#کالم

پاکستان کا وفاقی بجٹ 2026-27 ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے

new desing23432

قاسم فاروق
پاکستان کا وفاقی بجٹ 2026-27 ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب ملک کی معیشت کئی برسوں کے شدید دباؤ، مہنگائی، زرِ مبادلہ کے بحران اور مالی مشکلات سے بتدریج نکل کر استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں عوام اور کاروباری طبقے نے مشکل معاشی فیصلوں کے اثرات برداشت کیے، لیکن اب حکومت کی کوشش ہے کہ اس استحکام کو ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی ریلیف میں تبدیل کیا جائے۔ اس بجٹ میں کئی ایسے اقدامات شامل کیے گئے ہیں جو نہ صرف معیشت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ عام آدمی، صنعت، زراعت، نوجوانوں اور کاروباری شعبے کے لیے بھی مثبت امکانات پیدا کرتے ہیں۔

ملکی معیشت کی ترقی کا پہیہ صنعتوں کی مضبوطی سے جڑا ہوتا ہے اور اس بجٹ میں صنعتی شعبے بالخصوص برآمدات بڑھانے والے اداروں کو جو مراعات دی گئی ہیں وہ ملکی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ماضی میں ہمارے تاجروں اور صنعت کاروں کو سب سے بڑا گلہ یہ رہتا تھا کہ انہیں کاروبار چلانے اور سرمایہ کاری کے لیے بینکوں سے بہت مہنگے داموں قرض ملتا ہے جس کی وجہ سے وہ عالمی منڈی میں دیگر ممالک کا مقابلہ نہیں کر پاتے۔ حکومت نے اس دیرینہ درد کا مداوا کرتے ہوئے ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کی شرح سود کو انیس فیصد سے یکدم کم کر کے صرف ساڑھے چار فیصد کر دیا ہے۔ یہ ایک ایسا انقلابی قدم ہے جو مردہ ہوتی ہوئی صنعتوں میں نئی جان پھونک دے گا۔ جب کارخانہ دار کو اتنے سستے قرض ملیں گے تو وہ اپنے یونٹ بند کرنے کے بجائے ان کو وسعت دے گا جس سے نہ صرف پیداوار بڑھے گی بلکہ ملک میں لاکھوں کی تعداد میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جو ہمارے نوجوانوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔

صرف یہی نہیں بلکہ برآمدات پر لگنے والے مجموعی ٹیکس کو دو فیصد سے گھٹا کر ایک اعشاریہ پچیس فیصد کر دیا گیا ہے اور ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج کو تو سرے سے ہی ختم کر دیا گیا ہے۔ ان اقدامات کا سیدھا فائدہ پاکستان کی ٹیکسٹائل اور دیگر مینوفیکچرنگ صنعتوں کو پہنچے گا۔ جب کارخانوں کو خام مال اور نئی مشینری کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی سے استثنا ملے گا تو ہماری بنی ہوئی اشیاء عالمی منڈیوں میں سستی اور معیاری ہو کر بکیں گی جس سے ملک میں ڈالر آئیں گے اور تجارتی خسارہ کم ہوگا۔ صنعتوں کے لیے ساڑھے سات ہزار سے زائد ٹیرف لائنز میں کمی کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت ملک میں کارخانے لگانے اور تاجر برادری کو سہولت دینے کے لیے سنجیدہ ہے۔ جب مقامی صنعت ترقی کرے گی تو اس کا براہ راست اثر عام مزدور کی مزدوری پر پڑے گا اور مارکیٹ میں پیسے کی گردش بڑھنے سے ہر چھوٹے بڑے کاروبار کو فائدہ ہوگا۔

ملازمت پیشہ اور متوسط طبقے کے لیے بھی یہ بجٹ خوشی کی بڑی نوید لے کر آیا ہے۔ طویل عرصے کے بعد انکم ٹیکس کے سلیبز کو اس طرح سے ترتیب دیا گیا ہے کہ مڈل کلاس پر ٹیکس کا بوجھ نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر لگنے والے نو فیصد اضافی سرچارج کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جبکہ مختلف آمدن کے حساب سے ٹیکس کی شرح میں واضح کمی کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر جو لوگ سالانہ بائیس سے بتیس لاکھ روپے کماتے تھے ان کا ٹیکس تئیس فیصد سے کم کر کے بیس فیصد کر دیا گیا ہے اور اسی طرح دیگر سلیبز میں بھی ریلیف دیا گیا ہے۔ ٹیکس میں یہ کمی براہ راست ایک ملازم کی ماہانہ بچت میں اضافے کی شکل میں سامنے آئے گی جس سے وہ اپنے بچوں کی تعلیم اور گھر کے دیگر اخراجات زیادہ اچھے طریقے سے پورے کر سکے گا۔ بینکنگ چینلز کو فروغ دینے اور عام لوگوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے بین الاقوامی لین دین پر ٹیکس کو پانچ فیصد سے کم کر کے صرف آدھا فیصد یعنی صفر اعشاریہ پانچ فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس سے ملکی بینکاری نظام پر عوام کا اعتماد بڑھے گا اور لوگ قانونی راستوں سے لین دین کو ترجیح دیں گے۔

پاکستان کی ترقی کے سفر میں آئی ٹی اور فری لانسنگ کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ہمارے لاکھوں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گھر بیٹھے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ملک کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ کما رہے ہیں۔ حکومت نے اس نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی کے لیے آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کے برآمد کنندگان کے لیے نافذ العمل صفر اعشاریہ پچیس فیصد کا رعایتی ٹیکس نظام اگلی تین سالوں یعنی سن دو ہزار تیس تک برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اس پالیسی کے تسلسل سے ملکی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو یہ یقین دہانی ملے گی کہ پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر کے لیے ماحول سازگار ہے۔ اس سے نہ صرف نئے اسٹارٹ اپس کو فروغ ملے گا بلکہ سافٹ ویئر ہاؤسز بڑے پیمانے پر نئی ملازمتیں پیدا کریں گے اور ملک کا ہر وہ نوجوان جو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سمجھ بوجھ رکھتا ہے وہ خود کفیل ہو سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے قومی نظام کے لیے ایک ارب ڈالر کا فلیگ شپ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے جو پاکستان کو جدید دنیا کی صف اول میں لا کھڑا کرے گا۔

کاروبار کو آسان بنانے اور چھوٹے دکانداروں کو ٹیکس کے پیچیدہ نظام اور محکموں کی مبینہ ہراسگی سے بچانے کے لیے بھی بجٹ میں ایک انتہائی سہل اور دوستانہ حل پیش کیا گیا ہے۔ اب وہ تمام چھوٹے خوردہ فروش اور دکاندار جن کی سالانہ فروخت بیس کروڑ روپے یا اس سے کم ہے وہ ایک فیصد فکسڈ ٹیکس نظام کے تحت اپنی سیلز کا ٹیکس ادا کر کے سکون سے اپنا کاروبار کر سکتے ہیں۔ اس اقدام سے تاجروں کا خوف ختم ہوگا، وہ خوشی سے ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں گے اور ملک کی معیشت دستاویزی شکل اختیار کرے

پاکستان کا وفاقی بجٹ 2026-27 ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے

18/06/2026 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے