امن معاہدہ اور پاکستان کےسیاسی، سفارتی، سکیورٹی اور معاشی معاملات
اداریہ
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ آج کا دن نہ صرف پاکستان میں بسنے والوں بلکہ دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانیوں کے لیے باعثِ افتخار ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے نتیجے میں آنے والے عالمی معاشی استحکام کے ثمرات ہر پاکستانی کو پہنچائے گی
امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے اعلان کا جہاں عالمی سطح پر خیر مقدم کیا جا رہا ہے تو وہیں ایک بار پھر اِن دونوں ممالک کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کی بھی ستائش کی جا رہی ہے۔پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں امن معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب کی میزبانی بھی پاکستان ہی کرے گا۔شہباز شریف کی جانب سے امن معاہدہ طے پا جانے کا بیان سامنے آنے کے بعد برطانیہ، چین، آسٹریلیا، ترکی، قطر، سعودی عرب، کینیڈا، اٹلی، نیدر لینڈز، ملائیشیا اور کویت کے وزرائے اعظم اور صدرو نے پاکستان کا نام لیتے ہوئے ثالثی کی کوششوں میں سرگرم دیگر ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے جاری بیان میں بھی پاکستان کے کردار کی تعریف کی گئی۔
واضح رہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب وزیرِ اعظم نے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جانے کا اعلان کیا تھا۔اُن کا کہنا تھا کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا اور فریقوں نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل طور پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔امریکی صدر اور سیکرٹری خارجہ ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کو ہی مرکزی ثالث قرار دیتے رہے ہیں اور مختلف مواقع پر پاکستانی رہنماؤں کی تعریف بھی کرتے رہے ہیں جبکہ پاکستان کے کردار کو سراہا گیا.مارچ کے مہینے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا تھا کہ ’پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر میں دو ہفتوں کے لیے ایران پر بمباری اور حملوں کو معطل کر رہا ہوں۔اس کے بعد پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی ایکس پر امریکی صدر اور ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُنھیں اسلام آباد میں مذاکرات کی دعوت دی۔
یہی وہ وقت تھا، جب پاکستان سفارتی سطح پر ایک اہم ملک کے طور پر سامنے آیا اور پھر اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی کو پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا۔مگر اس سب کے بیچ یہ سوالات بھی پوچھے جا رہے ہیں کہ کیا عالمی سفارتی منظر نامے میں اُبھر کر سامنے آنے والا پاکستان اس امن معاہدے کے بعد اپنی یہ پوزیشن برقرار رکھ سکے گا؟ کیا پاکستان عالمی معاشی اور سفارتی فیصلہ سازی میں اپنی جگہ مضبوط بنا چکا اور کیا پاکستان کی حالیہ عرصے میں عالمی سطح پر بہتر ہوتی ساکھ ملک کے لیے مختصر مدتی اور طویل مدتی معاشی اور سفارتی فوائد بھی حاصل کر پاِئے گا۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا امریکہ، ایران معاہدے کے حوالے سے کہنا تھا کہ ’آج کا دن نہ صرف پاکستان میں بسنے والوں بلکہ دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانیوں کے لیے باعثِ افتخار ہے۔‘
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے نتیجے میں آنے والے عالمی معاشی استحکام کے ثمرات ہر پاکستانی کو پہنچائے گی۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران کئی مواقع ایسے آئے جب لگا کہ ابھی معاملہ ختم ہو جائے گا ’مگر فیلڈ مارشل نے ہمت نہیں ہاری جس کے نتیجے میں کل رات ہونے والا اعلان ممکن ہوا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ عرصے میں پاکستان کو جو سفارتی رسائی ملی اسے سراہا جارہا ہے پاکستان کی اس سفارتی رسائی کی وجہ ٹرمپ انتظامیہ کا اعتماد اور ایران کا بھروسہ تھا۔ پاکستان کو یہ فائدہ بھی ہوا کہ وہ خطے کے دیگر ممالک کے برعکس اس تنازع میں فریق نہیں تھا جبکہ خطے کے دیگر ممالک کسی نہ کسی طور پر اس تنازع میں فریق تھے۔ اس عرصے کے دوران پاکستان کی جو پوزیشن تھی، اس وجہ سے اس کے لیے ممکن ہو سکتا تھا کہ وہ اس معاملے میں ایک ثالث کا کردار ادا کرے۔اصل معاملہ جوہری مذاکرات کابھی ہے ۔آج کی دُنیا میں کوئی بھی ملک مستقل پیس میکر نہیں ہو سکتا، ہاں یہ ضرور ہوتا ہے کہ مخصوص حالات میں ایک ملک اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے، جیسا کے اس صورتحال میں پاکستان ہے۔امریکہ اور ایران پاکستان کی ثالثی میں جس چیز پر متفق ہوئے ہیں، وہ ایک فریم ورک ہے جس پر اگلے 60 روز میں مزید بات چیت ہو گی، گذشتہ ایک سال کے دوران بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ میں نمایاں بہتری آئی اور اس کے فوری نتائج زیادہ تر سیاسی، سفارتی، سکیورٹی اور معاشی نوعیت کے ہوں گے۔






