#کالم

آ نکھ جو کچھ دیکھتی ہے خواب کی تتلی از عطیہ سید۔

Untitled 13

(شاہد بخاری)

فرانسیسی امدادی کارکنوں کے مطابق غزہ میں ایک اجتماعی قبر سے 300 لاشیں ملیں، جن میں چھوٹے بچے بھی شامل تھے جن کے ہاتھ پیچھے باندھ کربعد از تشدد قتل کیا گیا تھا۔یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ خواب تھے، معصوم جانیں تھیں جنہیں بے دردی سے چھین لیا گیا
ایسی متعدد posts پڑھ لینے کے بعد مسلم حکمرانوں کی بے حسی پر کڑھ لینے کے سواجب کچھ نہیں کرسکتے تو یہی کہہ سکتے ھیں کہ یا اللہ! اھل غزہ و دیگر مظلومین کی جلد مدد کر کیوں علمائے کرام تو یہ ھی بتلا نے میں مصروف ھیں کہ سنت ابرا ھیمی پر عمل کر کے قربا
نی کرنے کا کتنا ثواب ھے۔
انسانوں کے بچانے کا کتنا ثواب ھے؟اس پروہ بھی خاموش ھیں۔
لیکن محسن اردو ڈاکٹر سید عبداللہ سابق پرنسپل اورئینٹل کالج کی علیل بیٹی ڈاکٹر عطیہ سید ریٹائرڈ شعبہ فلاسفی،لا ھور کالج یونیورسٹی نے عالم بے چینی میں "خواب کی تتلی”لکھ کر احمد ندیم قاسمی ،ڈاکٹر آغا سھیل رشید امجد اور ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا کی آرا ء کو سچا ثابت کر دیاکہ عطیہ سید نے”فی الواقع
راجندر سنگھ بیدی،اور کرشن چندر کی روایت کو زندہ رکھا ھے۔۔۔انھوں نےکہانی کو بھی زندہ رکھا اور روایت کو بھی”۔ "کرشن چندر نے افسانے کی تکنیک میں وہ نقطہ دریافت کر لیا
تھا،جس پر منٹو افسانے کا ڈھانچہ قائم کرتا ھے۔۔یہی فنکاری عطیہ سید کا سرمایہ ھے”۔ ۔۔۔”آپ ان فکشن نگاروں میں سے ھیں جن کا ایک ایک جملہ گہری معنویت رکھتا ھے”۔۔”عطیہ
سید کے فکشن میں متعدد خصوصیات پڑھنے والے کی جاذب توجہ ھیں۔واقعات،
فضابندی،اور کردار نگاری کے علاوہ افراد کی داخلی نفسیاتی کشا کش کو بڑی کامیابی سے پیش کیاگیا ہے۔
۔۔۔ان کی تخلیقیت کی سطحیں ھمارے وژن کو بھی وسیع کرتی ھیں۔۔۔”
درد مند ڈاکٹر عطیہ کے ناول کا حاصل مطالعہ یہ ھے کہ یکم.اکتوبر 2023ء کو آسٹریلیا کی نیوز ایجنسی کا نمایندہ رابرٹ فراسٹ اسرائیل کے دار الحکومت تل ابیب پہنچا ۔۔۔
مختلف اھم لوگوں سے ملنا اس کے ٹی۔وی پروگرامز اورڈاکیومنٹری فلمز کے لیے لازمی تھا۔5.اکتوبر کو غزہ جو 25سکوئیر میل لمبا اور 5سکوائر میل چوڑا ھے میں جا نے سے پیشتر اس سے کیمرہ وغیرہ لے لیا گیا،تاکہ وھاں کے ڈرے، سہمےلوگوں کی حالت زار فلمبند نہ ھو سکے،جنھیں اپنے سمندر پر جانے کی بھی اجازت نہیں ھے۔ اسرائیلی جیلوں میں ظلم سہتے سہتے بے گناہ مفروروں پر تشدد کے واقعات سن سن کر وہ سن ھوگیا۔
حضرت ابراھیم کے بیٹے حضرت اسحاق کی اولاد بنی اسرائیل کہلاتی ھے۔پرو پیگنڈے کی ستم ظریفی دیکھئے کہ حضرت اسحاق کے بڑے بھائی حضرت اسماعیل کی اولادوں کو "عمالیک” یعنی دشمن کہا جاتا ھے،جو برسوں سے فلسطین میں رھتے ھیں اور ان کا جینا 1948 کے آباد کار صیہونی یہودیوں نے دو بھر کر رکھا ھے تاکہ وھاں کی معدنی دولت امریکہ میں پہنچتی رھے۔
5.اکتوبرکو رابرٹ نے BBCسے سنا کہ عمالیک نے اسرائیل پر حملہ کر کے،
کچھ کو ریپ کیا،کئی سو شہری مار ڈالے،اور کچھ لوگوں کو اٹھا کر لے گئے ھیں۔جس کے جواب میں محصورین غزہ پر زبردست بمباری کی گئی ۔ھسپتال میں بمباری سے رابرٹ بھی زخمی ھوا۔
وھیں زخمی بیٹا، باپ کو تسلی دیتا ھے کہ” آ پ نہ روئیں۔۔میں جلد ٹھیک ھو جاؤں گا ۔۔آخری نبی محمد اب آتے تو کتنا اچھا ھوتا”
(صفحہ 77) اگلی بمباری میں وہ دو نوں بھی شھید ھو گئے۔رابرٹ نےڈائری میں لکھ لیا لاشوں کے ساتھ بے ھوشوں پر بھی پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔
6 اکتوبر کو غزہ پر دوبارہ حملہ ٹینکوں سے ھوا۔اسرائیلیوں نے غزہ کی بجلی،پانی،اور انٹر نیٹ بند کر دیا تاکہ ان کے مظالم اور
جنگی جرائم سے دنیا کو بے خبر رکھا جا ئے۔شدید بم باری کے بعد 4سالہ بچہ پکار رھا تھا "کہاں ھیں سب عرب؟ کہاں ھیں سب انسان؟کہاں ھیں سب مسلمان ؟اے خدائے مطلق!
تو کہاں ھے؟پرندوں کا لشکر کیوں نھیں بھیجتا؟؟
ناول کے صفحہ 112 پر لکھا ھے ۔۔۔معصوم بچوں کو اس بری طرح سے مارتے
پیٹتے ھیں کہ ان کی کمر، کلائیوں اور پاؤں کی ھڈ یوں کو توڑ ڈالتے ھیں۔پھر والدین کو زدو کوب کرتے ھیں،ان کی کمسن بچیوں کو گھسیٹ کر لے جاتے ہیں، (اللہ سمیع البصیر انپررحم کر) جاتے ھوئے،دیواروں پر
وہ ظالم لکھ جاتے ھیں، "خنزیرو،یہاں سے
دفع ھو جاؤ "
سنا تھا تاریخ بے رحم ھوتی ھے لیکن اب معلوم ھوا کہ Zionists تاریخ سے بھی زیادہ بے رحم ھیں۔ انہوں نے ھیوی بومبنگ کر کر کے گھروں ،مارکیٹوں کو کھنڈرات بنا دئیے ھیں تاکہ سرنگیں بند ھو جائیں اور وہ مظلوم ان کے ذریعے اسرائیل میں داخل ہوکر انتقام لینے کے قابل نہ رھیں۔
اس چشم کشا ناول کے صفحہ 90 پر ھے کہ 5.اکتو
بر کے یر غمالیوں کے بدلے برسوں سے بے گناہ رھا ھونے والوں میں سے ایک دس برس کے بچے کی کلائیوں اور پیٹھ پیچھے لگے زخم ماں کے بوسوں سے کہاں مندمل ھوتے تھے؟
اور نہ اس کے ذہن پر لگے زخم اور اور داغوں کو دھو سکتے تھے۔
ایک لاغر بوڑھے نے شکایت کی کہ اسے بلا وجہ زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا جانوروں کو دیا جانے والا چارہ،ایک وقت اسے ملتا تھا۔باقی سارا وقت مار پیٹ اور تضحیک اسرائیل یوں کا وطیرہ تھا،جس کا ھر قیدی شکار رھا۔۔۔اپنے سب یر غمالی وصول کر لینے کے بعد آخری دن ، رات گئے تک فلسطینی قیدی رھا نھیں کئیے گئے ۔اسرائیل نے
وعدہ توڑ دیا ۔ ۔۔ع۔۔
ھمیں ضعیف سمجھ کے غرور کرتے ھیں
ڈرونز چیلوں کی طرح اڑ رھے تھے۔رابرٹ بال بال بچا۔بھاگ کر خان یونس کی سرنگ میں جا گھسا جو بم دھماکوں سے لرزتی رھی، اس پر مٹی گرتی رھی۔
اس دلدوز ناول کے صفحہ 117 پر”ابلیس کی خود کلامی سے کئی رازوں کا افشا ء ھو نا ھنر مندی سے ڈاکٹر عطیہ نے یوں بیان کیا ھے”حماس کی فلا حی انجمن کو” القسام بریگیڈ "میں،میں نے ھی تبدیل کیا، جس کے باعث غزہ بتدریج تباہ ھو رھاھے،گھروں کے کھنڈر بن رھے ھیں ۔جو یر غمالی واپس نھیں ھوئے انھیں جلد سب ھی بھول جائیں گے۔۔۔۔دنیا کی سب سے بڑی سازش

آ نکھ جو کچھ دیکھتی ہے خواب کی تتلی از عطیہ سید۔

‎عام آدمی کا مقدمہ

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے