قسط:34 پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن
(شاہد بخاری)
۳۔اقبال بحضور اقبال
مضامین:13 صفحات:280 زرقاش پرنٹنگ ہوم سرگودہا
انتساب: اپنی بیٹیوں کے پھول اور کلیوں ابتہاج جویریہ اور عائشہ کے نام
مضامین کے عنوانات
۱۔علامہ اقبال کی نظر میں خدا خودی اور کائنات
۲۔ علامہ اقبال کا تصورِ تقدیر
۳۔ علامہ اقبال اور تصوف
۴۔ علامہ کاپیغام مغرب کے نام
۵۔ علامہ اقبال اور تصور زماں
۶۔ علامہ اقبال کا تصورِ اجتہاد
۷۔علامہ اقبال اور تصورِ عشق و خرد
۸۔ علامہ اقبال اور جدید علم الکلام
۹۔ علامہ اقبال میدانِ ادب و سیاست میں
۱۰۔ خطبہ الہ آباد اور علامہ اقبال
۱۱۔ علامہ اقبال بحیثیت مفکرِ تعلیم
۱۲۔ علامہ اقبال تصورِ ملتِ اسلامیہ
۱۳۔ علامہ اقبال اور انجمن حمایت اسلام
اقبال بحضور اقبال: کتاب کے اس نام کو بڑی دلچسپی سے دیکھا گیا ہے اور اس سے ڈاکٹر صاحب کی علامہ اقبال کے لئے والہانہ عقیدت کا بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے۔ دراصل یہ مقالات ایم فل کی تیاری کے دوران تحریر ہوئے۔ڈاکٹر صاحب نے اپنا ایم فل،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا ہے،یہ مقالات اس دور کی یاد ہیں اور بڑی تحقیق کے ساتھ تحریر ہوئے ہیں۔
خواجہ حمید یزدانی جو ڈاکٹر صاحب کے ایم فل کے ٹیوٹر تھے،نے ان مقالات کے بارے میں لکھا ہے”پروفیسر اقبال سے میرا رابطہ ایم فل اقبالیات کے کورس کے دوران ہوا۔ انہوں نے ہر مشق پوری محنت اور صحیح انداز تحقیق سے تیار کی۔ چنانچہ ان کی اس محنت اور لگن سے متاثر ہو کر میں انہیں زیادہ سے زیادہ نمبر دینے پر مجبور ہوا۔ اب انہی مشقوں کو اقبال صاحب نے کتاب کی صورت دے دی ہے، بلاشبہ یہ اچھی کوشش ہے کہ اس سے نہ صرف اقبالیات کے طلباء بلکہ عام قاری پوری طرح استفادہ کر سکے گا۔ کتاب ”اقبال بحضور اقبال“ (دلچسپ بات یہ ہے کہ فاضل مصنف نے علامہ اقبال سے ہم نامی کا پورا فائدہ اٹھایا ہے۔یعنی اگر کسی کو مصنف کا نام بتائے بغیر صرف کتاب کا عنوان بتایا جائے تو وہ کچھ دیر کے لئے سوچ میں پڑ جائے گا کہ کیسا عجیب لیکن دلچسپ عنوان ہے۔) میں شامل مقالات میں اقبال صاحب نے تحقیق و تنقید کا جو انداز اختیار کیا ہے اس سے یہ کتاب ایک حوالہ/حوالے کی کتاب بن گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے وسیع اور گہرے مطالعے کے بعد یہ مقالات تحریر کئے ہیں۔ اس کی تصدیق ہر مقالے کے آخر میں حوالہ جات سے ہوتی ہے جن میں قرآن کریم اور خود علامہ اقبال کی تصنیفات کے علاوہ دیگر اہم اردو اور انگریزی کتب کے حوالے آ گئے ہیں“
ڈاکٹر آغا یمین ان مقالات کے بارے میں اپنی رائے کا کچھ یوں اظہار کرتے ہیں:
”مجھے وہ وقت آج بھی یاد ہے جب کہ عزیزم پروفیسر اقبال میرے پاس ایم فل اقبالیات کے مقالے کے سلسلے میں معلومات اور رہنمائی کے لئے تشریف لائے، میں انکے ذوق و شوق اور ہمت کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا یہ ان کی مجھ سے پہلی ملاقات تھی ان کی ہمت کا اندازہ اس سے بڑھ کر کیا ہو گا کہ وہ اپنے کسی شاگرد کے ساتھ سرگودہا جیسے شہر سے لاہور پہنچے یہ محض انکے ادبی ذوق اور حصولِ علم کی ایک روشن دلیل تھی۔ جب ان سے ملاقات میں اقبالیات کے موضوعات پر بحث ہوئی تو معلوم ہوا کہ ان کے پاس واقعی اقبال شناسی کا جوہر بھی موجود ہے جس کی وجہ سے میں نے ان کی چشم بصیرت کا اندازہ بھی لگا لیا تھا لہٰذا مجھے ان کی رہنمائی کرتے ہوئے دلی مسرت محسوس ہوئی“
ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے زیرِ نظر مقالات کا کچھ یوں محاکمہ کیا ہے:
”یہ مقالہ راقم کی نگرانی میں ہی پایہ تکمیل کو پہنچا اور اس پر ڈگری ایوارڈ ہوئی،راقم کی نگرانی مختلف مواقع پر کچھ ہدایات دینے اور بعض اشعار اور عبارتوں کی تصحیح تک محدود رہی، عام مقالہ نگاروں کے ساتھ بہت کچھ مغز ماری کرنی پڑتی ہے اور اس لئے راقم نگرانی سے عموماً پہلو تہی کرتا ہے مگر شیخ صاحب کے ساتھ ایک مختلف اور خوشگوار تجربہ ہوا۔ اقبالیات سے اسی وابستگی اور دلچسپی کا نتیجہ یہ ہوا کہ موصوف نے اقبال کے بعض فکری موضوعات پر تنقیدی مضامین لکھنا شروع کئے گزشتہ چار پانچ برسوں کی کاوش کا نتیجہ سامنے ہے انہیں اب کتابی شکل میں لایا جا رہا ہے“
سوانح نگاری
سوانح نگاری خاصہ دشوار کام ہے یہ احتیاط رہنی چاہیے کہ کہیں یہ مدلل مداحی نہ بن جائے کہیں آپ اپنے محسن کی شخصیت پر لکھ رہے ہوں اس کی غیر ضروری طور پر تعریف نہ کریں اور کہیں یہ بھی نہ ہو آپ تعصب کا شکار ہوں اور حقائق سے نظریں چار نہ کر سکیں۔ بہر کیف ڈاکٹر اقبال نے جن دوشخصیات کی سوانح لکھی ہیں انکے بارے میں حقیقت پسندی سے کام لیا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ یہ دونوں شخصیات بھر پور خراجِ تحسین کی مستحق ہیں۔یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے بے بصر حضرات کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا اور ثابت کیا کہ بینائی سے محروم ہونے کے باوجود زندگی کے رنگ و آہنگ سے معانقہ ممکن ہے۔ ڈاکٹر اقبال نے بڑی سلیس اور سادہ زبان استعمال کی ہے۔ اور کہانی پن کو قائم رکھاہے جس سے قاری کی دلچسپی میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔
ڈاکٹر اقبال کی تصنیف ”جہانِ مہ و پرویں“ ہیلن کیلر اور لوئی بریل کی زندگی اور کاوشوں کی دلچسپ اور ولولہ انگیز شخصیات کی کہانی ہے ہیلن کیلر 19 ماہ کی عمر میں بینائی اور سماعت کھو بیٹھی تھی لیکن پھر جس سرعت اور حیرت انگیز صلابت کے ساتھ اس نے زندگی کا سفر طے کیا وہ پڑھنے والوں کو نئی زندگی عطا کر سکتا ہے۔اس نے بولنا بھی سیکھ لیا بہت سی کتابیں لکھیں اور امریکہ کی ایک قدر آور شخصیت بن کر ابھریں۔ ہیلن کیلر کی زندگی پر مبنی ایک کتاب ہمارے سکولوں کے نصاب میں بھی شامل رہی ہے اور ان کا مضمون Three Days to seeبی اے کے نصاب میں شامل رہا ہے۔
دوسری شخصیت لوئی بریل کی ہے اس کا باپ جوتوں کا کام کرتا تھا کہ ایک دن وہ






