیقت کو کیسے چھپایا جائے یا بادشاہ کو کیسے بتایا جائے۔ اس نے اپنی عقل استعمال کی اور بغیر کسی تاخیر کے ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا۔ جہاں پناہ،” جلال نے بہت نرمی سے کہا، "آج آپ کے حسن اور آپ کی شان میں ایک اور اضافہ ہو گیا ہے۔ بادشاہ نے حیرت سے پوچھا، "کیا مطلب؟ کیسا اضافہ؟ جلال نے نہایت ادب سے جواب دیا، "میرے آقا، اللہ نے آپ کو جو شاہی رعب عطا کیا ہے، اس میں ایک اور نشانی شامل ہو گئی ہے۔ آپ کے سر کے وسط میں، یہ چند سفید بال دراصل آپ کے عقل و دانائی کا تاج ہیں، یہ بتاتے ہیں کہ آپ ایک پختہ اور تجربہ کار حکمران ہیں۔ یہ محض بال نہیں، یہ بادشاہی پختگی کی روشن کرنیں ہیں۔ بادشاہ جو کہ اپنی تعریف سن کر فورا” خوش ہو جاتا تھا، یہ سن کر وہ  پھولے نہیں سما یا ۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کوئی اسے بڑھاپے کے آثار کی بجائے "عقل کا تاج” کہے۔ شاہ بہرام مسکرایا اور خوش ہو کر بولا، "واہ جلال! تم نے تو ایک معمولی بات کو ایک عظیم خوبی بنا دیا۔ تم واقعی سچ کہتے ہو۔ یہ میرے برسوں کے تجربے کا انعام ہے۔ بادشاہ نے حجامت ختم ہونے کے بعد جلال کو انعام و اکرام سے نوازا اور اس کی دانشمندی کی بہت تعریف کی۔ جلال نے اپنی ذہانت اور موقع پر صحیح الفاظ استعمال کر کے نہ صرف اپنی جان بچائی بلکہ بادشاہ کے غصے کو بھی خوشی میں بدل دیا۔ یہ کہانی بتاتی ہے کہ طاقت سے زیادہ عقل ودانائی اور موقع پر درست بات کرنے کی ذہانت زیادہ اہم ہوتی ہے۔ ایک ذہین شخص الفاظ کے ذریعے سخت ترین حالات کو بھی اپنے حق میں موڑ سکتا ہے۔اس عام سی  کہانی  میں جس چیز نے مجھے متاثر کیاوہ "جلال حجام "کی حاضر جوابی یا ذہانت ہی نہیں دانائی بھی نظر آتی ہے ۔

حاضر جوابی اور ذہانت انسان کی وہ خوبیاں ہیں جو بسا اوقات تلوار سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ حاضر جواب شخص نہ صرف مشکل لمحوں کو آسان بنا لیتا ہے بلکہ اپنی دانائی سے تنازعات، شرمندگی اور بے شمار مشکلات سے بھی بچ نکلتا ہے۔ ذہانت صرف کتابی علم کا نام نہیں بلکہ وقت، موقع اور الفاظ کے درست استعمال کا ہنر بھی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بڑے بڑے جھگڑے ایک نرم جملے، برجستہ جواب یا حکیمانہ بات سے ختم ہو جاتے ہیں۔ دانا انسان ہر بات کا جواب غصے سے نہیں دیتا بلکہ موقع کی نزاکت کو سمجھ کر ایسا ردِعمل دیتا ہے جو سامنے والے کو بھی سوچنے پر مجبور کر دے۔ اسے ہی  دانائی کہا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں بہت سے بادشاہ، سیاستدان، شاعر اور صوفیا اپنی حاضر جوابی کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے گئے۔ حاضر دماغی انسان کو محفل میں وقار دیتی ہے جبکہ بے وقوفی اور جلد بازی انسان کی عزت کم کر دیتی ہے۔ بعض اوقات خاموشی بھی سب سے بڑی حاضر جوابی ہوتی ہے کیونکہ ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا۔ عقل مند انسان جانتا ہے کہ کہاں بولنا ہے، کہاں رک جانا ہے اور کہاں مسکرا کر بات ٹال دینی ہے۔یہ شعور دانائی دیتی ہے ۔

کیونکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ذہانت اور حاضر جوابی اگر اخلاق اور شائستگی سے خالی ہو تو طنز اور تکبر بن جاتی ہے۔ اصل دانائی وہی ہے جو دوسروں کے دل نہ دکھائے بلکہ ماحول کو بہتر بنائے۔ ایک ذہین شخص دوسروں کو نیچا دکھانے کے بجائے گفتگو میں وقار اور نرمی پیدا کرتا ہے۔ زندگی کے سفر میں دولت، طاقت اور ظاہری رعب وقتی چیزیں ہیں، مگر دانائی اور حاضر دماغی وہ خزانہ ہے جو انسان کو ہر دور میں معتبر بناتا ہے۔ ذہانت اور دانائی بظاہر ایک جیسی لگتی ہیں مگر حقیقت میں دونوں میں بڑا فرق ہے۔ ذہانت انسان کی تیز فہمی، سیکھنے کی صلاحیت اور مسائل کو جلد سمجھنے کی قوت کا نام ہے۔ ذہین شخص مشکل بات جلد پکڑ لیتا ہے، حساب کتاب، دلیل یا منصوبہ بندی میں دوسروں سے آگے ہو سکتا ہے۔ یہ دماغ کی رفتار اور صلاحیت سے متعلق ہوتی ہے۔ جبکہ دانائی زندگی کے تجربات، برداشت، شعور اور صحیح فیصلے کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ دانا انسان صرف یہ نہیں دیکھتا کہ کیا ممکن ہے ؟بلکہ یہ بھی سوچتا ہے کہ کیا درست ہے؟وہ جذبات، وقت اور نتائج کو سمجھ کر قدم اٹھاتا ہے۔ سادہ لفظوں میں ذہانت بتاتی ہے کہ راستہ کیسے نکالنا ہے۔ دانائی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے؟ ایک شخص بہت ذہین ہو سکتا ہے مگر اگر اس میں برداشت، اخلاق اور دور اندیشی نہ ہو تو وہ اپنی ذہانت کو غلط سمت میں بھی استعمال کر سکتا ہے۔ دوسری طرف ایک دانا انسان شاید غیر معمولی ذہین نہ ہو مگر وہ زندگی کے نشیب و فراز میں متوازن فیصلے کرتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے ذہانت انسان کو کامیابی تک پہنچا سکتی ہے، مگر دانائی اسے انسان بھی بنائے رکھتی ہے۔ تاریخ میں بہت سے لوگ ذہین تھے، مگر وہی لوگ عظیم کہلائے جنہوں نے اپنی ذہانت کو دانائی کے ساتھ جوڑا ہے ۔لوگوں کو اپنی گفتگو اور مزاح سے محظوظ ضرور کریں مگر کسی کی دل آزاری کی قیمت ہرگز نہیں کیونکہ یہی دانائی کا تقاضا ہے کہ آپکی بات سے کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہونے پاۓ ۔

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے