افواہ سازی

پاکستان میں کوئی کاروبار چلے یا نہ چلے. مگر افواہ سازی وہ کاروبار ہے. جو ہمیشہ کامیابی سے چلتا ہے. ہمارے ملک میں ہر روز کوئی نہ کوئی افواہ چھوڑ دی جاتی ہے. آجکل افواہ ساز افواہ پھیلا رہے ہیں. کہ موجودہ حکومت گھر جانے والی ہے. مگر وقت بتانے سے قاصر ہیں. ظاہر ہے ۔انہوں نے تو سنسنی پھیلانی ہے. یہ وہ لوگ ہیں. جن کا مقصد ملک کو کسی نہ کسی صورت کمزور کرنا ہے. اس وقت دنیا بھر کی نظریں وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید حافظ عاصم منیر پر لگی ہوئی ہے. کیونکہ ایران اور امریکہ کی جنگ رکوانے میں ان دونوں شخصیات کا کلیدی کردار ہے. امریکی صدر ان کی تعریفوں کے قصیدے پڑھتے نہیں تھک رہے. ایرانی عوام بھی اپنے ان محسنوں کی تعریف کے پل باندھ رہی ہے. مگر ہمارے ہاں افواہ ساز اپنا کاروبار چمکانے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں. وہ عوام کو یہ باور کروانے میں مصروف ہیں. کہ موجودہ وزیراعظم میاں شہباز شریف کمزور ترین وزیراعظم ہیں. اسٹیبلشمنٹ ان کی جگہ محسن نقوی کو وزیراعظم پاکستان لانے کا ارادہ کر چکی ہے. ویسے تو ہمارے ملک میں کچھ بھی ممکن ہے. مگر موجودہ صورتحال میں ایسا ممکن نظر نہیں آرہا. کیونکہ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر جو پذیرائی مل رہی ہے. اس میں وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کا کلیدی کردار ہے. وہ عالمی سطح پر نہ صرف مرکز نگاہ ہیں. پاکستان میں بھی ان کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے. انہیں خود کو عوامی وزیراعظم بنانا ہوگا. جیسے سابق وزیراعظم و صدر پاکستان مسلم لیگ ن میاں محمد نواز شریف عوام کی دلوں کی ڈھرکن ہیں. وہ عوامی شکایات کے لیے خود عوام کے فون سنتے تھے. اور موقع پر ہی انصاف کرتے تھے. وہ عوامی مقامات پر عوام میں گھل مل جاتے تھے. بدلہ میں عوام بھی ان سے دلی محبت کا اظہار کرتی تھی. عوامی وزیراعظم کبھی ناکام نہیں ہوتا. پاکستان مسلم لیگ ن کا ہر ورکر میاں محمد نواز شریف کو ووٹ دیتا ہے. انہیں باقی کسی سے کوئی لینا دینا نہیں. موجودہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف بلاشبہ ایک بہترین اور اعلی پایہ کے ایڈمنسٹر ثابت ہو رہے ہیں. مگر عوامی مقبولیت کا گراف ان کا آج بھی بہت نیچے ہیں. لیڈر اس وقت اپنی مقبولیت کھو دیتا ہے. جب وہ اپنے اور عوام کے درمیان فاصلہ پیدا کر لیتا ہے. یہ فاصلہ ہی افواہ سازوں کو اپنا مکروہ دھندہ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے. جب عوام اپنے منتخب کردہ وزیراعظم کی پشت پر کھڑی ہوتی ہے. تو وقت کا فرعون بھی اس کو ہٹاتے ہوئے ایک بار سوچتا ہے. کہ اس کے نتائج کیا ہوگے
کہی ملک میں خانہ جنگی اور افراتفری تو نہیں مچ جائے گی. مگر غیر مقبول لیڈر شپ کو ختم کرنے میں وہ ایک منٹ لگاتے ہیں. پیڑول کی قمیتوں میں کمی احسن اقدام ہے.اس میں مزید کمی کرکے عوام کی مشکلات میں کمی کرنی چاہیے. خدارا اپنے ان مشیروں سے بھی بچیں . جو آپ کو غلط مشورے دیتے ہیں. لاک ڈاؤن کس لیے لگایا جا رہا ہے. کہ پیڑول کی بجت ہو سکے. ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے. کہ وہ رات کو کبھی باہر نکل کر دیکھے عوام گاڑیوں میں بیٹھ کر لمبی لمبی قطاروں میں لگ کر کھانے پینے کی اشیاء خریدتی ہے. اور گھنٹوں سڑکوں پر آواہ گردی کرتی ہے. کیونکہ بیٹھنے کے لیے آپ نے ہوٹل و ریسٹورنٹ بند کر رکھے ہیں. آپ کے اس طرز عمل سے پیڑول کی بجت ہرگز نہیں ہو رہی بلکہ اس کا ضیاع ہو رہا ہے. ان عقل مند مشیروں سے اپنی جان چھوڑائے. اور عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرے. وقت جس رفتار سے گزر رہا ہے. آپ کی حکومت کے تین سال کا پتہ ہی نہیں چلا. دو سال باقی ماندہ عوام کی حقیقی خدمت میں صرف کر دیں. ورنہ آپ کے آمرانہ طرز عمل کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ن ماضی کا قصہ بن کر رہ جائے گا. وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف بھی اپنی کنیزوں کے چنگل سے باہر نہیں نکل پا رہی. ارکان صوبائی اسمبلی کی ان تک پہنچ نہیں. سب کے سب ذلیل و خوار ہو رہے ہیں. وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف محلات کی سیاست کر رہی ہیں . خوشآمدی انہیں سب اچھا کی داستان سنا دیتے ہیں. عوام کے اندر پائی جانے والی بے چینی اور اضطراب کا انہیں حقیقی علم نہیں. ان کے تمام ترقیاتی کام بھی بے سود جا رہے ہیں. کیونکہ عوام اور ان کے درمیان خیلج بہت زیادہ ہے. عوام کے منتخب کردہ نمائندے ان سے نہیں مل پاتے. تو بیچاری عوام نے ان تک رسائی کیسے حاصل کرنی ہے. قیادت اور عوام کے درمیان دوری، بے یقینی بد اعتمادی کی فضا کو جنم دیتی ہے. سیاسی قیادت کو عوام سے رابطہ بحال رکھنا چاہیے. سیاسی قیادت کی مقبولیت ہی اس کی کامیابی کی ضامن ہوتی ہے. افواہ سازی کرنے والے عناصر نے اپنا کام کرتے رہنا ہے. حکومت وقت کو ان کو شکست فاش دینے کے لیے بہترین حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی. اس کے لیے انہیں شاہی سوچ کو ترک کرکے عوامی سوچ اختیار کرنی ہوگی. افواہ سازی ایک ایسا مہک ہتھیار ہے. جو کسی بھی حکومت کے لیے زہر قاتل کا کردار ادا کرتا ہے.






