#کالم

وہ زمانہ بھی کیا زمانہ تھا؟؟؟

Untitled 14

جمع تفریق ناصر نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باپ دادا سے ماضی کی کہانیاں سنتے تھے تو کچھ عجیب سا لگتا تھا کیونکہ وہ قصے اور داستانیں فرضی لگتی تھیں، اب ہم ان کی جگہ اپنے بچوں کو دو چار دہائیوں کی آب بیتی سنانے کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں بھی ہماری باتیں من گھڑت اور جھوٹی لگتیں ہیں اسی لیے کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ماضی گزر گیا ،تو اسے یاد کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟حال کو اچھا بنانے کی جدوجہد کرو اور بہتر مستقبل کے لیے فکر مند رہو لیکن ان دونوں آ راء پر اختلاف موجود ۔۔سیانے کہتے ہیں اگر کچھ کرنے کی تمنا رکھتے ہو تو ماضی کو کبھی فراموش نہیں کرو، حال کے لیے فکر مندی اچھی بات ہے لیکن مستقبل کے اندیشوں میں دیوانہ نہ ہو جاؤ اپ کہاں متفق ہیں کس رائے پر اختلاف رکھتے ھیں؟ یہ یقینا آ پ کا ذاتی معاملہ ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ بچپن 55 میں یاد ضرور آ تا ہے خواہ وہ کیسا ہی گزرا ہو، 40 سال کی عمر کے بعد پتہ چل جاتا ہے کہ رزق کا تعلق تعلیم سے ہرگز نہیں اور 50 سال بعد اکثر اوقات کم خوبصورت اور زیادہ خوبصورت چہرے بھی ایسے جھریوں میں بدلتے ہیں کہ سب ایک سے محسوس ہونے لگتے ہیں جیسے 60 سال کے بعد اعلی ترین عہدے دار اور عام بندے کا فرق ریٹائرمنٹ ختم کر دیتی ہے، یہی نہیں 70 سال عمر ھو جائے تو بڑے چھوٹے گھر میں بھی فرق مٹ جاتا ہے کہ گھٹنوں اور جوڑوں کے درد قدم قدم پر یاد کراتے ہیں بس بھئی بس۔۔۔ اسی طرح 80 سال کے بعد امیر غریب، مال و دولت اور اپنی فکر سے انسان آ زاد ہو جاتا ہے اس کے لیے کچھ بھی ضروری نہیں، اگر صحت مند ہے تو پھر تو کیا بات ،ورنہ دوسروں کا محتاج اور ایک پرانے جہاز کی طرح کسی ایک کمرے میں ٫٫لنگر انداز ،،ہو چکا ہوتا ہے اور اگر قسمت اس سے بھی آ گے 90 سال کی زندگی مقدر بنا دے تو صرف زندگی ہی اپنی۔۔۔ باقی کسی چیز پر کوئی زور نہیں ،نہ نیند آ تی ہے نہ جاگنے کے بعد کچھ یاد رہتا ہے ،تلخ حقیقت یہی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سب بے معنی ہو جاتا ہے پیسہ، عہدہ، شہرت اور خوبصورتی سب ساتھ چھوڑ جاتے ہیں زندگی مانگیں صحت کے ساتھ ورنہ سو سالہ بھی بے کار چاہے آ پ کے عالی شان بنگلے میں جتنی مرضی اعلی ترین گاڑیاں کھڑی ہوں ،مطلب لمحہ موجود سے لطف اندوز ہوں، خوشیاں چھوٹی بڑی نہیں ہوتی مالک کی عطا کردہ نعمتوں کو انجوائے کریں، یہ یاد رکھتے ہوئے کہ وقت اور لوگ چلے جائیں تو واپس نہیں لوٹتے، کوئی نہیں جانتا کہ کس پل زندگی کی شام ہو جائے۔۔ ہم کس قدر بدقسمت ہیں کہ ماضی سے نظریں چراتے ہیں حال کو جائز ناجائز انداز میں بھی مستقبل کی خواہشوں کے مطابق رنگین بنانا چاہتے ہیں اور جب بن نہیں پڑتی تو ہر وقت شکوہ شکایت، اپنوں پرائے کے ساتھ ہی نہیں ٫٫مالک حقیقی ،،سے بھی اور اپنے آ پ کو یہ کہہ کر بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں کہ۔۔
ہم نے بڑے فریب میں کاٹی ہے زندگی۔۔
مقصد تمام عمر کا فکر معاش تھا۔۔۔
ماضی کے اوراق الٹنے پلٹنے کی کوشش تو کریں مہنگائی دور دور دکھائی نہیں دے گی اور نہ ہی موجودہ دور کی آ سائشیں۔۔ رواداری، برداشت، پیار و محبت اور رشتوں کی ایسی پہچان کہ ایک دوسرے پر جان نچھاور کرنے کو تیار، اب کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ہر شخص دوسرے سے زیادہ مصروف ،ہر دور نئی مصیبتوں کے ساتھ نازل ہوتا ہے، جب تنخواہیں کم اور قوت خرید نہیں تھی اس وقت بھی کاروبار زندگی رواں دواں تھا آ ج ہر چیز کی قیمتیں آ سمان سے باتیں کر رہی ہیں لاکھوں اور کروڑوں تنخواہ لینے والے بھی موجود لیکن کم از کم تنخواہ حکومتی اعلانات کے باوجود بھی نہیں ملتی، کبھی تیل مہنگا ،کبھی گیس، بجلی کی قیمت بھی عذاب لیکن زندگی چل رہی ہے بلکہ دوڑ رہی ہے آ پ سوچ رہے ہوں گے یہ بات کا بتنگڑ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آ ئی ؟ایک صاحب نے پانچ مارچ 1970 کی جاری کردہ ایک جیولر کی رسید کا عکس بھیج کر یہ یاد کرانے کی کوشش کی کہ بزرگوں کے سستے زمانے کی باتیں تمہیں یاد کرتی ہیں یہ دیکھو۔۔۔ جس وقت تو میٹرک میں پڑھتے تھے اس وقت سونا 154 روپے تولہ ہوا کرتا تھا میں نے یہ رسید آ گے پاس کرو کے موجودہ رائج فارمولے پر چند پرانے لڑکوں اور موجودہ بزرگوں کو یاد دہانی کے لیے بھیج دی ۔۔جواب میں ایک صاحب نے شیئر کیا، واہ کیا یاد کرا دیا ۔۔میں 1970 میں کلرک بھرتی ہوا تھا میری تنخواہ 164 روپے تھی حالانکہ اس وقت بھی کلرک بادشاہ ہی ہوا کرتا تھا لیکن ہم اخراجات کے باوجود 10سے 20 روپے بچا لیتے تھے اور صاف ستھرے کپڑے بھی پہنتے تھے لیکن سوچیں ۔۔کلرک کی تنخواہ ایک تولے سونے سے زیادہ تھی اور آ ج سونا ساڑھے چار لاکھ روپے تولہ اور کلرک بادشاہ کی تنخواہ 40۔ ہزار ایسے میں بھی گزارا ناممکن، مہنگائی نے ہر کسی کا گلا دبایا ہوا ہے پھر بھی وزیراعظم کا فرمان ہے کہ ساڑھے آ ٹھ ہزار تنخواہ لینے والا غریب نہیں ہوتا ،وقت کے کامیاب وزیراعظم کے یہ الفاظ غلطی سے نکلے کہ اس میں کچھ طنزیہ تھا اس کی وضاحت نہیں آ ئی تا ہم سوشل میڈیا کو من مرضی کی سہولت مل گئی اور انہوں نے خوب درگت بنائی لیکن حکومت کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا کیونکہ اس وقت شہباز نہ صرف بڑی پرواز پر ہے بلکہ اس کا ستارہ عروج پر ہے اور حالات و واقعات چغلی کھا رہے ہیں کہ حاسدین جس قیمتی اور اہم پیج کو پھاڑنے کی فکر میں ہیں، وہ سیاسی اور شرارتی بچوں کی پہنچ سے دور بلکہ بہت دور محفوظ اور مضبوط ہاتھوں کے ٫٫لاکرز،، میں ایسے رکھا ہوا ہے کہ مخالفین آ گاہی پر صرف ہاتھ ملنے کے سوا کچھ نہ کر سکیں،
جس زمانے کی کہانیاں ہمارے زمانے کے بزرگ سناتے سناتے ابدی نیند سو

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے