کالم: جنیوا کا منظر نامہ: عالمی بساط اور پاکستان کا سفارتی کردار
تحریر: احسان ناز
موجودہ عالمی منظر نامہ جس تیزی سے اپنی جہتیں بدل رہا ہے، اس نے بین الاقوامی سیاست کے طالب علموں اور تجزیہ کاروں کو ایک سحر انگیز تجسس میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بلا شبہ، جنیوا ہمیشہ سے عالمی سفارت کاری کا ایک ایسا مرکز رہا ہے جہاں تاریخ کے دھارے بدلنے والے فیصلے ہوتے رہے ہیں۔ رواں جمعہ کو جنیوا میں سجنے والا سفارتی معرکہ بھی ایک ایسی ہی کڑی ہے، جس پر اس وقت دنیا بھر کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ ایران اور امریکہ کے مابین دہائیوں پر محیط تناؤ اور خطے کی بدلتی جیو پولیٹکس کے تناظر میں، اسلام آباد کا اس سفارتی تکون کا حصہ بننا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ یہ بیٹھک نہ صرف مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے مستقبل کی سمت متعین کر سکتی ہے، بلکہ اس سے عالمی طاقتوں کے توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
اگر تاریخی پس منظر کو دیکھا جائے تو پاک-امریکہ تعلقات ہمیشہ سے ایک نازک توازن کے مرہونِ منت رہے ہیں، جہاں اچھے اور برے وقتوں کا ایک طویل سلسلہ موجود ہے۔ دوسری جانب، ایران ہمارا ایک برادر اسلامی ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی رشتے استوار ہیں۔ ایسے میں جب عالمی سیاست میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان خلیج بڑھتی ہے، تو اس کے اثرات براہِ راست اسلام آباد پر بھی پڑتے ہیں۔ جنیوا میں ہونے والی یہ بیٹھک اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے کہ یہ محض روایتی مذاکرات نہیں، بلکہ علاقائی امن و استحکام اور معاشی بقا کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
اس پورے پس منظر میں جنیوا کے اس تاریخی ریکارڈ، جسے اب دنیا بھر میں ‘اسلام آباد ریکارڈ’ کے نام سے بھی یاد کیا جا رہا ہے، کی تشکیل کے پیچھے پاکستان کی اعلیٰ ترین قیادت کی شبانہ روز محنت، وژن اور حب الوطنی کا جذبہ کارفرما ہے۔ وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف کی متحرک انتظامی صلاحیتوں اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مضبوط، تزویراتی اور مدبرانہ قیادت نے دن رات ایک کر کے اس ناممکن کو ممکن بنایا ہے۔ ان دونوں رہنماؤں کی مشترکہ بصیرت اور انتھک کوششوں نے عالمی برادری کو یہ باور کرایا ہے کہ پاکستان خطے میں محض ایک خاموش تماشائی نہیں، بلکہ امن کا سب سے بڑا علمبردار ہے۔ ان کی اس مخلصانہ جدوجہد نے پاکستان کے بین الاقوامی وقار کو چار چاند لگا دیے ہیں اور ثابت کر دیا ہے کہ جب سول اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہو تو ملک کے دفاع اور سفارت کاری کو ناقابلِ تسخیر بنایا جا سکتا ہے۔
یہ بات بھی تاریخ کے سنہری حروف میں لکھی جائے گی کہ اس سفارتی کامیابی کو حاصل کرنے کے لیے پسِ پردہ کس قدر غیر معمولی تگ و دو کی گئی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سٹریٹجک رہنمائی کے تحت وفاقی وزیر محسن نقوی نے جس شاندار اور جاندار ‘شٹل ڈپلومیسی’ کا مظاہرہ کیا، وہ عصرِ حاضر کی سفارت کاری کی ایک مایہ ناز مثال ہے۔ محسن نقوی نے تہران کے بار بار ہنگامی دورے کر کے، برف پگھلانے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے میں جو پل کا کردار ادا کیا، اسی کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا جنیوا میں اس اہم ترین بیٹھک کی گواہ بن رہی ہے۔ تہران اور اسلام آباد کے درمیان رابطوں کے اس تسلسل نے دونوں برادر ممالک کے تعلقات میں اعتماد کی نئی روح پھونکی ہے، جس کا سہرا بلاشبہ فیلڈ مارشل اور محسن نقوی کی انتھک تگ و دو کے سر جاتا ہے۔
اس جمعہ کو ہونے والی ملاقات میں جہاں ایران کے جوہری پروگرام اور معاشی پابندیوں جیسے پیچیدہ مسائل میز پر ہوں گے، وہاں علاقائی سلامتی، افغان صورتحال اور خاص طور پر تجارتی و توانائی کی راہداریوں کا موضوع بھی زیرِ بحث آنے کا قوی امکان ہے۔ پاکستان کے مفادات براہِ راست توانائی کے منصوبوں اور سی پیک (CPEC) جیسے عظیم الشان پراجیکٹس کی کامیابی سے جڑے ہیں۔ اگر جنیوا مذاکرات کے نتیجے میں ایران اور امریکہ کے مابین تناؤ کی شدت میں معمولی سی بھی کمی آتی ہے، تو اس کا سب سے بڑا فائدہ خطے میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور امن کی صورت میں پاکستان کو ملے گا۔
جنیوا میں جمعہ کا دن محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ سفارت کاری کی بساط پر ایک نئی چال کا آغاز ہے۔ ‘اسلام آباد ریکارڈ’ کے اس تاریخی تناظر میں پاکستان کو انتہائی احتیاط، بصیرت اور قومی مفادات کو اولیت دیتے ہوئے اس موقع سے فائدہ اٹھانا ہو گا۔ دنیا اس وقت ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے، اور اس نئے نظام میں وہی قومیں سرخرو ہوتی ہیں جو دباؤ کے ماحول میں بھی اپنے پتے دانشمندی سے کھیلتی ہیں۔ امید واثق ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرِ سرپرستی، پاکستان کی سفارتی قیادت جنیوا کی اس اہم بیٹھک میں ملک کے وقار اور علاقائی امن کے بیانیے کو بلند ترین سطح پر برقرار رکھنے میں سرخرو ہوگی۔






