#کالم

نقد و نظر

Untitled 13

(شاہد بخاری)
پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فنقسط:33 )


فنکار میں نقاد کہیں چھپا بیٹھا ہوتا ہے،فنکار اگر حسن وقبح کی شناخت نہ کر سکے اور جمالیاتی حس کا ادراک نہ کر پائے تو وہ فنکار ہو ہی نہیں سکتا، یا یوں کہہ لیجئے اس کا فن ثانوی حیثیت کا ہو گا ڈاکٹر اقبال نے اپنے شعری ذوق کے حوالے سے اپنی ہر تصنیف کے آغاز میں بڑی پتے کی باتیں کہی ہیں،اپنی سوانحی عمری میں تو انہوں نے اپنے شعری ارتقاء پر بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔تاہم سر دست ہم ان کی تنقیدی تصنیفات پر کسی قدر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔ پروفیسر ڈاکٹر شیخ اقبال کی تنقیدی تصنیفات میں، جان ڈن شخصیت اور شاعری، جان کیٹس شخصیت اور شاعری اور اقبال بحضور اقبال شامل ہیں۔
سولہویں صدی کے انگریزی شاعر جان ڈن اور انیسویں صدی کے رومانی شاعر جان کیٹس پر ان کی کتب خاصے کی چیز ہیں۔ اس طرح کی کاوشیں ہمار ے علم و تحقیق کے مطابق برِ صغیر میں اردو زبان میں پہلی بار تحریر ہوئیں۔ چونکہ ڈاکٹر صاحب ایم اے انگلش اور ایم اے اردو ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ ان کو دونوں زبانوں کے ادب سے گہری محبت اوردل بستگی ہے تنقیدی سطح پر اور تخلیقی سطح پر بھی۔علامہ اقبال توخیر ان کا ایم فل اور پی ایچ ڈی کا موضوع ہے، اس پر تو ان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ ان کے ایم فل کا مقالہ بعنوان”انگریزی رومانی شعراء کا علامہ اقبال پر اثرات“ اورپی ایچ ڈی کا مقالہ”برطانوی شعراء کے اقبال پر اثرات“ ابھی طبع نہیں ہوئے لیکن راقم انھیں پڑھ چکا ھے،ان مقالوں میں ان کا تنقیدی اور تخلیقی شعور اپنے جوبن پر نظر آتا ہے۔
۱۔جون ڈن شخصیت اور شاعری:
صفحات: 72 ابواب: 5 اشاعت: 1993
پریس: گلستان پریس سرگودہا
انتساب: اپنی این مور کے نام
اس کتاب میں مندرجہ ذیل موضوعات پر ناقدانہ نظر ڈالی گئی ہے۔
۱۔ شخصیت ۲۔ عشقیہ شاعری ۳۔ مذہبی شاعری
۴۔ ڈن مابعد الطبیعاتی شاعر ۵۔ حرفِ آخر
ڈاکٹر اقبال اپنے حرفِ آغاز میں یوں رقم طراز ہیں:
”اگر زبان کی ظاہری رکاوٹیں حائل نہ ہوں تو ہومر، شیکسپیئر، مولیئر، دانتے، ٹالسٹائی، مولانا روم، امراء القیس، حافظ، سعدی، اقبال اور غالب پورے عالم کا مشترک ورثہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ادب کا طالب علم ہر بڑے شاعر اور ادیب کو اپنے قلب و روح کا ترجمان سمجھتا ہے اور ہر بڑا شاعر اور ادیب آفاقی اقدار کاعلمبر دار ہوتاہے۔ چنانچہ اس امر کی کہیں زیادہ ضرورت ہے کہ مغربی نقاد مغربی قارئین پر اور مشرقی نقاد، مشرقی قارئین پر ایک دوسرے کے ادباء اور شعراء کی تفہیم کے در وا کریں چنانچہ ایک تو یہی جذبہ ہے جس نے مجھے عرصہ دراز سے یہ سوچنے پر مجبور کئے رکھا کہ اس کا کسی نہ کسی صورت میں آغاز کیا جائے لیکن کام چونکہ خاصا دشوار ہے اس لئے شعوری یا لاشعوری طور پر اس میں تاخیر ہوتی رہی بہر حال سولہویں صدی کے ممتاز شاعرجون ڈن کی شخصیت اور شاعری کو اردو قارئین سے متعارف کرانے کی حقیر کاوش سے آغاز کر رہاہوں“
جون ڈن طلباء کے لئے خاصہ مسئلہ رہا ہے لیکن پروفیسر اقبال کہتے ہیں کہ ان کے طلباء کو ڈن کی تفہیم میں کبھی کوئی دِقت محسوس نہیں ہوئی، ڈن جدید حسیت کا شاعر ہے اور وہ ایسے حقائق بھی بڑی شرح وبسط کے ساتھ شعر میں ڈھال دیتا ہے جن سے اس زمانے میں تو کیا اب بھی لوگ گفتگو کرنے سے ڈرتے ہیں۔اس نے محبت کو روحانی اور جسمانی دونوں پہلوؤں سے پیش کیا اور اس کے خیال میں جسم و روح دونوں محبت کے جزوِ لاینفک ہیں اس کا تلمیحاتی نظام بھی بڑا آزادانہ ہے۔ بعض ناقدین اسے مابعد الطبیعاتی گردانتے ہیں۔لیکن ڈاکٹر صاحب نے شاعر کی تخلیقات اور ناقدین کے حوالے سے ثابت کیا ہے کہ وہ مابعد الطبیعاتی شاعر نہیں بلکہ وہ تو زندگی اور فطرت کے دوسرے شعراء کے مقابلے میں بھی زیادہ قریب ہے۔ بہرحال ڈاکٹر صاحب کی یہ کاوش پڑھی جانی چاہیے تاکہ ڈن کی تفہیم آسان ہو سکے۔
انگریزی کے پروفیسر غلام سرور خان لکھتے ہیں:
”پروفیسر ڈاکٹر شیخ اقبال نے محض واقعاتی اور بیانیہ انداز نہیں اپنایا بلکہ اول سے آخر تک بالغ نظری گہری بصیرت وسعت قلبی اور تجربات کی بوقلمونی کا خوبصورت امتزاج پیش کیا ہے،جس سے قاری کو نہ صرف آگاہی ہوتی ہے بلکہ ایک نیا تجربہ بھی۔ انگریزی ادبی اصطلاحات کو جس آسانی اور روانی سے اردو کے قالب میں ڈھالا گیا ہے، وہ اُردو ادب پر بڑا احسان ہے میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ہاں ا سکی بہت کمی تھی ہم اکثر قریبی مفہوم باور کر پاتے ہیں اور صحت کی جانب کم ہی جا پاتے ہیں، امید ہے کہ انگلش کے طلبا اور قارئین اس سے فائدہ اٹھائیں گے“
۲۔جون کیٹس شخصیت اور شاعری
صفحات: 120 اشاعت: 2001 ثنائی پریس سرگودہا
انتساب: استادِ محترم پروفیسر سعید الحسن رضوی کے نام جن سے میں نے کیٹس اور کیٹس کے ساتھ ساتھ زندگی کے مختلف پہلوؤں کا مطالعہ کیا ان کی شخصیت اور محبت نے مجھے باور کرایاکہ
”ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں“
یہ کتاب چھ ابواب پر مشتمل ہے
۱۔ تعارف ۲۔ نفس ذات کی صلاحیت اور کیٹس
۲۔ کیٹس کا تصورِ حسن ۴۔ کیٹس کا تصور شعر گوئی
۵۔لافانی اوڈز ۶۔ ہائپر ین
۷۔ لیمیا ۸۔ مکاتیبِ کیٹس
مصنف اس کتاب کے حوالے سے کچھ یوں لکھتے ہیں:
”مجھے یہ تو یاد نہیں کہ مجھے سچ مچ یہ خیال کب آیا کہ کیٹس پر کچھ قدرے تفصیل سے لکھوں لیکن یہ ضرور یاد ہے کہ انیسویں صدی کے ربع اول کے شعراء میں کیٹس اور شیلی مجھے بہت متاثر کرتے ہیں پھر ان کا اظہارِ بیان،ان کے تجربات اور والہانہ پن کیٹس کی شاعری میں ایک جادو ہے،جادو کے آثار کیا ہیں اس کا ذکر میں نے اپنی تصنیف میں بالتفصیل بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔کیٹس کو مختلف زاویوں سے سمجھے کی کوشش مجھے بہت اچھی لگی۔۔۔۔۔۔۔ کیٹس پر بلکہ کسی بھی انگریزی شاعر پر زبان اردو میں بہت کم لکھا گیا ہے،اس لئے میری خواہش رہی ہے کہ میں انگریزی شعراء سے

نقد و نظر

26/06/2026 Daily Sarzameen Lahore

نقد و نظر

افواہ سازی

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے