#کالم

بھارت کی آبی جارحیت اور پاکستان کا منہ توڑ جواب

ChatGPT Image Jun 16 2026 12 53 45 AM

حروف بے زباں مرزا رضوان

خطۂ ارضی پر پانی حیات کا دوسرا نام ہے۔ قدرت نے پاکستان کو دریائی نظام کی ایک ایسی نعمت سے نوازا ہے جس پر ہماری زرعی معیشت اور بقا کا انحصار ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت نے گزشتہ سات دہائیوں سے پانی کو پاکستان کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ عالمی قوانین، سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کی کھلی خلاف ورزی اور بین الاقوامی ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنا یا بلاوجہ سیلاب کی صورت میں چھوڑنا محض ایک تکنیکی معاملہ نہیں، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی "آبی جارحیت” ہے جس کا مقصد پاکستان کو معاشی اور زرعی طور پر مفلوج کرنا ہے۔بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی اس کی توسیع پسندانہ ذہنیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں دریائے جہلم، چناب اور سندھ پر غیر قانونی طور پر ڈیم اور ہائیڈرو پاور پراجیکٹس تعمیر کر رہا ہے۔ کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی تعمیر اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان کے حصے کا پانی روک کر اسے بنجر بنانے کے منصوبے پر کاربند ہے۔ عالمی بینک کی ثالثی اور معاہدے کی شقوں کو پسِ پشت ڈال کر بھارت کا یہ رویہ ثابت کرتا ہے کہ وہ خطے میں امن نہیں بلکہ آبی بالادستی چاہتا ہے۔
بھارت کی ہٹ دھرمی صرف ڈیموں کی تعمیر تک محدود نہیں، بلکہ اس کا رویہ سراسر جارحانہ اور استحصالی ہے۔ بھارتی حکمران طبقہ اکثر اوقات بین الاقوامی فورمز پر یہ دھمکیاں دیتا نظر آتا ہے کہ "خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے”۔ یہ جملہ بذاتِ خود اس کی آبی دراندازی اور ذہنیت کا عکاس ہے۔ بھارت درپردہ طور پر دریائی بہاؤ کے قدرتی راستوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ پاکستان کے زیریں علاقوں میں قحط سالی پیدا کی جا سکے۔بھارتی دراندازی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں تعمیراتی سرگرمیوں کو "سیکورٹی” کا نام دیتا ہے۔ درحقیقت، ان تعمیرات کا مقصد پانی کو کنٹرول کرنا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر پاکستان کو پانی کی سپلائی منقطع کر کے اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکے۔ بھارت کی یہ ہٹ دھرمی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ وہ کسی بھی عالمی ضابطے کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ شاید وہ پاکستان کو اپنی آبی دہشت گردی کے ذریعے کمزور کر سکتا ہے، لیکن یہ اس کی خام خیالی ہے۔آبی جارحیت کی یہ پالیسی صرف پانی روکنے تک محدود نہیں، بلکہ برسات کے موسم میں بھارت کی جانب سے اچانک پانی چھوڑ کر پاکستان میں سیلابی صورتحال پیدا کرنا بھی اسی جارحانہ ہتھکنڈے کا حصہ ہے۔ یہ عمل پاکستان کے سرحدی علاقوں میں تباہی مچاتا ہے، کھڑی فصلوں کو برباد کرتا ہے اور ہزاروں خاندانوں کو نقل مکانی پر مجبور کرتا ہے۔ بھارت کا یہ اقدام انسانیت کے بنیادی اصولوں کے بھی منافی ہے، جہاں وہ پانی کو ایک ہتھیار بنا کر لاکھوں لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے واضح اور اصولی رہا ہے۔ ہم نے ہمیشہ بین الاقوامی قانون اور سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کی ہے۔ پاکستان نے عالمی فورمز پر متعدد بار یہ معاملہ اٹھایا ہے کہ بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہا ہے۔ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر، پاکستان نے ہمیشہ سفارتی کوششوں کو ترجیح دی ہے۔ تاہم، اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور عالمی بینک اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ اگر عالمی ادارے بھارت کی اس "آبی دہشت گردی” کو روکنے میں ناکام رہے تو یہ خطہ ایک ایسی جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کے نتائج پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ پانی پر قبضہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، اور پاکستان اس معاملے پر کسی بھی قسم کی سمجھوتہ کرنے کا روادار نہیں ہے۔
پاکستان کا "منہ توڑ جواب” محض عسکری یا سیاسی نہیں، بلکہ اس میں دور اندیشی اور قومی عزم کا پہلو بھی شامل ہونا چاہیے۔ہمیں پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے فوری طور پر چھوٹے اور بڑے ڈیموں کی تعمیر پر توجہ دینی ہوگی۔ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم جیسے منصوبوں کی بروقت تکمیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پانی کا ذخیرہ ہی ہماری بقا کی ضمانت ہے۔وزارتِ خارجہ اور ہمارے سفارتی مشنز کو بھارت کی آبی جارحیت کا کیس پوری دنیا میں زیادہ جارحانہ انداز میں پیش کرنا ہوگا۔ عالمی تھنک ٹینکس اور میڈیا کو بھارت کی ان دراندازیوں کے دستاویزی ثبوت فراہم کیے جائیں تاکہ دنیا پر بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو سکے۔پاکستان کو اپنی آبی نگرانی کے نظام کو جدید ترین بنانا ہوگا۔ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے ہمیں بھارت کی ہر آبی حرکت پر نظر رکھنی ہوگی تاکہ وقت سے پہلے خطرات کا تدارک کیا جا سکے۔ قوم کو آبی بحران کے حوالے سے متحد ہونا ہوگا۔ پانی کے بچاؤ کی مہم کو قومی سطح پر چلانے کی ضرورت ہے۔ جب تک قوم اپنی ترجیحات درست نہیں کرے گی، دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا مشکل ہوگا،بھارت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آبی جارحیت سے حاصل ہونے والا عارضی فائدہ طویل مدتی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا کی ترقی کا دارومدار امن اور وسائل کی منصفانہ تقسیم پر ہے۔ اگر بھارت پانی کو ہتھیار بناتا رہا تو یہ خطہ کبھی بھی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکے گا۔

پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور وہ خطے میں استحکام کا خواہاں ہے، لیکن اس امن کی خواہش کو پاکستان کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ہماری افواج اور ہمارے عوام اپنی آبی حدود اور اپنے حقوق کی حفاظت کرنا بخوبی جانتے ہیں۔ کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے پاکستان کی تیاری مکمل ہے۔آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ بھارت کی آبی جارحیت ایک سنگین چیلنج ہے، لیکن یہ ناقابلِ شکست نہیں ہے۔ بھارت کی ہٹ دھرمی

بھارت کی آبی جارحیت اور پاکستان کا منہ توڑ جواب

دانائی اور حاضر جوابی 

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے