پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن قسط:35
(شاہد بخاری)
جہانِ مہ و پرویں :
صفحات:54 مضامین: ہیلن کیلر، لوئس بریل
اشاعت: 1997 ثنائی پریس سرگودہا
انتساب: ایک امریکی نابینا خاتون آنجہانی ایزابل ایل ڈی گرانٹ کے نام جس نے پاکستان میں نابینا افراد کی تحریک کی بنیاد رکھی اور دورانِ طالب علمی، میری بہت رہنمائی کی۔
ڈاکٹر اقبال اس کتاب کے حرفِ آغاز میں لکھتے ہیں:
”کچھ افراد اور نظریات مہ و انجم کی طرح مطلع قلب و ذہن پر ایسی روشنی بکھیرتے ہیں کہ پورا وجو د جگمگا اٹھتا ہے، راتیں لاکھ گھٹا ٹوپ ہوں، دن بے زار بے نور ہوں یہ اجالے روشن تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ قویٰ آرزو کو کبھی مضمحل ہونے نہیں دیتے کشت ِ حیات میں عزائم کی نت نئی کھیتیاں انہی کے دم سے لہلہاتی ہیں جب کبھی شمع زندگی کی لو کچھ دھیمی ہونے لگتی ہے تو اجالوں کے چشمے یک بیک پھوٹ پڑتے ہیں ہیلن کیلر اور لوئی بریل کی شخصیات اور ان کی فقید المثال جدو جہد کی کہانیوں کی کوکھ سے بعینہٖ ایسے اجالے جنم لیتے رہیں گے میں نے ان ہر دو افراد کی جدو جہد کی کہانیاں تحریر کرنے کی حقیر سی کوشش کی ہے اورا س طرح اجالوں کو خراجِ تحسین ادا کرنے کی بھی سعی کی ہے۔ ہیلن کیلر کی تصنیف The Story of my lifeاور لوئی بریل پر
Margret Davidsonکی تصنیف
Louis Braille the boy who
invented books for the blind
بالخصوص پیشِ نظر رہی ہیں۔اس ضمن میں میں نے کچھ اور دستیاب کتب کا بھی مطالعہ کیا ہے اور پھر ان کی شخصیات کو اپنے جذب واحساس کی کسوٹی پر پرکھا ہے اور یوں میں نے خود اپنے بعض گوشوں کو روشن کرنے کی تدبیر بھی نکالی ہے ان کہانیوں کی اشاعت سے بینا اور نابینا حضرات بیک وقت تحریک حاصل کر سکتے ہیں اور اس طرح اپنے کمزور لمحوں کو توانا بنا سکتے ہیں“
٭٭٭
پردہ سیمیں سے (چند سوانحی جھلکیاں)
صفحات:114 باب:6
اشاعت: 2009 ثنائی پریس سرگودہا
انتساب: والدین، اساتذہ اور اپنے طلبا و طالبات کے نام
اپنی سوانحی عمری تحریر کرنا کوئی آسان کام نہیں۔سوانح نگار بالعموم افراط و تفریط کا شکار ہو جاتا ہے۔ کبھی اپنے آپ کو ہیرو سمجھنے لگتا ہے او رکبھی یوں بھی ہو سکتا ہے کہ وہ انکساری اختیار کر لیتا ہے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار نہیں کر پاتا۔پھر خود نوشت سوانح عمری میں جگہ جگہ مشکلات پیش آتی ہیں بہت سے ایسے واقعات ہوتے ہیں جن کا تعلق معاصرین سے ہوتا ہے۔ اعزاواقربا سے ہوتا ہے اور انکے بارے میں سچ لکھنا خاصامشکل ہوتا ہے۔ لیکن ڈاکٹر اقبال نے یہ مشکلات اور دقتیں بڑی کامیابی سے حل کیں۔ اور شاید بہت کم لوگ ہوں گے جو اس کو پڑھ کر رنجیدہ خاطرہوئے ہوں۔ انہوں نے اپنی شخصیت کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا بلکہ ہماری رائے میں انہوں نے جگہ جگہ کسرِ نفسی سے کام لیا ہے۔”پردہ سیمیں سے“ کے حرفِ آغاز میں وہ لکھتے ہیں:
”ویسے میرا خیال ہے کہ میری زندگی میں کوئی محیّرالعقول واقعہ نہیں ہوا، میں زندگی کے اس مقام پر نہیں جس مقام پر پہنچ کر آپ اپنی زندگی کو دوسروں کیلئے مشعلِ راہ سمجھتے ہیں، میری رائے میں میری زندگی ایک عام انسان کی سی زندگی تو ہے ہی لیکن اس میں کلام نہیں کہ ہمارے معاشرتی سیاق و سباق میں مجھ جیسے لوگ بے پناہ مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں“
ہماری رائے میں یہاں ڈاکٹر اقبال نے کسرِ نفسی سے کام لیا ہے۔ ان کی مشکلات اتنی زہرہ گداز اور روح فرسا تھیں کہ کوئی اور ہوتا تو زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔متوسط خاندان میں پیدائش، چھوٹے سے شہر خوشاب میں بودوباش، اعزا و اقربا کے طعنے اور پسماندہ ماحول کے چرکے،گھریلو زندگی کے مسائل اور بعد ازاں ہر قدم پر نیا رستہ تلاش کرنے کی اذیت،معاشرتی دشواریاں اور جانے کیا کیا کچھ۔ہماری رائے میں ان کی کامیابیاں محیر العقول ہیں۔
ہیلن کیلر اور طہٰ ٰ حسین سے وہ کسی طرح کم نہیں بد قسمتی یہ ہوئی کہ عوام الناس وخواص کی نظر ان پر پڑی ہی نہیں۔ ابلاغ عامہ نے بھی زبانی جمع خرچ سے کام لیا۔ ورنہ زندگی میں جو جہاد ڈاکٹر اقبال نے کیا ہے وہ ہر بڑے سے بڑے ایوارڈ اور تحسین کا مستحق ہے اور بلاخوف وتردید کہا جا سکتا ہے کہ ان کی سوانح عمری کو بہر صورت طلبا و طالبات کے نصاب کا جزوِ لاینفک ہونا چاہیے۔ تاکہ معلوم ہو سکے کہ زمین و آسمان تسخیر کیسے ہوتے ہیں؟ لق ودق صحراؤں کو کیسے پار کیا جا سکتا ہے؟ سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں کیسے غوطہ زن ہوتے ہیں؟ آندھیوں میں دیئے کیسے جلتے ہیں؟ کیسے تمنائیں آرزوئیں اور خواب حقیقت بنتے ہیں؟ مشکلات کے پہاڑ رائی بن جاتے ہیں۔ اور کامیابی و کامرانی قدم چومتی ہے۔ ”پردہء سیمیں سے“ کے حوالے سے ڈاکٹر اقبال کے والد شیخ اللہ دیا اس مشکل سفر کا ذکر کچھ یوں کرتے ہیں جو انہوں نے اور انکے بیٹے (اقبال) نے طے کیا۔
”میں نے عزیزی ڈاکٹر شیخ محمد اقبال سلمہ کی خود نوشت سوانح عمری کو بغورپڑھا، اس کے علاوہ اس کی تمام کتب اور دستک مری محمد اقبال نمبر کا دل لگا کر مطالعہ کیا“
وہ تفصیل سے ان مشکلات کا ذکر کرتے ہیں جو انہیں در پیش ہوئیں اور کس طرح شیخ اقبال کو کس طرح گورنمنٹ سروس ملی جس کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں تھی اور پھر نجانے کتنے نابیناؤں کو ملازمتیں ملنے لگیں۔
”میں سمجھتا ہوں کہ میری اور عزیزی محمد اقبال کی مغفرت کا سامان اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے۔ خدائے کریم اس حقیر سی کوشش کے عوض ہمیں جنت الفردوس عطا فرمائے۔ آمین!“
ڈاکٹر اقبال کے ایک استادپروفیسرصاحبزادہ عبدالرسول جنہوں نے تاریخ کے حوالے سے گراں بہا خدمات سر انجام دیں کہتے ہیں کہ جب اقبال بی اے میں ان کے پاس تاریخ کا مضمون پڑھنے آئے تو ان کی صلاحیتوں کا اندازہ ہونے لگا اور پھر انہوں نے ہر میدان میں کمال کر دکھایا ’’پردہء سیمیں سے“ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
”زیرِ نظر کتاب ”پردہ سیمیں سے“ بظاہر سادہ اسلوب میں لکھی گئی ہے مگر اس میں اس قدر جاذبیت ہے کہ ایک دفعہ شروع کرنے کے بعد اسے چھوڑنے کو جی






